مصنف
پیغام
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
تاریخ اردو تاریخِ اردو
اردو کی کہانی ۔ تفسیر کی زبانی
پروفیسرسیدتفسیراحمد
مورپارک کالج، لاس انجیلس، کیلیفورنیا
مرسلہ: پير ستمبر 15, 2008 1:54 am
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
تاریخِ اُردو
اردو کی کہانی تفسیر کی زبانی
جڑ کی تلاش میں
انسانی تاریخ کے مطالحہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایسی کوئی لکھی ہوئی دستاویز موجود نہیں ہے جس کی بناء پر یہ کہاجاسکےکہ زبان کی ابتدا کب، کہاں اور کیسے ہوئی۔ جو قدیم لکھی ہو ئی دستاویزیں موجود ہیں وہ ہمیں ایک مقام پرلا کرہمارا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں ۔ وہاں سے ماضی میں سفر کرنا، ہماری ذمداری بن جاتا ہے۔ ایسا سفر لمبا اور دشوارہے، راستے انجانے ہیں اور جگہ جگہ کھائیاں موجود ہیں ۔ ماہرلسانیات اور انسانیت دان اس سفر میں ہمارے راہبر ہیںِ وہ تمام موجودہ زبانوں کا مطالحہ کرتے ہیں اور ان میں یکجائ اور یکسانیت کو تلاش کرتے ہیں۔ تاکہ ان زبانوں کی گروہ بندی کی جائے۔ اُن کاخیال ہے کہ تمام زبانیں، تھوڑی زبانوں سے بن کر پھیلی ہیں۔
اگر مسافرکے ساتھ کچھ ہمسفر ہوں تو سفر خوشگوار گزرتا ہے ۔
چلئے آپ زبان کی جڑ کی تلاش میں میرے ہمسفر بن جائیں۔
اسطوری
ہمیں یہ امتیاز حاصل ہے کہ ہم اپنا سفر کہیں سےشروع کر سکتے ہیں۔ اسلے ہم قدیم زمانے سے موجودہ زمانے کیطرف چلیں گے ۔ لیجئے ہمارا سفر شروع ہوتا ہے۔ ہم تاریخ میں حضرت عیسیٰ سے ایک میلین پہلے کی دینا میں پہنچتے ہیں -
حصرت آدم جنت کےتمام جانوروں اور پھلوں کو نام دے رہے ہیں۔ یاد رکھئے ہمارا مقصد وقت کا سفر کرنا ہے۔ ہم حصرت آدم سے سوال نہیں کرسکتے کیونکہ اگر ہم سوال کریں تو ہم تاریخ کو بدل دیں گے اور ہمارا مقصد تاریخ بدلنا نہیں بلکہ اس کا مطالحہ ہے۔ تورت میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نےحصرت آدم کو جنت کے تمام جانوروں اور پھلوں کو نام دینے کا حکم دیا ہے۔
اب یونانی تہذیب کا زمانہ ہے۔ مختلف ماہرِعلم الاصنام کاخیال ہے کہ انسان نےنہیں بلکہ دیوتاؤں یا ایک بیرونی قوت نے بولیوں کی شروعات کی ذمہ دار ہے۔
تخیقاتی
کانسی کا زمانہ ہے اور ہم 800 - 1200 ب سی میں ہیں ۔ سمندر کے ڈاکو سمندروں کے قریب کی آبادی پر حملے کررہے ہیںِ۔ یہ سمندر بلغاریا ، یونان اور ترکی کےسیاہ سمندر، ایجین اور مارمارا ہیں جن کو ہم ترکی زبان میں رومیلی اور انگریزی میں تھریس کہتے ہیں۔ ہم اپنے راہر سے سوال کرتے ہیں۔ “ یہ لوگ کس زبان میں بات کر رہے ہیں۔“ اس زبان کا نام“ فریجین“ یعنی سمندر کے لوگوں کی زبان ۔ لیکن ہمارے راہبر کے پاس ایسا کوئ ثبوت نہیں ہے کہ یہ واقعی فریجین زبان ہے ۔ فریجین ایک قیاسی زبان ہے - ماہر لسیانات، لسانی علم کی بناء یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ سمندری ڈاکو فریجین زبان بولتے تھے۔
اب ہم تیزی سے واپس لوٹ رہے ہیں 4 ب سی مصر پر فرعون پسامٹیک کی حکومت ہے۔
