مصنف
پیغام
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
فرنٹ لائن پاکستان زاہد حسین
فرنٹ لائن پاکستان
جنگ آور اسلام سے ایک کشمش
زاہد حسین
ترجمہ : تفسیر احمد
مرسلہ: اتوار اگست 05, 2007 1:24 pm
آخری بار تفسیراحمد نے منگل جون 03, 2008 11:38 pm کو; 3 بار مدون کیا
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
پیش لفظ
امریکی حکومت کا پاکستان کےجنرل مشرف کی فوجی حکومت کو اعلانیہ نہ مانے کے دو سال بعد پاکستانی لیڈر واشنگٹن میں امریکہ کے دفاعی سیکریٹری آف اسٹیٹ ڈانلڈ رمسفیلڈ کے ساتھ چبوترے پر کھڑا ہوا۔ ہنسی مذاق کے دوران ڈانلڈ رمسفیلڈ نےمشرف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دوستانہ انداز میں کہا۔ “ جناب صدر ۔ہم ۔ ہمارا ملک ۔۔۔ اور خاص طور پر دنیا، دنیا کے اس حصہ میں جہاں آپ کا ملک واقع ہے اس کام میں کامیابی کےخواہیش مند ہیں“۔
نائین الیون کے بعد حالات کی ڈرامائی تبدیلیاں پاکستان کو ایک نئ روشنی میں لائیں۔ طالبان کی مدد اور کشمیر کے اندر حملوں کی بناء پر عالمی برادری سے خارج کیا ہو پاکستان، دہشت گری کی جنگ میں امریکہ کا حربی ساتھی بن گیا۔ وہی فوجی سربراہ جنہوں نے جہادی نیٹ ورک کو ان کے لیے افغانستان اور کشمیر میں لڑنے کے لیے آسانیاں فراہم کی تھیں اور وہ فوجی سربراہ جنہوں نے اٹیمی مواد کی تجارت کو نظر انداز کردیا تھا اب اسی فوجی سربراہ کو اس خطے میں امریکہ کی قدروں کا علم بردار کہا جارہا تھا۔
اس پلٹ کی ذمداری جنرل مشرف پر آتی ہے۔ انتہا پسندوں سے الگ نہیں ہونا چاہنے والی فوج اور امریکہ کی قدروں کا اس خطے میں علم بردار بنے کے درمیان مشرف ایک نازک دھاگے پر چلا۔ کیونکہ مشرف نے امریکن کی جانب داری کی لہذا اب وہ نشانہ بن گیا۔ اسلامی دہشت پسند جن کو پاکستان کے بہترین جاسوسی کے ماہرین پاکستان انٹر انٹیلیجینس نے ٹرینگ دی تھی انہوں نےاب اپنی بندوق کی نالیاں فوجی حکمرانوں پرموڑ دیں جنہوں نے ان کے ساتھ دغا کیا۔
جیسا کہ ہم اس کتاب میں جائزہ لیں گے کہ درحقیقت مشرف کا امریکہ سے دہشت کی جنگ میں ناطہ جوڑنا ، پاکستان کو خود سے جنگ لڑانے کے برابر ہے۔ اس کشمکش کا نتیجہ نہ صرف پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا بلکہ نظریاتی آب و ہوا اور دنیا کی حفاظت کا بھی ۔ یہ وہ جنگ ہے جس کا گہرا تجزیہ نہیں کیا جاتا۔ پاکستانی اور بیرونی مشاہد اس کو پاکستان کی سطحی سیاست سے پرکھتے ہیں۔ مشرف اور اس کے امریکن دوست یہ حقیقت بتانے سےگریز کرتے ہیں کہ جن جہادیوں کو پاکستان کی حکومت دبانے کی کوشش کر رہی ہے ان کا پاکستانی سوسائٹی پر اگر ذیادہ نہیں تو مشرف کے برابراثر ہے۔ جیسےجیسےعراق اور افغانستان میں جنگ زیادہ سے زیادہ وحشانہ پن اختیار کررہی ہے اور مشرقی شہروں جن میں لندن بھی شامل ہے تجربہ کار جہادیوں دہشت پھیلا رہے ہیں ویسے ویسے مشرف کا “ جنگ دِہشت“ پر مخصوص خیال کیا اہمیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
میرے لئے ایک جرنلسٹ کی حیثیت سے ان تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے واقعات سے واقف رہنا ایک مشکل آزمایش ہے ۔ یوں تو لڑائی کے میدان سے خبریں اکھٹا کرکے بھیجنا ہمیشہ ہی مشکل ہوتا ہے لیکن میرا کام اور بھی دشوار ہوگیا جب نائین الیوین کے بعد اس علاقہ کی پیچیدہ سیاسی آب و ہوا میں حربی رشتہ سر کے بل ہوگے۔ اور سرکاری بیانوں اور اصلیت میں زمین آسمان کا فاصلہ پیدا ہوگیا۔
میں یو ایس اے کی فوجوں کے افغانستان پر حملہ کے چار ہفتوں کے اندر یعنی آٹھ نومبر ٢٠٠١ کو افغانستان میں ایک ہیومینیٹیرین تنظیم کے ایک ڈاکٹر کے روپ میں داخل ہوگیا تھا ۔ مورچہ بند طالبان حکومت نےغیرملکی اخبار نویسوں کی موجودگی ممنوع کردی تھی اور پکڑے جانا، جان کا وبال بن سکتا تھا۔ خطرہ بہت سنگین تھا لیکن اس کا صلہ بھی بڑا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں افغانستان کی تورخم سرحد کی طرف جارہاتھا “ ٹائمز “ کے ڈپٹی اڈیٹر پریسٹن اور فارین اڈیٹر برنوین میڈاکس نے مجھے کال کیا ۔ انہیں میری طرف سےفکر تھی۔ اگرچہ وہ میرے فیصلہ سے مکمل طور پر مطمئن نہیں تھے۔ لیکن پھر بھی مجھے یقین دلایا کہ وہ میری مدد کریں گے۔
میرا جنگ کے میدان میں ایک پورا دن گزارنا میری ساری جرنلسٹ زندگی کا سب سے خطرناک دن تھا۔ اس سفر میں کئ حقیقتیں ظاہر ہوئیں۔ میں دیکھا کہ اسامہ بن لادن کے بلاوے پر، ( حکومت پاکستان کا امریکہ سے طالبان کے خلاف جنگ میں مدد کرنے کے وعدے کے باوجود ) ہزاروں پاکستانی جلال آباد پہنچ رہے تھے۔ چوڑی شلوار اور قمیض میں ان کو پہچاننا مشکل نہیں تھا۔ سرگرم اور نوجوان پہلے ہی محاذ پر بھیجے جاچکے تھے۔ عمر رسیدہ جنہوں نے اپنی زندگی پاکستان کےغیر پابندِ قانون قبائلی علاقوں میں گزاری ہے اپنےاحکاموں کے منتظر تھے۔ طالبان ایک ہفتہ بعد ہار کر منتشر ہوگے۔ لیکن دہشت کےخلاف جنگ نہیں ختم نہیں ہوئی۔ یہاں تک کے ایک سال بعد میں نے پاکستان کے شمال مغربی سرحدوں پرجنگ آورطالبان کو پایا جو غیر ملکی قابض فوجوں سے لڑنےکے لئے اپنے لیڈر کے احکام کا انتظار کررہے تھے
