القانون
طب اسلامی کا انسائیکوپیڈیا . جلد اول شیخ الرئیس ابن سینا
ابو علی حسین بن عبداللہ بن حسسن این علی بن سینا۔ ایک معروف و مشہور شخصیت ہیں۔ ان کے حالات زندگی اور سیرت و سوانح پر اس قدر لکا جاچکا ہے کہ مزید بیان کی ضرورت نہیں ہےاس لیے کہ اپنی زندگی کے بارے میں خود انہوں نے اور ان کے شاگرد ابو عبید جو زجانی نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے اس پیش کردینے پر اکتفا کریں گے۔
شیخ الرئیس نے اپنے جو حالات زندگی بیان فرمائے ہیں اور انن کی روائت ابو عبیدہ جوجانی نے کی ہے وہ حسب ذیل ہیں شیخ فرماتے ہیں؛
میرے والد بلخ کے رہنے والے تھے۔ نوح بن منصور کے عہد میں وہ بخارا منتقل ہوگئے جہاں وہ ملکی امور کی انجام دہی پر مامور ہوئے۔ بخارا کی جائیداد میں ایک علاقہ خرمیشن نامی ہے۔ مرکزی بستیوں میں شمار ہوتا ہے، جس کے قریب میں افشنہ نامی بستی واقع ہے، والد کو نوح کے زمانے حکومت میں اس بستی پر مامور کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے میری والدہ سی شادی کی یہیں میری ولادت ہوئی میرے بعد میرے بھائی کی ولادت ہوئی۔ اس کے بعد ہم بخارا آگئے یہاں مجھے قرآن و ادب کے اساتذہ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ چنانچہ دس سال کی عمر میں، میں نے حیرت انگیر طور پر قرآن اور زبان وادب کا بشتر علم حاصل کرلیا والد نے مصری داعیوں کی تحریک پر لبیک کہا اور ان کا شمار اسماعیلیوں میں ہونے لگا ان سے انہوں نے نفس اور عقل پر وہ باےیں سنیں جن پر ان کا عقیدہ تھا۔ بھائی بھی والد کے نقش قدم پرتھا یہ لوگ باہم مذاکرہ کرتے تھے میں سنا کرتا تھا ان کی گبتگو سمھتا تو تھا مگر دل قبول نہ کرتا تھا۔ انہوں نے مجھے بھی دعوت دینی شروع کی۔ ان کی زبانوں پر فلسفہ، ہندسہ اور ہندوستانی حساب کا تذکرہ بار بار آتا تھا والد نے مجھے ایک ایسے شخصی کی جانب متوجہ کیا جو سبزیاں بیچتا تھا۔