سنئے وہ کیا کہہ رہا ہے۔“ میں حکم دیتا ہوں کہ دو بچےجو ابھی ابھی پیدا ہوئے ہوں ان کی پروریش گونگے، بہرے ماں اور پاپ سے کروائی جائے اور وہ جب بولنے کی عمر کو پہنچیں تو ان کو میرے سامنے لایا جائے۔“
شاید فرعون پسامٹیک جاننا چاھتا ہے کہ سب سے پہلی زبان کون سی تھی؟۔
ہم یہاں وقفہ لیں گے۔۔۔
راہبر ہمیں چائے پیش کرتا ہے۔
دوسال کے بعد جب وہ بچے فرعون کے سامنے لائے گے تو ان میں سے ایک بچہ نے کچھ کہا۔
فرعون پسامٹیک اس کو یوں سننا “ بیکوس“۔ ایک پرانی زبان میں جسکے معنی “ روٹی“ کے ہیں ۔
فرعون پسامٹیک چلایا۔ انسانوں کی سب سے پہلی زبان “ بیکوس“ ہے۔
پمیں تاریخ کے مطلحہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پُرشیا کے باشادہ اور مغل بادشاہ اکبرِ اعظم نے بھی اس قسم کے تجربات کئے ہیں۔
آپ سو تو نہیں گے۔ اس سفر میں میرے ہم شریک ہیں ناں ۔ ۔ ۔ ۔
مرسلہ: پير ستمبر 15, 2008 1:56 am
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
تاریخِ اُردو
اردو کی کہانی تفسیر کی زبانی
میں اب پاکستانی ہوں - میں تو پاک پتن پنجاب میں پیدا ہوئ تھی
َ
یہ سمجھا جاتا ہے کہ اردو 17 صدی کے آخیر، شاہ جہاں (1628 - 1658) کے زمانے میں پیدا ہوئی - اس خیال کی شُہرت کے ذمدار مولانا حسن آزاد ، سر سید احمد خان اور میر اماں دھلوی ہیں۔ ہمارے راہب کا کہنا ہے کہ موجودہ دور کےتفتیش کرنے والوں کو اختلاف ہے۔
دنیا کی دوسری زبانوں کی طرح اردو بھی شاعری سے شروع ہوی - اگر ہماری تحقیقات سے یہ پتہ چل جائے کہ اردو کا سب سے پہلا شاعر کون تھاِ؟ تو ہم یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ اردو کی ابتدا کب ہوئی؟
آبِ حیات میں مولانا محمدحسن لکھتے ہیں“
ولی دکھنی اردو کی شاعری کے باواے آدم ہیں“۔
ولی دکھنی کا دور( 1644- 1707 ) ہے - دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ قلی قطب شاہ (1610 - 1565) گولکنڈا اردو کا پہلا شاعر تھا۔
موجودہ دور کےتفتیش کرنے والے اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اردو کا پہلا شاعر باوریں صدی کا خواجہ مسعود سیلمان ہے -
مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہےکہ خواجہ کا کلام وقت کے ساتھ کھوگیا۔ ہمیں یہ پتہ ہے کہ غورتہُ الکمال کےشروعات میں امیر خسرو (1325-1253) ، خواجہ کے اردو ، فارسی اور ترکی دیوان کا ذکر کرتے ہیں -
محمود غزنوی اور اس سے پہلے حکمران ( 1030 - 979 ) کا دارلحکومت لاہور تھا جہاں خواجہ مسعود سعد سلمان پیدا ہوئے - اُس زمانے میں فارسی بولنے والے مسلمان اس علاقے میں آئے اور اس زمانے میں ایشیا اور فارسی کا ملاپ ہوا ہوگا فوج میں مقامی اور ہجرت کرنے والے لوگ دونوں ہی موجود تھے۔ بہت سے تبلیغ کرنے والےاور صوفی ، جیسے حضرت ھجویری جنہیں داتا گنج بخش بھی کہتے ہیں اور شاہ یوسف ( انتقال - 550 ) مقامی لوگوں کو مسلمان بنا رہے تھے ۔ باہر سے آئے ہوے مسلمانوں اور نئے بنائے ہوئے مسلمانوں میں شادیاں ہوئیں۔ اس قسم کی ملاوٹ میں ایک مشتمل زبان کی ضرورت ہوی ہوگی۔
یہ بھی سمجھا جاتا ہےکہ سلطان کو بھی مقامی زبان سے وقفیت تھی کیونکہ اسکی بادشاہی مہر میں ایک طرف سنسکریت اور دوسری طرف عربی ہے۔
بعض ہندو شعراء نے سنسکریت میں سلطان غزنوی کی قصیداس بھی لکھیں ہیں۔