نائن الیوین کے بعد میں نے القاعدہ کے لیڈروں کی تلاش سے متعلق خبروں جمع کرنے کے لیے پاکستان کے غیر پابندِ قانون وزیرستان کے سفر کئے۔ وزیرستان، دینا کے دشوار ترین خطوں میں سے ایک خطہ ہے جو اب دہشت گیروں کا اڈا بن گیا ہے۔ اور شاید یہ بن لادن اور الزواری کا باڑہ ہے۔ پاکستان کے ہزارہا سپاہی اس پہاڑی علاقہ میں ان قبائلیوں سے لڑ رہے ہیں جو اپنے ان “مہمانوں“ سے دست بردار نہیں ہونا چاہتے۔
جہادی گروہ کی فوجی حرکات وسکنات اور انکا پاکستانی آرمی سے رشتے کا علم مجھے ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنےسے ملا۔ میں پچھلے سالوں میں سینکڑوں چھوٹے بڑے اسلامی لڑنے والوں سے ملا ہوں جو شہادت کا درجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ میں ان انتہا پسند مسلم لیڈروں سےملا ہوں جن کے مطابق مسلمانوں پر جبر و ستم کرنے والوں کو تباہ کرنے کا اور دنیا میں اسلام کی برتریت لانے کا صرف ایک وصلیہ ہے جو جہاد کہلاتا ہے ۔ یہ لوگ نہ صرف اسلامی مدرسہ بلکہ غیرمذہبی تعلیمی اداروں کی بھی پیداوار ہیں۔
خود قسمتی کہیں کہ بعض اوقات میں ان جگہوں پرموجود تھا جہاں مجھے کچھ اہم چیزوں کو دیکھنے کا موقع ملا۔ ٣١ دسمبر کو میں قندھار ائرپورٹ پرموجود تھا جب پاکستانی جنگجو مسعود اظہر اور برطانیہ میں پیدا ہوئے احمد عمر سعید شیخ کا ہائی جیک کی ہوئی انڈین ائرلائن کے پیسنجروں سے تبادلہ کیا گیا تھا۔ ایک ہفتہ بعد میں نےمسعود اظہر کو کراچی کی ایک مسجد میں پُرجوش تقریر کرتے دیکھا۔ پاکستان انٹر سروس انٹیلیجینس اور جنگجو لوگوں کا رشتہ صاف ظاہر تھا۔
جنرل مشرف سےانٹرویوز ( جنرل مشرف کے میں نے کئی انٹرویو لئے ہیں ان میں سے ایک نیوز ویک کے جنوری ٢٠٠٢ کی کور اسٹوری کے لیے کیا گیا تھا) اور پاکستان کے دوسرے بڑے اور پرانے ملٹری اور سول لیڈروں سےملاقاتوں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان نسبت سمجھنے میں مدد دی ہے۔
یہ اور دوسرے تجربات کی بنا پرمیری خواہش تھی کہ میں ایک کتاب لکھوں جو پاکستان کی “ جنگِ دہشت“ کی حقیقت بتائے۔ “ فرنٹ لائن“ اس کاوش کا نتیجہ ہے۔ مجھے امید ہے کے میری یہ کتاب سرکاری جنگِ دہشت کے نظریہ میں خانہ پوری کرسکےگی۔
یہ کتاب تین حصوں میں تقسیم ہے۔ پہلے حصے میں ان وجوہات کا جائزہ لیا گیا ہے جو نائن الیون کے بعد مشرف کو امریکہ کی طرف لاتی ہیں اور کیوں یہ ایک بہت بڑا فیصلہ تھا۔ دوسرے حصہ ان طاقتوں سے مطالق ہے جو اس کے خلاف ہیں ۔ یہ طاقتیں جہادی اور ان کے طرفدار ہیں۔ اور تیسرا حصہ ان کے درمیان جنگ سے مطالق ہے۔ جنگ کس طرح لڑی جارہی ہے اور اس جنگ کو کون جیت رہا ہے۔
مرسلہ: جمعرات جنوری 03, 2008 4:19 am
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
تمہید
اپنی تیز رفتار مرسیڈیز کی ہلکے رنگ کی کھڑی سے پریسیڈنٹ مشرف ایک وین کو اپنے موٹر کیڈ کی جانب آتا دیکھ رہا تھا جو اس پولیس مین جس نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی کچلتی ہوئی آرہی تھی۔ ٢٥ دسمبر ٢٠٠٣ ایک قومی چھٹی کا دن تھا اس لئے سڑکوں پر سناٹا تھا۔ کچھ ہی سیکنڈ کے بعد وین ، موٹر کیڈ کی آخری حفاظی کار سے ٹکرا کر دھماکہ کے ساتھ ٹکرے ٹکڑے ہوگئی۔ ہر طرف اندھیر چھا گیا۔ ڈرائیور نے غیر اختیاری طور پر بریک لگائے۔ “رفتار بڑھاؤ اور مت روکو“۔ پریسیڈنٹ چلایا۔ ابھی ان کی کار ١٥٠ گز چلی ہوگی کے ٦٠ پونڈ آتشگیر اسلحہ سے لدی ہوئی ایک اور وین مرسیڈیز کے پیچھے والی حفاظی کار سے ٹکرائی۔ پریسیڈنیٹ کی کار اب دو دھماکوں کے درمیان تھی۔ زرہ بکتر مرسیڈیز کے تین ٹائر پھٹ چکے تھے۔خون اور جسمانی ٹکڑوں نےگاڑی کو لپٹ لیا تھا۔ ڈرائیور نے رفتار تیز کی اور ایک ٹائر پرگاڑی چلاتا ہوا گھر پہنچا۔ اس بار حملہ آور کامیاب ہوجاتے مگر تیسرا حملہ آور اپنی مقررہ جگہ صحیح وقت پر نہیں پہچ سکا۔ “ اس دفعہ میں بال بال بچ گیا“۔ پریسیڈنیٹ نے اس سانحہ کو یاد کر کے کہا۔
دو ہفتہ کے اندر یہ مشرف کی جان لینے کی دوسری ناکام کوشش تھی۔ دونوں حملے پاکستان کے ملٹری ہیڈ کوارٹر راولپنڈی میں ہوئے۔ یہ بات چکرانے والی تھی کہ کہ حملہ آور آتشگیر اسلحہ اس پل کے نیچے چھپا سکے جہاں سے پریسیڈنیٹ کے موٹر کیڈ کو گزرنا تھا اور جہاں حفاظتی اقدامات کی بنا پر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔حملہ آوروں نے دونوں دفعہ وہ ہی مقام چنا۔ پریسیڈنٹ مشرف ہر روز اسی راستہ سے اپنے آفس اسلام آباد کو جاتا تھا۔ حفاظت کے سخت اقدام لئے جاتے تھے۔ سڑک کو عام ٹرافیک کے لیے بند کردیا جاتا تھا تاکہ موٹر کیڈ تیزی سے گزر سکے۔ خاص طور پر کرسمس کی چھٹی کی وجہ سے اور بھی حفاظتی اقدام کیے گئے تھے۔ دونوں حملہ میں یہ بات ظاہر تھی کہ ارتکاب کرنے والوں کے پاس کھوج کے سامان تھے۔ عموماً اس قسم کی مدد کرنے والا سامان عام دہشت گر کے پاس نہیں ہوتا۔ اس شام کے کھانے کی ایک دعوت میں مشرف نے کہا۔“ اللہ کی نگہبانی ، والدہ کی دعاؤں اور قوم کی خیرخواہی کی بناء پر میری جان بچی“۔