اس بات پرپروفیسرحافظ محمود شیرانی اپنی تاریخی کتاب “ پنجاب میں اردو“ میں زور دیتے ہیں کہ زبانوں کے ملاپ نے ایک پروٹو زبان کو جنم دیا ہوگا۔ جب سلطان قُطب الدین ایبک (1210-1150) نے 1193 میں دارلحکومت کو لاہور سے دہلی منتقل کیا تو ہزاروں لوگ ، فوجی، عالم، ادیب , مختلف فرقوں کے تاجر، حکومت کے ملازم ، صوفی، مصور اور دوسرے اپنے ساتھ اس پروٹو زبان کو لے گے ہونگے۔ یہ زبان اور دہلی کے اردگرد زبانوں کا ملاپ آج کی اردو ہے۔
اب یہ سوال پدا ہوتا ہے کے اس زمانے میں دہلی کے اردگرد کونسی زبانیں بولی جاتی تھین۔
راہبر کی آواز بیٹھ گئ تھی۔ لاہور کی گرمی نے بُرا حال کر رکھا تھا ۔ ہم ایک سایہ دار درخت کی تلاش میں نکلے ۔
۔
مرسلہ: پير ستمبر 15, 2008 1:58 am
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
تاریخِ اُردو
اردو کی کہانی تفسیر کی زبانی
پتھروں کے دیوتا ملے ۔ ۔ ۔ ۔
چلئے ہم آپ کو پتھروں کے زمانے میں لے چلتے ہیں ۔ عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ڈراویڈیّن جنوبی ایشیا کے اصلی باشندے تھے اور آریان بعد میں آئے ۔ لیکن جنوبی ایشیا کی جگہ جگہ کھدائ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ڈراویڈیّن ہی حملہ آور قوم تھی جو موہنجوڈارو اور ہاڑاپا کے لوگوں سے بھی سے پہلے آئے ۔ اور انکا رشتہ اسڑیلیا کے بورجینی سے ملتا ہے۔ مُنڈا کے لوگ مختلف زبانیں استعمال کرتے تھے۔ یہ زبانیں بھیل ، سوارا اور کاول تھیں۔
ڈراویڈیّن اور آریان نسلوں نے مل کر نئی زبانوں کو جنم دیا۔ اگر آپ دیکھں تو اردو میں بہت سےالفاظ جھونپٹری ، نانا ، سالا ، آنچل ، گہنہ ، کوس ، کریلا ، پھاٹک ، ڈنڈا ، دلان ، ڈحیٹ ، آڑوس پڑوس ، دھوم دھام ، سب پزاروں سال پہلے مُندا کے زمانے میں استعمال ہوتے تھے ۔ اسطرح ڈراویڈیّن کی زبانیں ظہور میں آئیں ۔
جس طرح ایک ہزار سال پہلے مسلم حملہ وار جنوبی ایشیا آے اس طرح تین ہزار پانچ سوسال ، (اور کئی سو سال کے وقفوں میں) آریان جنوبی ایشیا آےجہاں انہیں ڈراویڈیّن زبانیں ملیں بلوچیستان کی براہوئ زبان - ایک زندہ زبان جو آج بھی بولی جاتی ہے۔ یہ ڈراویڈیّن زبان ہے۔ جس طرح تمیل، ملایالام , اورتِلوغا و غیرہ جنوبی ایشیا کے جنوبی علاقوں میں موجود ہیں-
آریان کی زبان دو حصوں میں تقسیم ہوئ ایک جو حملہ آور اور مقامی لوگوں کی زبان بن گی۔ یہ سنسکرِت ہے جو کہ ڈراویڈیّن حملہ آور بولتے تھے اور مقامی ڈراویڈیّن اور مُنڈا کے مختلف ڈایالیکٹ ۔جس طرح وقت گزرتا گیا دونوں زبانیں ہم آبنگ ہوگیں ۔اس ہم آہنگی سے پراکرِت پیدا ہوئیں۔ کیونکہ ہرعلاقہ میں محتلف ڈراویڈیّن کی بولی بولی جاتے تھی اس لئے ملک کے ہر حصہ میں مختلف قسم کی ڈراویڈیّن وجود میں آیئں۔
یہ پراکرِیت زبانیں ادبی زبانیں بن گیں۔جنہں صاحبِ اقتدار لوگوں نے مذہب اور سیاسی مفاد کےلئیےاستعمال کرنا شروع کردیا ۔اس وقت جب کہ سنسکرِت ، پراکرِت پراثرانداز ہورہی تھی ایک اور زبان اپ بھرنساس جو کہ مقامی عام لوگ بولتے تھے سنسکرِت سے متاثر نہیں ہوئ۔ ادبی زبان اور اب
بھرنشا - عام بول چال
ڈراویڈیّن -
تمل ،
ملایالام ,
اور تیلگو وغیرہ ۔ َ
پوشاچی -
کھڑی بولی ،
سندھی ،
پنجابی ،
سِرائکِی ،
ہندکو ،
کشمیری ،
ہریانوی وغیرہ
داردا - -
پختون اور بلّوچی پوشاچی جماعت میں کھڑی بولی کا ترجمہ کھڑی زبان ہے۔اس کو شورسینی پراکرِیت بھی کہا جاتا ہے۔ اس زبان میں فعل کا اختیام ذیادہ تر “ الف“ پر ہوتا ہے۔ جیسے کھایا، آیا وغیرہ بہ نسبت وہ زبانیں جن میں فعل کا اختیام “ او“ پر ہوتا ہے۔ جیسے کھائیو ، آئیو، وغیرہ - ذیادہ ترعلم لسنیات کے ماہراس بات پر متفق ہیں کہ جب مسلمان دہلی آئے د ہلی میں کھڑی بولی استعمال ہوتی تھی
راہبر نے کی سانس اکھڑ نے لگی اس نے پانی کا گھونٹ لے کر کہا
کیا آپ کو پتہ ہے کہ اردو کا پہلا جملہ ایک نوکرانی کے بولا تھا ۔ ۔ ۔۔
مرسلہ: پير ستمبر 15, 2008 2:00 am
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
تاریخِ زبانِ اردو
مصنف - سیدتفسیراحمد
بابائے اردوحضرت بابا فرید گنج شکر ۔ ۔ ۔
بابائے اردو بابا فرید کو اردو کی پہلی نظم لکھنا اور اردو میں پہلی گفتگو کرنے کا امتیاز حاصل ہے ۔ یہ اردو زبان کی ابتدا تھی - یہ مانا کہ بابا فرید کے زمانے میں اس زبان کا نام اردو نہیں تھا لیکن یہ زبان فارسی کو اور مقامی زبانوں کے جوڑ توڑ سے پیدا ہو رہی تھی۔ اس زمانے میں مُعِزّزین فارسی بولتے تھے لیکن متوسط اور نیچلے طبقے کی رعیت میں مختلف مقامی زبانیں بولی جاتی تھیں -
جتنے بھی صوفہ ہندوستان آئے ان کے آنے کا مقصد اسلام کی تبلیغ کرنا تھا۔اور اسلئے ہی صروری تھا کہ صوفیوں اور عام میں ایک ربط پیاد کیا جائے۔
بابا فرید نے اس آرگن کو پیدا کرنے کے کام کی ابتدا کی۔ انہوں نے ان سب زبانوں کی جوڑ توڑ شروع کی۔ اس نئی زبان میں ان کی پہلی گفتگو صوفی خواجہ برُہان الدین بابا کی ملازمہ سے ہوئ۔ بابا برُہان الدین کی ملازمہ مقامی زبانوں سے واقف تھی اور بابا فرید نہ صرف فارسی کے عالم تھے بلکہ مُقامی زبانوں سے بھی آگاہی رکھتے تھے۔
مسلمان ملک گیروں کے ساتھ ہندوستان میں صوفی , ایشیا وسط اور شبۃالجزيرۃ العربيۃ سے اسلام پَھیلانے کے لیئے ہندوستان آئے۔ ١٢ ١ور١٣ صدی میں صوفیوں نےاپنے آپ کو نصب کرلیا۔ شیخ عبدل جیلانی اور حضرت شہاب سہروردی ان میں سے دو ہادی ہیں۔ سید بندقی محمد غوش ، خواجہ مہن الدین چیشتی ، شیخ بہا الدین لکریا اور خواجہ باقی بلّہ نے تصوف کو چار قسمیں کردیں - قدریہ ، چشتیہ ، سہروردیا اور نقش بندیا - یہ صُو فیہ عالم فاضل تھے اور انہون نے دنیا دیکھی تھی - ان کے عوام الناس کی تعداد بہت بڑی تھی - انکی اپنے مقصد میں کامیابی کی دو وجہ تھیں ایک مضبوط سیرت اور دوسرا یقینِ کامل ۔ وہ بے لوث اور فدوی تھے۔
حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ عَلَیہ (1266-1173)
ان لوگوں میں ایک بابا فرید کا خاندان بھی ہے۔ بابا فرید، چشتیہ کے قطب الدین بختیار کاکی کے مرید تھے ۔ بابا شیخ فرید جی کابل اور غزنی کےحکمراں فاروق شاہ کہ نسل سے ہیں۔ بابا فرید جی کے پڑدادا ، فاروق شاہ کا لڑکا تھا۔ جب چنگیز خان کے نواسے ہلاکو خان نے ١١٢٥ میں کابل پر حملہ کیا اور قتل غارت کی ، بابا فرید کے دادا نے بھاگ کر پنجاب میں پناہ لی-