اس میں کوئی شک نہیں کے کون لوگ اس کے ذمہ دار تھے۔ اس حملہ کو بنانے والے پیشہ وار تھے۔ اور تمام علامتیں بین الا قوامی دہشت پسندوں کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ جن کے لے جنرل مشرف ایک نشانہ ہے۔١٣ ستمبر ٢٠٠١ کو جب مشرف نے پاکستان کو امریکن “دہشت کے خلاف جنگ“ میں شامل کردیا سرکاری اعلان کے مطابق اس کو مارنے کی تین کوششیں ہوچکی تھیں ۔ لیکن عام خبروں کے مطابق یہ پانچویں یا چھٹی کوشش تھی۔ جنرل بہت سے گروہ کے لئے ایک کالی بھیڑ ہے خاص طور پر انتہا پسند اسلامی گروہ ۔
گیارہ ستمبر کے بعد مشرف نے اسلامی جنگجو گروہ کے خلاف جا کراپنی جان خطرے میں ڈال دی ہے۔ اس کی حفاظت کے اقدام سخت کردیے گئے ہیں۔ اس کے آنے جانے کی اطلاعات خفیہ ہیں اور آنے جانے کے راستوں کا انتخاب تبدیل ہوتا رہتا ہے تاکہ مشرف کا بھی وہی حشر نہ ہو جو مصر کے انوار سادات کا اسرئیل سے امن کے معاعدے کے بعد اسلامی جنگجو گروہ نے کیا تھا۔ دنیا میں جن لوگون کی سخت حفاظت کی جاتی ہے ان گنے چنے لوگوں میں اب یہ پریسیڈنی بھی شامل ہے۔ آدھا گھنٹہ پہلے اس کے آنے جانے کا راستے پر ٹرفیک بند کردیا گیا تھا اور بم اسکواڈ نے راستہ کو چیک کرلیا تھا - مگر جب کوئی اندر کا شخص ارتکاب کرنے والوں سے ملا ہوا ہو تو یہ کوششیں رائیگاں ہیں۔
آرمی ہیڈکوارٹر کے بیچ میں قتل کی کوشش بغیر اندر کے آدمی کا اسلامی جنگجوگروہ سے ملے ہوئے ممکن نہیں تھی اور پاکستان کی انٹیلیجینس برادری کو اس گروہ اور اس کے لیڈر کا نا پتہ ہونا ممکن نہیں۔ مشرف نے انٹیلجنس آگنائزیشن کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔ مگر مکمل کامیابی نہیں ہوئی۔ کچھ لوگوں کو جو اسلامی خیال پرست ہیں ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا۔ لیکن پھر بھی کچھ اسلامی خیال پرست اب بھی کافی بڑے عہدوں پر فائز ہیں اور وہ اسلامی جنگجو گروہ کی مدد کررہے ہیں۔ آخر کار یہ سامنے آگیا کے اکتوبر ٢٠٠١ میں امریکہ کے افغانستان پر حملہ کے فوری بعد مشرف کے قتل کا منصوبہ بنانے کے لیے بیس اسلامی جنگجو افراد اسلام آ باد کے ایک گھر میں جمع ہوئے جن میں بہت سے افغانستان اور کشمیر تھے۔ یہ بُلاوہ عمر سعید شیخ اور امجد حسین فاروقی کی طرف سے تھا۔ یہ وہی دو اسلامی جنگجو ہیں جنہوں نے انڈین ائر لائن کا طیارہ اغوا کیا تھا۔ قتل کا منصوبہ بنانے میں پاکستانی آرمی کی خصوصی اسپیشل فورس کے دو اشخاص بھی تھے۔
یہ یقین نہیں آتا کہ مشرف جو ملٹری انٹیلجنس میں جہادیوں اور اسلامی جنگجو گرو کا حمایتی تھا اب وہ ان کا نشانہ ہے۔ اکتوبر ١٩٩٩کی بغاوت کے دس دن بعد جنرل مشرف سے میری پہلی ملاقات اس کے سرکاری گھر میں ہوئی جو ایک سفید انگریزوں کے زمانے کی حویلی ہے ۔ یہ سرکاری گھر راولپنڈی کے لشکری شہر کے درمیان واقع ہے۔ مشرف کی شوخ مزاجی، صاف گوئی اور خوش اخلاقی جنرل ضیاالحق سے تضاد تھی۔ مشرف سے پہلے پاکستان کے انقلابی حالات کے دوران ١٩٧٧ سے ١٩٨٨ میں ضیاالحق نے آہنی شکنجہ سے حکومت کی تھی۔ برخلاف ضیا کے مشرف اچھے کپڑے پہنے کا شوقین اور موسیقی اور ناچ کا دلداد ہے۔ وہ پرانے زمانے کا غیرمذہبی آفیسر ہے۔ ایک دفعہ جب وہ عوام کے سامنے اپنے دو کتوں کے ساتھ آیا تو اس نے اسلامی انتہا پسندوں کے غصہ کو ہوا دی۔ اس کی نئی حکومت کے مسائل اور ان کے حل کے مطالق گفتگو کے دوران وہ ایک معتدل عملی آدمی نظر آیا۔ اسے کامل سپاہی کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے مگر ایسا لگا کہ وہ اس مشکل قوم کی رہبری کو ذیادہ پسند کرتا ہے۔
“ یہ ایک مشکل کام ہے ۔ لیکن آپ کو اپنے پر اعتماد ہو تو اس مشکل کام کو کرنے میں مزا آتا ہے“۔ وہ دعویٰ کرتا ہے۔
جب عوام نے اس انقلاب کا پرجوش استقبال کیا تو مشرف کا اعتماد اور بڑھ گیا لیکن انٹرنیشل کمیونٹی کا ردعمل اس تبدیلی پر نرم تھا۔ جنرل مشرف نے کہا کہ اسے مجبوراً تختہ الٹنا پڑا اور صاف طور پر کہا کہ سوال ہی نہیں اٹھتا کہ ملک واپس کی جمہوریت طرف نہ جائے۔
مشرف کا پس منظر اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ گروپ بندی میں شامل نہیں ہوتا۔ مگر اس کے مستقبل میں ایک منجھا ہوا ساستداں بنا تھا۔ مشرف دہلی کی ایک میڈل کلاس فیملی میں پیدا ہوا۔ اس کا ایک چھوٹا اور ایک بڑا بھائی ہے۔ ١٩٤٧ میں فیملی کراچی پاکستاں آگئی۔ جہاں اس کے والد فارن منسٹری میں کام کرنے لگے۔ اس کی والدہ پڑھی مسلم عورت تھیں اور کافی عرصہ تک انٹر نشنل لیبر آرگنائزیشن میں کام کرچکی تھیں۔ مشرف کو١٩٦٤ میں آرمی کمیشن ملا۔ نظم وضبط کے فقدان کی وجہ سے کچھ کی عرصہ بعد اس کو تقریباً نکالنے کی نوبت آئی تھی۔ ١٩٦٥ کی ہندوستان سے جنگ کی وجہ سے کاروائی روک دی گئ ۔ اس کے بعد جب وہ سیکنڈ لیفٹننٹ بنا تو اصولوں کی خلاف ورزی پر اس کا کورٹ مارشل ہوتے ہوتے بچا۔ ١٩٧١ میں اسے بہادری کا تمخہ ملا اس کارگردی کے باوجود بھر ایک نظم و ضبط کی کمی بنا پر لیفٹننٹ کرنل مشرف کی پوسٹ خطرے میں پڑ گئی۔
“ میرا آرمی چیف کے عہدے تک پہونچنا ایک عجوبہ ہے“۔ جنرل مشرف اقرار کرتا ہے۔
جب مشرف منگلا پر پلٹن کمانڈر کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ نواب شریف نے اس کو آرمی چیف کے عہدے کی پیش کش کی۔ حالانکہ اس عہدہ کا مستحق جنرل قلی خان تھا جس کی ملٹری تعلیم سینڈہرسٹ میں ہوئی تھی۔ جنرل قلی خان کا تعلق ایک طاقت ور پٹھانی سیاسی فیملی سے تھا - یہ وجہ دو میں سے ایک تھی کے نواب شریف، قلی خان کو آرمی چیف کا عہدہ دینے سے ہچکچایا۔ دوسری وجہ قلی خان کی جنرل وحید خان سے قربت۔ جنرل وحید خان نے نواب شریف کو ١٩٩٣ میں پرائم منسٹری چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ مشرف اس کی بہ نسبت مہاجر اقلیت سے تعلق رکھتا تھا نواب شریف نے ایسا سوچا۔ اور یہ بات نواب شریف کے حق میں تھی۔ مشرف کو نواب شریف کو یقین دلانے میں کو ذیادہ وقت نہیں لگا کہ وہ اس کی طرف ہے۔
آرمی کے چیف آف اسٹاف کی حیثیت سے جنرل مشرف ایک خفیہ ملٹری آپریش میں شامل تھا جو پرائم منسٹر کی لاعملی سے ہورہا تھا اور جس کےگہرے اثرات تھے۔ جب مئی کےموسم سرما میں انڈین فوج برفانی کارگل کی چوٹیوں سے اپنے مقبوضہ علاقوں میں لوٹی ، پاکستان کی آرمی نے ان کی جگہ لے لی۔ اس نے نواز شرف کو حیران کردیا اور یہ حادثہ اس کا سر درد بن گیا۔ نہ صرف انڈیا سے جنگ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا بلکہ امریکن پریسیڈنٹ کے مجبور کرنے پر اسے انڈیا کو ذلت آمیز مراعات دینی پڑیں بلکہ اندرونی طور پر اس کی حکومت کمزور ہوگئی۔
اسلام آباد کی غیر فوجی اور راولپنڈی کی فوجی لیڈر شپ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے نوازشریف نے جنرل مشرف کو چیئرمین جوائنٹ اسٹاف کی بھی ذمداری سونپ دی اور مشرف کو یقین دلایا کہ وہ اس کو نہیں نکالےگا۔اُس نے ایسا مشرف کو غیر مشکوک رکھنے کے لیے کیا۔ مشرف اس داؤ میں نہیں آیا اور اس نے ایک سینئر پلٹن کمانڈر کو صرف اس بات پر نکالدیا کہ وہ مشرف کی بغیر اجازت نواز شریف سے جاکر ملاتھا۔
١٩٩٩ میں باوجود اس کے کہ کشدگی جاری تھی مشرف نے سری لنکا کے آرمی چیف کی ایک پرانی دعوت قبول کرلی۔ ایک ماہ قبل آرمی کے لیڈر یہ منصوبہ بنا چکے تھے نواز شریف کے مشرف کو نکالنے کے جواب میں کیا کریں گے۔ مشرف نے اپنے طرفدار بریگیڈ یرصلاح الدین ساٹی کو ١١١ بریگیڈ کا زمدار بنادیا تھا۔ اس بریگیڈ کی ذمہ داری اسلام باد کی حفاظت کرنا تھا۔ ملٹری کا حکومت پر قبصہ کرنے کے ارادہ کی صورت میں اس بریگیڈ کی ذمہ داری اسلام آباد پر قبضہ کرنا تھا۔ ملٹری انٹیلیجیس نواب شریف کی حرکات پر نظر رکھ رہی تھی۔جنرل عزیز، چیف آف اسٹاف نے مشرف کو یقین دلایا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
واپسی کی فلائٹ پر جنرل مشرف اس بات پر نؤٹس بنارہاتھا کہ آرمی ملک پر حکومت کرنے میں کیا کیسے مفید ہوسکتی ہے۔ جیسے ہی مشرف کا طیارہ پاکستاں کی حدود میں داخل ہوا کراچی کے کنٹرول ٹاور نے ظیارہ کے پائلٹ کو اطلاع دی کہ وہ پاکسان میں نہیں اتر کرسکتا۔ ٦ بج کر پچاس پر بریگیڈ ئیر تاج نے مشرف کو بتایا کہ پائلٹ اس سے بات کرنا چاہتا ہے۔ طیارے کے پائلٹ کیپٹن سرور نے مشرف کو کراچی کنٹرول ٹاور کے پیغام سے آگاہ کیا۔ بعد میں اس واقعہ کو یاد کرتے ہوے مشرف نے ایک دفعہ کہا تھا۔“ شاید یہ میری ٣٥ سالہ فوجی ملازمت سب سے زبردست امتحان تھا“۔
دو بجے ہونگے کہ پرائم منسٹر پنجاب سے اسلام آباد کی طرف ہوا میں سفر کررہا تھا۔ یہ وہی وقت ہے جب مشرف کولمبو، سری لنکا سے اپنے جہاز میں چڑھا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ پرائم منسٹر اپنی کسی سوچ میں گم تھا۔ ائیرپورٹ پر ڈیفینس منسٹر ریٹائرڈ لفٹینینٹ جنرل علی خان ج اس کا انتظار کرہا تھا۔ پرائم منسٹر کی رہائش کی جانب سفر کرتے ہوئے نواز شریف نے اس سے کہا کہ میں نے مشرف کو نکال دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ حیرت ذدہ ڈیفینس منسٹر نے پوچھا کیا اس وقت تک انتظار نہیں کیا جاسکتا کہ مشرف واپس آجائے۔ “ نہیں میں نے جنرل ضیا کو نیا آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے“۔ پرائمنسٹر نے جواب دیا۔ ایک سابقہ سینیر ملٹری آفسر کی حیثیت سے جنرل علی خان اس فیصلہ سے پیدا ہونے والےنتائج دیکھ سکتا تھا۔ لیکن شریف نے جواء کھیل لیا تھا۔ ایک سال ہی تو ہوا اس نے ایک دوسرے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو برخواست کیا تھا۔ اور اس کامیابی نے اس کا اعتماد بڑھا دیا تھا کہ وہ ایسا کرسکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ مشرف کا طیارہ اترے وہ نئے آرمی چیف کو مشرف کی گدی پر بیٹھانا چاہتا تھا۔٥ بجے شام اس نے جنرل ضیا کے تقرری کے آرڈر دے دیئے اور یہ اہم فیصلہ آرمی کے اس پلان کو عمل میں لادیا جو مشرف نے اپنے بچاو کے لئےایک ماہ پہلے بنایا تھا۔