بابا فرید ١١٧٣ میں پنجاب کے موضع کھتوال ضلع ملتان میں پیدا ہوئے۔ان کے والدین نے ان کا نام مسعود رکھا , فریدالدین ان کا لقب ہے۔ لیکن عام طور پر آپ بابا فرید گنج شکر کے نام ہی سے۔ لیکن تمام زندگی لوگوں نے ان کی عظمت اورشرف و قدر کی بنا پر ان کو پاک پتن کے بابا فرید کہا۔ فرید اس زمانے میں پیدا ہو ئے جب کہ پنجاب ایک مشکل دور سےگزر رہا تھا۔ تہمور، ہلاکو ، غوری، غزنوئ پنجاب کو تباہ اور غارت کررہے تھے۔ ہندوستان کی سرکاری زبانیں تُرکی اور فارسی تھیں۔ غلام خاندان ِشاہی کا سربراہ سلطان بلبن تھا۔ ٢٠٠ یا ٣٠٠ سال پہلے مغربی ہندوستان اللہ کی تلوار ایران ، افغانستان ، وسطی ایشیا اور ہندوستان میں اسلام کو پَھیلا چکی تھی- قطب الدین ایبک ہندوستان میں اپنی مملوک سلطنت ( ١٢٠٦- ١٢٩٠ ) قائم کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا۔ مملوک عربی کا لفظ ہے جس کر معنی“غلام“ ہیں ۔ بابا فرید شکر گنج کا شجرہٴ نسب “ جواہرِ فریدی “ سر ہند کے قریب میں پاک پتن کی زیارت گاہ میں محفوظ ہے - بابا فرید جی نظام الدین اولیا کے روحانی استاد بھی تھے-
بابا جی کو صحیح معنی میں پنجابی ادب کا بانی کہا جاسکتا ہے - اس لحا ط سے پنجابی ادب ، اردو اور ہندی سے بھی پرانا ہے۔ بابا فرید کے بہت عرصہ بعد تلسی داس اور میرا بائ نے مذہی کتابیں لکھنے کے لئے ہندی زبان کا استعمال کیا - آب جب تک دہلی میں رہے فارسی اشعار کہتے تھے ۔ ہانس کے قیام کے دوران آپ نے اُردو اور پندی میں کہتے رہے - مقصد صرف یہ تھا کہ اپنے دین کا پیغام اس علاقہ کے لوگوں میں اس انداز سے پیش کرنا کے وہ اسے سمجھ سکیں۔ اسی ظرح بج اجودھن میں تشریف لائے تو آپ نے پنجابی زبان میں اشعار کہنے شروع کردیئے لیکن بدقسمتی سے بابا صاحب کا کلام مخفوظ نہ ہو سکا - ہانسی کے قیام میں آپ کا اُردو شعر ملتا ہے۔
وقت سحر ، وقت مناجات ہے
خیز دارں وقت کہ برکات ہے۔
آپ کا کلام تو جمع نہ ہوسکا البتہ گوروارجن دیو نے آپ کے ایک سو تہس گورو گرنتھ میں دے کر ایک محدود کلام کو محفوظ کرلیا ہے۔ دوسرے بزرگان دین کی طرح آپ نے بھی غزنی، بخارا، سیستان، بدخشان، قنھار اور بغداد کی سیاحت کی- واپس لوٹنے پر اپنے پیرو مرشد قطب الدین بختیار کاکی سے ملنے دہلی گے۔ اسکے بعد ہانسی کا سفر کیا۔ اپنے استاد کی موت پر دہلی لوٹے اور پھر اجودھن کو اپنے مستقل رہنے کے لے منتخب کیا۔ جو آج کا پاک پتن کے نام سے مشہور ہے۔ آپ آکر یہیں قیام پذیر رہے اور یہیں دفن ہوئے
فریدا کالے میرے کپڑے ، کالا مینڈا ویس
ھیاہیں بھریا میں پھراں ، لوک کہن درویش
میری بدکاریون کو چھپانے کیلے میں کالا لبادہ پہنتا ہوں اور لوگ مجھے درویش سمجھتے ہیں
گلیں چکٹ ، دور گھر نال پیارے نھونہہ
ثلاں تان بھجے کمبلی ، رہاں تا جائے نیونہہ
تجھ سے ملنے کا میرا وعدہ محبو ب - سفر لمبا ہے اور راہ گند سے بھری ہے ۔ اگر میں آگے بڑتا ہوں تو چغہ گندا ہونے کا اندیشہ ہے گا۔ اور نا چلوں تو تجھ سےوعدہ ٹوٹنے کا ۔
بھجو سجو کمبلی اللہ ورسے مینہہ
جائے ملان تہینان سجناں ٹٹے ناہیں نیونہہ
چاھے میرا چوغہ بھیگے اور گندا ہو جائے - اللہ کے بدلوں کو برسنے دو۔ جاوں - میں ضرور آوں گا یہ میرا وعدہ تجھ سے ملنے کا