شریف نواز کے فیصلے کی خبر راولپنڈی کے پلٹن کمانڈر لفٹینینٹ جنرل محمود اور چیف آف اسٹاف لفٹینینٹ جنرل محمد عزیز کو اس وقت ملی جب کہ وہ دونوں ٹینس کھیل رہے تھے ۔ دونوں جنزل راولپندی کے جنرل ہیڈ کوارٹر کی طرف دوڑے تاکہ وہ اپنی حمایتی فوجوں کو بغاوت کے خلاف حرکت میں لائیں۔ موقع حال صاف نہیں تھا کون کس طرف ہے ۔ پرائم منسٹر ہاوس میں پھنسا جنرل ضیا الدین نئے عہدے بانٹ رہا تھا۔ بلا تامل وہ کمانڈروں کو اپنی طرف لانے کی کوشش کررہا تھا۔ اس نے نکالے ہوے جنرل عزیز اور جنرل محمود کی مدد بھی چاہی۔ لیکن دیر ہوچکی تھی۔ برگیڈئیر ساتی کا ١١١ برگیڈ پرائم منسٹر ہاوس کا احاطہ کرنے روانہ ہو چکا تھا۔ ریڈیو پاکستان کی نشریات کے بند ہونے سے عوام میں افراتفری ہونی شروع ہوچکی تھی۔ ایک گھنٹہ کے اندر یہ پتہ چل گیا کہ نواز شریف ہار رہا تھا۔ لیکن وہ ابھی ہار کے لئے تیار نہیں تھا۔ اس کے خیال میں اگر مشرف کا ملک سے باہر رکھا گیا تو ذیادہ کمانڈر اس کی طرف آجائیں گے۔
کراچی ائر پورٹ پر ملٹری آفسیر کے درمیان افراتفری تھی کہ کون وہاں ہے جو چیف کی خوش آمدید کرے گا۔ کئی دفعہ اسٹاف کار سے جھنڈا اتارا اور لگایا گیا ۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے لینڈینگ لائٹس کو آف کردیا اور رن وے پر فائر ٹرکوں سے روکاوٹیں پیدا کیں۔ شام کے سات بیس پر ملیر کی چھاونی سے آرمی نے آکر ایرپورٹ کا نظام چھین لیا۔ مشرف کے پی کے ٨٠٥ کو ہوا میں رکھنے کے لیے صرف آدھا گھنٹے کا پیٹرول باقی تھا۔ اور مشرف کو بالکل پتہ نہیں تھا کہ نیچے کیا ہورہا ہے۔ اس کے جہاز کا رخ دو سو میل دور نواب شاہ کے چھوٹے ائرپورٹ کی طرف موڑ دیا گیا۔ اس وقت کمانڈینگ آفیسرمیجر جنرل افتخار نے مشرف کو بتایا کہ آپ کراچی ایرپورٹ واپس آئیں۔ ہم نے ائر پورٹ کا نظام اپنے قبضہ میں لے لیا ہے۔ مشرف جہاز سے اترتے وقت تک حالات کا علم نہیں تھا۔ اس نےفوراً مقامی کمانڈر عشمانی سے بات کرنی چاہی۔ رات تک ملٹری کی بغاوت کامیاب ہو چکی تھی۔
مارچ ٢٠٠٠ میں نواز شریف جیل میں تھا۔ لیکن فوراً ہی سعودی حکومت کے دباؤ پر مشرف نے اس کی سزا ملک بدر میں تبدیل کرکے اس کو جدہ روانہ کردیا۔ ١٠ دسمبر کو کالے رات کےاندھیرے میں سولوی صدی کے بنے ہوئے ملٹری قعلہ کی جیل سے سعودی سفارت خانے کی ایک کالی مرسیڈیز پرائم منسٹر کو لئے گی۔ آدھی رات کو ایک اعلان میں حکومت نے کہا کہ مشرف کی عمر قید کو ملک بدری میں تبدیل کیا گیا ہے اور اس کی آٹھ ملین کی ملکیت ضبط کرلی گی ہے۔ اور معاعدے کہ مطابق وہ اکیس سال تک سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا ۔
کچھ دنوں بعد ایک ملکی نشریات میں مشرف نے اپنے فیصلہ کی وجہ سیاسی نفرت کو ختم کرنا بتائی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے لوگوں کو خبردار کیا کہ ملک بدر فیملی ١٠ سال تک ملک واپس نہیں آسکتی۔
اگرچہ نواز شریف کی رہائی، سعودی شاہی فیملی کی کوشش تھی۔ مگر ان کو امریکہ کی طرف داری حاصل تھی۔ کلینٹن ایڈمینسٹریشن کو آسما بن لادن کی گرفتاری کی کوشش میں نواز شریف سے کافی مدد ملی تھی۔ اس بغاوت سے کچھ ہی مہینہ پہلے اس نے اس بھاگے ہوئے سعودی کو گرفتار کرنے اور جنگجو اسلامیوں پر سختی کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ امریکہ نے نواز شریف کی حکومت کو ٢٥ میلین ڈالر دے تھے تاکہ پاکستان انٹر سروس انٹیلیجینس ، آسما بن لادن کو گرفتار کرنے کے لیے ایک کمانڈو فورس تیار کرئے۔ انڈیا سے تعلقات بحال کرنے اور پاکستانی فوج کو کارگل سے واپس لانے پر نواز شریف کو امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔ اس لیے یہ تعجب کی بات نہیں تھی جب امریکہ نے نواز شریف کے لئے عام معافی کا مطالبہ کیا۔عجیب بات ہے کہ جس شحص نے امریکہ سے اس کا اس علاقی مطیع دوست چھین لیا ، وہی امریکہ کی فارن پالسی کے لئے اپنا پاور، اپنی زندگی لگادے گا۔
١٢ اکتوبر پاکستان کی تاریخ میں ایک داستاں ہے۔ کھبی تحکمانہ حکومت چنے ہوئے لیڈر کرتے ہیں اور کبھی تحکمانہ حکومت آرمی کےآفیسر ۔ پاکستان سول لیڈروں کی نا اہلیت سے بیزار تھے۔ انہوں نے مشرف کی حکومت کو احتیاط کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ جنرل مشرف کے لیے یہ صورت دوسرے پاکستاں آرمی کے جنرلوں سے مختلف تھی ۔ ایک ملک جس کے پاس اٹیمی بم تھا۔ اور نسلی اور فرقہ پرستی کا شکار تھا۔ سالا ہا سال کی مالی بے انتظامی ، بے ترتیبی اور بد چلنی کی بنا پر اس کا دیوالیہ نکل رہا تھا۔
اس دفعہ ملٹری کا سول حکومت سے قبضہ چھینا مختلف تھا۔ مشرف نے پریس اور سیاست کی آزادی کو برقرار رکھا ۔ایسا لگا جیسے وہ “ نیک نیت“ حکمران ہے۔ اس نے سیاسی مخالفت کو کچلنے کے لئے مارشل لا یا دوسرے زورآور طریقے نہیں استعمال کئے۔ ترکی کے غیر مذہبی بانی مصطفٰی کمال اتاترک سے متاثر مشرف نے اپنے آپ کو ایک اصلاح کار کی طرح پیش کیا جو پاکستان کو آزاد خیال راستہ پر لائے گا۔ جنرل مشرف ملٹری حکمران کے بجائے ایک پہلے پاکستانی ملٹری حکمران فیلڈ مارشل ایوب خان کی طرح لگا ۔ عوام نے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا جب اس نے اپنی پہلی بڑی پالیسی کی تقریر میں سات نکات پیش کئے جن میں اسلامی انتہا پسندی اور فرقہ پرستی کو جڑ سے نکالنے بھی شامل تھا۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ پاکستان میں جنرل ضیا کی انتہا پسند میراثت کو ختم کرکے پاکستان کو ایک تعدل پسند اسلامی ملک میں تبدیل کردے گا۔ جب اس نے اپنی حکومت میں آزاد خیال ، مغرب میں تعلیم یافتہ لوگوں کا شامل کیا لوگوں کی امیدیں بڑھ گئیں۔ یہ آزادنہ خیالی ، اسلامی انتہا پسندوں سے پریشان بین الاقومی ملکوں کو اپنے ساتھ کرنے کے لیے ضروری تھی۔ لیکن مشرف کی پالیسیاں بعیدالعقل تھیں۔
مشرف کی پہلی بڑی پالیسی کی نامطابقت ، محقق علوم اسلامیہ سے لڑائی میں کھل گئی۔ اپریل ٢٠٠٠ میں جب مشرف نے جب مشہور “ کلمہ کفر “ کے قانون میں تبدیلیاں لانے کی کوشش کی اس نے اپنے آپ کو کٹر مسلمانوں کے گروپوں کے مقابل پایا۔ یہ قانوں ١٩٨١ میں جنرل ضیا نے ملک کو کٹر اسلامی ملک بنانے کے لیے نافذ کیا تھا۔ اس قانوں کے تخت کوئی بھی کیسی شخص کے خلاف الزام لگا کر کہ اس نے قران یا رسول کی بے حرمتی کی ہے اس کو گرفتار کرا سکتا ہے۔ یہ وہ قانون تھا جس میں سزائے موت تھی۔اور ملّا ، اسے اپنے دشمنوں ، خاص طور پر عسائیوں اور آزاد خیال لوگوں کے خلاف استعمال کرتے تھے۔
مشرف نے اس قانون کی کاروائ میں تبدیلی چاہی تھی۔ اس تبدیلی میں تجویز کیا گیا تھا کہ قانونی کاروائی مقامی ایڈمیشٹریشن کی تخقیق کے بعد کی جائے گی۔ صرف ایک طریقہ کار کی تبدیلی نے مذہی جمیعت کو بھڑکادیا۔ انہوں نے تجویز کو استعمال کرکے مشرف کی حکومت پر حملے شروع کردیے۔ پزاروں مُلّاوں کو مانے والوں نے کراچی اور دوسرے شہروں میں ہنگامے کیے اور ضیا کے نافذ کیے ہوئے اسلامی قانون کی حفاظت کے عہد کئے ۔ایسا لگتا تھا کہ پاکستان کا مالی اور تجارتی شہر کراچی مذہی جمیعت کے قبضہ میں ہے۔ مئی ٢٠٠٠ میں کئی دنوں تک کراچی کا کاروبار ڈھپ ہوگیا۔
مشرف کے لیے یہ پہلا امتحان تھا جب اس نے ملک کو ضیا کی وراثت جدا کرنے کی کوشش کی۔ اس نے اس دباؤ پر تیزی سے اپنی تجویز واپس لے لی۔ اس طرح ہار مان لینے پر ماڈریٹ کا اس پر اعتیبار مجروع ہوا۔ اسلامی انتہا پسندی سے مقابلہ میں مشرف کا ایک قدم آگے اور ایک قدم پیچھے جانا ، مشرف کی خاصیت بن گیا۔ ملٹری حکومت کا اسطرح دفاعی طور پر پیچھے ہٹنے سے اسلامی انتہا پسندوں کو اور بھی ہمت بڑھی۔ اور اب انہوں نے ایک مکمل اسلامی نظام کے مطالبے شروع کردیے۔
سب سے ذیادہ خطرے کی بات یہ ہے کہ مشرف کی حکومت کے پہلے سال جہادی آرگینائزیشن کا حوصلہ بڑھ رہا تھا۔ ان کا اثر کلمہ کفر کی لڑائ کے بعد بڑھ گیا تھا۔ سیکڑوں مسلح جہادیوں نے اس احتجاج میں حصہ لیا - یہ لوگ پاکستان انٹیلیجینس سروس کی مدد سےعرصہ دراز سے کشمیر اور افغانستان میں لڑ رہے تھے۔ ان کی پہنچ پاکستان انٹیلیجینس سروس میں گہری تھی۔ اور یہ ہی وجہ تھی کہ ملٹری ان سے پنگا لینے کے لیے تیار نہیں تھی۔ ملٹری حکومت اندرونی معملات میں تقسیم اور ان کی اسلامی انتہا پسندوں کی کشمیر میں مدد نے ایک بے یقینی اورا فراتفی کاماحول پیدا کردیا تھا۔
کلمہ کفر پر اختلاف نے ملٹری لیڈر میں بھی تقسیم کردی۔ وہ جنرل ، جنہں جہادیوں سے ہمدردی تھی انہوں نے کھلے عام ان اسلامی انتہا پسدنوں سے ہمدردی ظاہر کی۔ وہ اسلامی قانون میں کسی بھی تبدیلی کے خلاف تھے۔ بیس سال کی افغانستان کی جنگ اور کشمیر کی جدوجہد نے ایسے لوگ پیدا کیے تھے جو خود کو اسلام کا محافظ سمجھتے تھے۔ ملکی پالیسیوں میں تضاد اور ابتری سے یہ ثابت ہوا کہ ملک میں ایک سے ذیادہ لوگ حکومت کررہے ہیں۔
اس بے یقینی سیاسی حالات نے انتہا پسند اور قدامت پسند وں کو بڑھنے کا موقع دیا۔ وہ جہادی گروپ اور فرقہ پسند جنہیں ملٹری کی حمایت حاصل تھی وہ دونوں مل گئے اور وہ پیراملٹری کے گروپ آٹومیٹیک اسلحہ کے ساتھ عوام میں آنے لگے۔ یہ لوگ مذہبی اسکولوں ۔۔۔ مدرسوں میں چھا گئے۔
وہ ملٹری آفیسر جہنوں نے مئی ١٩٩٩ میں کارگل پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس ملٹری بغات نے ان کو بڑ ھا دیا۔ اب مشرف نے جنگجوی انداز میں کشمیر کی پالسی کی پیروی شروع کردی۔ باوجود اس کے کہے ہوئے الفاظ کہ اس کی پالیسیاں غیر مذہبی ہیں اس نے افغانستاں کے مجاہدین کی مدد میں اضافہ کردیا۔ جب ایک انڈین ائیر لائن جو کھٹمنڈو، نیپال سے ننی دہلی جارہی تھی اغوا کر لی گئی۔ ١٩٩٩ کے آخر میں انڈیا اور پاکستان میں تناؤ اور بھی بڑھ گیا۔ اس میں سانحہ میں پاکستان انٹیلیجینس پر شبہ ہوا ۔ امریکہ ، پاکستان کو ایک دہشت پسند ملک کا درجہ تک دینے والا تھا۔
جنوری ٢٠٠٠ میں امریکہ کے سینئر آفیشیل سے ایک وفد نے ان جنگجو اسلامی گروہ کو قابو میں لانے کا مطالبہ کیا جو دہشت پھیلا رہے تھے۔ ان کا مطلب صاف تھا اگر پاکستاں حرکت المجاہدین کو غیر قانونی قرار نہیں دیا تو اس کو دہشت پسند ملکوں میں شامل کردیا جائے گا۔ امریکہ کو یقین تھا کہ حرکت المجاہدین ، انڈیا کے طیارے کو اغوا کرنے کی ذمدار ہے۔