فرید بابا کی شاعری میں جدت پسندی ان کے مزاج اور نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ ان کی شاعری میں انفرادیت ہے۔
بابا فرید جی نے کئی کتابیں لکھیں جو انکے مرید شیخ نظام الدین نے راخت القلوب کے نام سے شائع کی۔ ان کے دوسرے مرید بدر عشق نے دوسرے کتاب سیر الاولیا کو چھپوایا۔
راہبر نے مسکرا کر کہا “ کیا تم کو مجھ پر اعتماد ہے؟“
مرسلہ: پير ستمبر 15, 2008 2:01 am
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
تاریخِ زبان اردو
سید تفسیر احمد
میر خُسرو باوا ۔۔۔۔۔۔
امیر خسرو کی زندگی اور زمانہ
1100 - مُہحی الدین چشتی کی پیدایش - مُہحی الدین “چشتیا“ صوفی آرڈ ر کو ہندوستان لائے۔
1206 - امیر خسرو کےوالد سیف الدین نے ٹریسوکس ایٰانا uzbekistan سے دہلی ہجرت کی۔
1253 - شیخ نظام الدیں اولیا بدایوں (یو پی) میں پیداہوئے ۔ آپ کے والدین بخارا سے آئے تھے -آُپ فرید الدین گنِ شکر کے مرشد تھے -
1253 - خسرو پتیا لی - عطاح (یو پی) کے گاوں میں پیدا ہوئے۔
1260 - والد کی وفات کے بعد خسرو اپنی والدہ کے ساتھ د ہلی آگئے۔
1262 - د ہلی میں خسرو کی تربیت انکے نانا کے پاس ہوئی . Rawat-e-arz ، خسرہ کے نانا نے اسلام قبول کی تھا۔خسرو نے مکتب میں فارسی کی تعلیم کی۔
1271 - ١٨ سا ل کی عمر میں خسرو نے اپنا پہلا دیوان “ تُحفتہ اصغر“ ( بچے کا تخفہ) شائع کرتے ہیں۔
1272 - غیاث الدین بلبن ترکی ١٢٠٦- ١٥٠٦ کا بھانجہ ملک چھاجو کے درباری شاعر مقرر ہوتے ہیں-
1276 - بلبن کا چھوٹا بیٹا بخارا خان کے درباری شاعر ۔
1279 - بنگال کا سفر اور دوسرے دیوان “وسط الحیات“ ( ادھیڑ عمر) کو لکھنا شروع کیا۔
1281 - سلطان محمد ، بلبن کے دوسرے بیٹے کے درباری شاعر ۔ جنگ میں حصہ لینے کے لئے سلطان محمد کے ساتھ ملتان جاتے ہیں۔
1285 - منگولوں سے لڑائ کے دوران گرفتاری اور فرار - سلطان محمد ، اس جنگ کے دوران سلطان محمد قتل ہو جاتا ہے۔
1286 - ُمیز الدین قائقا باد بن بغارا خان دہلی کا نیا سلطان قرار دیا جاتا ہے اوروہ خسرو کو درباری شاعر مقرر کرتا ہے اور خسرو کی غزلیں دربار میں گائ جاتی ہیں۔
1287 - خسرو اپنےسرپرست امیر علی حاتم کے ساتھ awadh جاتے ہیں۔
1288 - بخارا خان اور اسکے بیٹے کے تاریخی ملاپ پر ، اپنی پہلی تاریخی مشنو ی “ قِران السعدین“ (دو ستاروں کا ملن) مکمل کرتے ہیں۔
1290 - ُمیز الدین کا قتل کیا جاتا ہے جلال الدین خلجی د ہلی کا بادشاہ بنتا ہے اور خسرو اپنی دوسری مشنوی“ مِفتاح الفُتوح“ ( فتح کی کنجی) مکمل کرتے ہیں۔
1294- چالیس کی عمر میں خسرو اپنا تیسرا دیوان “غُرہ الکمال “ ( آغازِ فصلیت) مکمل کرتے ہیں۔
1295 - علاو الدین خلجی دہلی حکمران بنتاہے ۔ بلبن کا دور ختم ہوتا ہے۔ خلجی دیوگری اورگجرات پر حملہ کرتا ہے۔
1298 - خسرو “ خمسہ نظامی“ ( عشق کی پانچ کہانیاں ، ہشت - بَہِشت ، متلول - انور ، شیرین و خسرو، مجنوں و لیلہ اور آئینہِ سکندری ) شائع کرواتے ہیں۔
1301 - علاو الدین رام پور، چِتّوڑ اور ملوہ پر حملہ کرتا ہے ۔خسرو ، علاو الدین کے سا تھ قائع نگار کی حیثیت سے جاتے ہیں۔