یہ پہلی دفعہ نہیں تھا کہ امریکہ نے پاکستان سے اس کی اور افغانستاں کی سرحد کا ان انتہا پسند اسلامی کا اڈا بن جانے کے مطلق اور ان لوگوں کے مطلق اپنی تشویس ظاہر کی تھی جو کے دنیا بھر میں دہشت گری کررہے تھے ۔ طیارے کے اغوا اور کچھ انتہا پسند اسلامی جن کا تعلق افغانستان اور پاکستان سے تھا ان انتہا پسند اسلامی کے امریکہ ، اردن اور دوسرے ملکوں میں پکڑے جانے کے بعد اس دباؤ نے شدت اختیار کرلی۔ ٢٠٠٠ کے شروع میں کارل اندرفرتھ اس وقت کے یو ایس اسیسٹینٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ نے پاکستان کے لیڈروں کو کہا کہ امریکہ پاکستان انٹیلیجنس سروس اور حرکات المجاہدین کے تعلق سے خوش نہیں۔ اگرچہ یو ایس آفیشل نے روائٹ ایکٹ کا ذژکر نہیں کیا مگر ان کی تنبہہ صاف تھی۔ اگر پاکستان کی ملٹری حکومت اور جنگجو اسلامی گروہ کو قابو میں نہیں رکھےگی ۔ پاکستان کی ورلڈ بنک اور انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ سے مدد ختم کردی جائے گی۔
مشرف نے یہ مانے سے انکار کردیا کہ کشمیر میں لڑنے والی تنظیمیں دہشت پسند ہیں اور امریکہ پاکستان انٹیلیجنس سروس کا ان سے کوئی تعلق ہے۔ اس نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت پسند اور آزادی کے خلاف جنگ کرنے والے ایک نہیں ہیں۔ امریکہ اور اسلام آباد کے درمیان رنجیشیں اور بھی بڑھ گئیں جب کارل اندرفرتھ نے ایک پریس کانفرینس میں یہ بات دہرائی ۔
مشرف نے اس مطالبہ کو بغیر ہاں یا نا کہے ٹال دیا۔ اس کی توجہ اس وقت ملک کے اندورنی معلامات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے پر تھی۔اور یہ صاف ظاہر ہوا جب اس نے چیف ایزیکٹیو کا خطاب چھوڑ کر پریسیڈنٹ کا عہدہ سنھبال لیا۔ اس نے اسلام آباد میں پریسیڈنٹ کے ماربل سے سجے عظیم محل میں یونیفارم کے بجائے کالی شروانی میں حلف اٹھایا۔ اس دربار ہال میں کیشدگی تھی ۔ اس دربار میں حاضر وزراء اور حکومت کے سینئر لوگوں کو یہ خبر ، اخباروں سے ملی تھی۔ برطانیہ اور امریکہ کے سفیر موجود نہیں تھے۔ یہ دوسرا انقلاب تھا جن مشرف نے خود کو صدر بنالیا تھا اور ایک چنے سربراہ رفق طرار کو نکال دیا۔ اور پارلیمنٹ جو دو سال سے شش و پنج میں تھی اس کوختم کردیا۔
پریسیڈنٹ کے حلف کی خبر پلٹن کمانڈروں اور کابینہ سے ایک دن پہلے تک چھپائی گئی۔ صرف تین جنرل، پاکستان انٹیلیجنس سروس کا چیف لیفٹینینٹ جنرل محمود احمد، چیف آف اسٹاف لیفٹینینٹ جنرل محمد یوسف اور چیف آف آرمی لیفٹینینٹ جنرل غلام احمد کو اس بات کا علم تھا۔ پاکستان کا وزیر خارجہ عبدل ستار اس وقت امریکہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کوہن پاول کے ساتھ میٹنگ میں تھا۔ میٹینگ ختم ہونے کے بعد اسے اس تبدیلی کا پتہ چلا۔
امریکہ اور دوسرے مالک نے مشرف کے اس قدم کی مذمت کی۔ ان کی نظروں پاکستان ، جمہوریت سے ایک اور قدم دور ہوگیا۔ یہ اس وقت ہوا جب کہ پ پریسیڈنٹ بُش امریکہ اور پاکستان کے رشتہ استوار کرنے کے اشارے کررہا تھا۔ اور وہ اقدام جو پاکستان کے اٹیمی تجربہ کے بعد عائد کے گئے تھے ان کو ختم کرنے کی سوچ رہا تھا۔ ایک سینر آفیشل کے کہنے کے مظابق “ کام اب رک جائے گا“ برطانیہ جس نے ملٹری بغاوت کے بعد پاکستان کو کامن ویلتھ سے نکال دیا تھا اس نے بھی پاکستان سخت لفظوں میں مذمت کی۔
لیکن گیارہ ستمبر کے واقعات نے مشرف کو ایک موقع دیا کہ وہ دنیا سے علحیدگی کو ختم کرسکے۔ “ تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف ہو“ بُش کی اس سوچ نے مشرف کو اور کوئی ذریعہ نہیں چھوڑا۔ اس نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ اس قدم نے پاکستان کو پھر سے بیچ میدان میں لا کر کھڑا کردیا جسکا کے پہلے روس کے افغانستان پر حملہ کرنے کے وقت ہوا تھا۔ جس مشرف کو پہلے ایک ملٹری حکمراں کہا جاتا تھا ۔ اب وہ مغرب کا دوست تھا۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ پاکستان کو اسلامی انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نجات دلائے گا۔
پالسی بنانا ایک بات ہے اور اس پر عمل کرنا دوسری بات۔ مشرف کے خلاف نہ صرف بیرونی قوتیں تھیں بلکہ وہ لوگ بھی جن نے دوست ملٹری میں تھے۔ مشرف کو پتہ چلا کہ دسمبر ٢٠٠٣ کو پتہ چلا کہ یہ راستہ بہت ہی تنگ اور دشوار ہے۔
مرسلہ: جمعرات جنوری 10, 2008 6:32 am
آخری بار تفسیراحمد نے جمعرات جون 05, 2008 7:55 pm کو; 1 بار مدون کیا
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
پاکستان کا ناپاک اتحاد
لڑاکا اور فوج