1310 - خسرو نظام الدین اولیا صوفیانہ تعلقات میں گہراو پیدا ہوتا ہے۔ خسرو “خزائن الفُتُوح “ ختم کرتے ہیں۔
1315 - علاو الدین خلجی کی وفات ہوتی ہے۔ اور خسر و کی مثنوی اور عاشقانہ نظم ، “ عشق دول رانی خضر خان “ شائع ہوتی ہے۔
1316 - قُطب الدین مبارک شاہ خلجی د ہلی کا نیا حکمراں بنتا ہے اور خسرو اپنی چوتھی مثنوی “ نہ سپہر “ ( نو آسماں ) مکمل کرتے ہیں۔
1321 - قُطب الدین کا قتل ہوتا ہے اور غیاث الدیں تُخلق تخت پربیٹھتاہے۔ خسرو “تغلق نامہ“ لکھتا ہے۔
1325 - سلطان محمد بن تخلق کی باری ہے۔ نظام الدین کی وفات ہو تی ہے اور چھ ماہ کے بود امیر خسرو اس دنیا سے چل بستے ہیں۔
اپنی حیات میں امیر خسرو - بلبن - خلجی اور تغلق سلطانیت کے دربار میں شاعر تھے - آپ کا تعلق “چشتیا“ صوفی آرڈ ر سے ہے۔ آپکی وفات کے بعد ، درگاہ دہلی میں بنی۔ امیر ٍخسرو کی تمام تخلیقیں فارسی میں ہیں۔ محقّق اس بات پراتفاق کرتے ہیں کہ اردو میں ان کی کوئی مُستنَد لکھائی موجود نہیں ۔ ہاں البتہ ان کے
دوہے ، سخنے
کہہ مکرنی اور پہلییاں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں جوقوال اور مرثیہ خواں کی ایک نسل دوسری نسل میں منتقل ہوئے۔ قوال اور مرثیہ خواں اب بھی ان کوقوالی کی محفلوں میں دوہراتے ہیں۔
دوسخنے
نظمی مُحموں کی ایک قسم ہے۔ اس قسم کے مُحمے کو حل کرنےکے لئےایک ایسا جواب تلاش کرنا ہو تا ہے جو کہ دو مختلف سوالوں کاایک جواب ہو۔ ان سوالوں کیلئےاچھے جواب ذو معنی ہوتے ہیں ۔ دلچپسی کی یہ بات ہے کہ جواب ، صرف ایک لفط یا اسم نہیں ہوگا بلکہ دو یا تین الفاظ ۔ یہ دوہوں کی امثال ہیں،
راجہ پیاسا کیوں؟ گدھا اداس کیوںِ ؟
لوٹا نہی تھا
دیوار کیوں ٹوٹی ؟ راہ کیوں لٹی ؟
راج نہ تھا۔
انار کیوں نہ چمکا ؟ ِوزیر کیوں نہ رکھا ؟
دانہ نہ تھا۔
دہہی کیوں نہ جماِ ؟ نوکر کیوں نہیں رکھا؟
ضامن نہ تھا
گھر کیوں اندھیارا ؟ فقیر کیوں بڑبڑایا ؟
دیا نہ تھا
گوشت کیوں نہ کھایا ؟ڈوم کیوں یہ گایا؟
گلا نہ تھا۔
سموسہ کیوں نہیں کھایا ؟
جوتا کیوں نہیں نہ پہنا ؟
تلا نہ تھا
ستاز کیوں نہ بجاِ عورت کیوں نہ نہائی؟
پردہ نہ تھا۔
پنڈت کیوں نہ نہایا ؟دھوبن کیوں ماری گئی؟
دھوتی نہ تھی۔
کھچڑی کیوں نہ پکائی؟ کبوتری کیوں نہ اُڑائی؟
چھری نہ تھی
دوہے
خسرو ریں سہاگ کی جاگی پی کے کے سنگ
تن میرو من پیو کو دوو بھئے اک رنگ
خسرو دریا پریم کا الٹی وا کی دگار
جو اترا سو ڈوب گیا جو ڈوبا وہ پار
کھیر پکائی جتن سے چرخا دیا جلا
آیا کتا کھا گیا تو بیٹھیڈھول بجا۔
گوری سودے سیج پر مکگ پر ڈارے کیس
چل خسرو گگر آپنے سنھ بھئی چہودیس
پہلیاں -
نار معنی عورت ہیں ۔ عربی اور فازسی ادب میں نار آگ بھی کہلاتا ہے۔امیر خسرو کی بہت سی پہلیاں اس قسم کے لفظوہ پر مبعنی ہیں
بالا تھا جب سب کو بھایا - بڑا ہوا کچھو کام نہ آیا
خسرو کیہ دیا اسکا ناؤں - ارتھ کہو نہیں چھاڑو گاوں
جوا ب ؛موری ، نالی
ایک گنی نے یہ گن کینا - ہربل پنجرے میں دیدینا
دیکھو جادوگر کا کمال - ڈارے ہرا نکا لے لال
جواب ؛ پان
ایک پرکھ ہے سندر مورت جو دیکھے وہ اسکی صورت
فکر پہیلی پائی نا بوجھن لاگا آئی نا
بسیوں کا سر کاٹ لیا
نہ مارا نہ خون کیا
جواب ؛ آئنیہ
بیسوں کا س کاٹ لیا
یہ مارا نہ خوں کیا۔
جواب؛ ناخن
کہہ مکرنی
کہہ ( کہو) مُکرنی ( انکار) دو عورتیں روزمرہ کی چیزون کی تصویر کھینچتی ہیں - ایک عورت دوسری سے اس ظرح سے خطاب کرتی ہے کہ دوسری کو ان اشارونں سے گلط فہمہ ہو تی ہے
لپٹ لپٹ کے وا کے سوئی چھی سے چھاتی لھا کے روئی
دانت سیے دانت نجے تو تاڑا سے سکگی ساجن نا سکھی جاڑا
وہ آئےتب شادی پووے اس بن دوجا اور نہ کوئے
میٹھے لاگیں وا کے بول اے سکھی ساجن نا سکھی ڈھول
سگری ریں چھتین پرراکھا روپ رنگ سب واچاکھا
بھور بھئی جب دیا اتار اے سکھی ساجن نا سکھی ہار
خسرو سے متعلق سنیکڑوں کہانیاں مشیور ہیں ان میں سے ایک یہ ہے۔
خسرہ ایک صبح چہل قد می کر رہے تھے کہ ان ک پیاس لگی۔انہوں نے پانی کا ایک کنواں دیکھا جہاں چار عورتیں پانی بھر رہی تھیں ۔ خسرو وہاں گے اور پینے کیلئے پانی مانگا۔ ان میں سے ایک عورت نے امیر خسرو کو پہچان لیا اور دوسری عرتوں کو بتا یا کی یہ وہ شخص ہے جو پہلیاں اور گانے لکھتا ہے۔ عورتوں کو مذاق سوجا اور انہوں نے امیر خسرو سے کیا کہ جب تک وہ ان عورتں کے کیلئے ایک پہلی نہیں بنا ئے گا وہ اس کو پانی نہیں دیں گیں - خسرو نے کہا “ اچھا میں ایک پہلی بناتا ہوں لیکن یہ کس چیز سے متعلق ہو؟۔“ عورتوں نے کچھ دیر سونچا اور پھر ایک نے کہا کھیر دوسری نے کہا دیا ، تیسری نے کہا کتّا اور چوتھی بولی ڈھو ل - یہ کہا جاتا ہے کہ خسرو نے یہ پہلی بنائی۔
کھیر پکا ئی نتن سے، چرکا دیا جلا
آیا کتا کھا گیا، تو بیٹھی ڈھول بجا
امیر خسرو نے دسویی کتابیں لکھیں لیکن ان میں سے ایک بھی اردو میں نہیں ہے۔
تحفتہ الصغر -
١٢٧١ میں پہلا دیوان ہے شائع ہوا اس میں 19 سال کئی عمر میں کہی ہوئی نظمیں ہیں۔ وسط الحیات - دوسرا دیوان جو خود خسرو کر مطابق اسکا بہترین کام ہے۔
غرۃ لکمال -43 سال کی عمر مین لکھا۔ اس میں کافی biographical information ہیں۔
بقیہ نقیہ - اسک ٦٤ سل کی عمر میں علاؤالدین کی موت کے بعد لکھا۔
نہایت الکمال - اپنی موت سے کچھ دنوں پہلے مکمل کیا۔
قران السعدین - بُخرا خان اور اسک بیٹے کے قیقباد کے درمیان تاریخی ملاقات -
مفتاح و المفتاح - جلال الدین خلجی کی جنگی کامیابیاں -
عشقی دول رانی خضر خان - گجرات کے شہیزادی ڈوال اور علاوالدین کے بیٹے کےدرمیان عشق ناکام کی کہانی۔
نہ سہپر - خسرو کی نظر میں ہندوستان اور اسکا کلچر۔
تعلق نامہ - تعغلق کےمطالق۔
خمسہ نظامی - پانچ کلاسیکل وزق کی داستانیں۔ ہشت بہیشت ۔ متلاول انور - شیریں و خسرو - مجوں و لیلہ اوع [size=20]آئینہ سکندری۔
اعجاز خسروی - مختلف مجموع مضامین جن ۔یں لونڈی خریدنے سے لیکرلکھنے کا انداذ بیان کیا گیا ہے
خوائن الفتوع - علاوکدین مئ جنگی کامیابیاں ہیً مبالغ آرای
خسرو نے فارسی میں سینکڑوں غزلیں لکھیں لیکن ان کی کوئی کتب اردو میں نہ ملی۔ اس سےیہ ثابت ہوتاہے کہ خسرہ نے اردو کی ارتقا میں ادبی حصہ بلکل نہیں لیا
راہبر مسکرایا ۔ ۔ ۔
مرسلہ: پير ستمبر 15, 2008 2:02 am
گزشتہ پیغامات دیکھئیے: تمام پيغامات 1 دن 7 دن 2 ہفتے 1 ماہ 3 ماہ 6 ماہ 1 سال ترتیب: خط کا وقت خط کا عنوان مصنف صعودی نزولی