اسلام آباد کے شہر کی بیچ میں اونچےاحاطہ کی ایک بلڈنگ ہے جس پر سخت پہرہ رہتا ہے۔ لیکن دارلخلافہ میں ہر شخص کو پتہ ہے کہ یہ پھیلا ہوا علاقہ جس کےارگرد کانٹےدار رکاوڑیں ہیں ڈائریکٹریٹ آف سینٹرسرویسس ینٹیلیجینس ( آئی۔ایس۔آئی ) کا دفتر ہے۔ یہ جاسوسی ایجنسی ملک کےلیے بڑے بھائی کی طرح ہے۔ اس طاقتور اور حاضر و ناظر ایجینسی کو سنیٹرل گورنمنٹ نے اتنے اختیارات دے رکھے ہیں کہ یہ ایک ملک کےاندر ایک ملک گئی ہے۔ نا صرف یہ جاسوسی کرتی ہے اور انفارمیشن جمع کرتی ہے بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی سےمتعلق فیصلہ کرتی ہے اور ان فیصلوں کو عمل میں لانے کی ذمہ دار ہے۔ پاکستان میں حکومت کرنے کے لیے ہر سول اور ملٹری حکومت کو ایسے ایجنسی کو اپنی طرف رکھنا پڑتاہے۔ یہ ایجینسی اتنی طاقتور ہے کے اپنےاصول خود بناتی ہے۔ اس کے سابق چیف اگرچہ ایک دوسرے سےمختلف تھے مگر ملک کے تمام محکموں میں سب سےذیادہ بارسوخ حیثیت رکھتےتھے۔ افغانستان اور کشمیر میں وہ سالوں سرکاری حکومتوں کو قائم اور تباہ کرنے کی مخفی کاروائیاں خود مختاری سے کرتے رہے۔
بیس سال سے آئی۔ایس۔آئی جنگجواسلامی گروہ کو اپنی پیدا کردی جنگوں میں استعمال کررہے ہیں۔ آئی۔ایس۔آئی، امریکہ کی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی ( سی۔آئی۔اے ) کی سویٹ یونین کوافغانستان سے نکالنےاور کمیونسٹوں کی کمرتوڑنے کی کوشش میں پارٹنر تھی۔ افغانستان اور کشمیر میں اس ایجنسی نے یہ سبق حاصل کیا کے وہ خفیہ جنگیں جن کو جھٹلایا جاسکتا ہے، ایک طاقتور دشمن کو ہرانےمیں موثر ہیں۔ آئی۔ایس۔آئی، پاکستان کی ملٹری کا ایک حصہ ہے اور ملٹری کی ملک کی اندرونی سیاست میں مداخلت کا ذمہ دار بھی ہے اور اپنےآپ کو ملک کی نظریاتی حدود کا محافظ قرار دیتی ہے۔ تمام آئی۔ایس۔آئی کے آفیسر ملٹری میں سے آتے ہیں جو ایک معین وقت آئی۔ایس۔آئی میں کام کرنے کے بعد واپس ملٹری میں متعین کئےجاتے ہیں۔ اس کی کچھ مستثنات ہیں۔
بیرونی ملک میں جہاد کی سرپرستی کا آئی۔ایس۔آئی پرالٹا اثر بھی ہوا۔ انہوں نےجنگجو اسلامی گروہ کو اپنے ملک میں اپنی کارو ائیوں کرنے کے لیے ایک بڑی جگہ دی ہوئی تھی۔ حکومت کی سرپرستی ملٹری اور ملاؤں میں اس “ ناپاک اتحاد“ کی وجہ سےانتہا پسند پرست اسلامیوں کو غیرمعمولی فروغیت حاصل ہوئی۔ یہ جنگجواسلامیت اور مذہبی انتہا پسندی، آئی۔ایس۔آئی کی وجہ سے ہے جس کا سامنا آج مشرف کو کرنا پڑرہا ہے۔ یہ ناپاک اتحاد ہی پاکستان میں بنیادی اسلامیت کے پھیلاو کی وجہ ہے۔
آئی۔ایس۔آئی کا بنانے والا برطانوی آرمی آفیسر میجر جنرل آر کاوتھوم تھا جو ١٩٤٨ میں پاکستان میں ڈپٹی چیف آف آرمی کےعہدے پرفائز تھا۔اس وقت ایجنسی کا کام ملک کےاندر اور باہرخفیہ طور پرمعلومات اکھٹا کرنا تھا۔ اسکےدائرہ اختیار میں قومی حفاظت کےتمام کام شامل تھے۔ ١٩٦٠ تک آئی۔ایس۔آئی گمنام رہی اور صرف اپنی دیئے ہوئےاختیارات کی حدود کام کرتی رہی۔ افسوس کی بات ہے کہ ایک سول لیڈر ذالفقارعلی بھٹو نے١٩٧٠ میں آئی۔ایس۔آئی میں ایک سیاسی سیکشن بنا کراس کی ذمداروں میں ملک کی سیاست کو بھی شامل کردیاتھا وہ کچھ سالوں بعد اس کےعتاب کا شکار ہوا ۔آئی۔ایس۔آئی نے بھٹو کی حکومت کو ختم کرنےمیں ایک بڑا حصہ لیا۔ اور آنے والےسالوں میں آئی۔ایس۔آئی نےملک کی سیاسی زندگی پراندھیرا کردیا۔
١٩٧١ مشرقی پاکستان ( اب بنگلہ دیش ) کےانڈیا کی مدد سےعلحیدگی کے بعد مقناطیسی اورعوام میں مقبول بھٹو کی حکومت کو ذلیل کی ہوئی فوجی اور برحمی سےقلم کیا ہوا پاکستان ملا جو اپنی یکسانیت کی تلاش میں تھا۔ پاکستاں اپنی خانہ جنگ اور انڈیا ملٹری کی مداخلت سے بٹا ہوا تھا۔ اب یہ محمد علی جناح کا پاکستان نہیں تھا۔ اس ہار کی ذلت سےنکلا ہوے زخمی پاکستان کو ایک نئی جغرافیائی سیاست اور واضع سمت کی ضرورت تھی۔ جنگ میں ذلت کے بعد ایک بغاوت نے بھٹو کو حکومت جنرل یحییٰ کو سونپنی پڑی۔ بھٹو کا حکومت کرنے کا حق ١٩٧٠ کےجمہوری الیکشن میں جیتنا تھا۔ بھٹو کی سوشلیست پاکستان پیپلس پارٹی نےاس وقت پاکستان کےمغربی حصہ میں اسلامی پارٹیوں کو شکست دی ۔
سندھ کےجاگیردار کا بیٹا اور ایک سابقہ وزیرخارجہ، عوام نے بھٹو کوتمام مسائل سےنجات دلانے والا راہنما سمجھا اس نے مشرقی پاکستان کی جنگ کےدوارن میں قید ہوے نوے ہزار پاکستانی فوجیوں کو انڈیا سے مذاکرات کرکے رہائی دلوائی۔ ١٩٤٧ میں پاکستان کے بنے سےلیکر اس وقت تک بھٹو ہی ایک ایسا لیڈر تھا جس کو عوام کی سب سے بڑی اکثریت کی حمایت حاصل تھی۔ لیکن وہ اس اعتماد کو رکھنےمیں ناکامیاب رہا۔ وقت نے بھٹو کو ایک بڑا موقع دیا تھا کہ وہ معاشراتی جمہوریت اور غیرمذہی خیالات اور ادارہ قائم کرے۔ بھٹو کا منصوبہ تھا کہ اس بکھرے ہوئےمعاشرے کےمختلف عناصر کو ایک طرح کے اسلامی قومیت پرستی کےجھنڈے تلےجمع کیا جائے۔ جو سوشل معاشیات کی تبدیلیوں کے لئےضروری ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ بھٹو کی وجہ سےمذہی انتہا پسندوں کو مدد ملی۔ اپنی طرف لانے کے لیے بھٹو نےمذہبی پارٹیوں کےدباؤ کی وجہ سےاسکول کے نصاب میں مذہبی تعلیم کا اضافہ کردیا اور سعودی عربیہ کےدباؤ پرایک اسلامک فرقہ احمدی کونامسلم قرار دے دیا۔ یہ قدم جومعمولی اور بےضرلگتا ہے اس نےاسلامی تن دی کی آگ کو ہوا دی۔ اور فرقہ پرستی میں تیزی ڈال دی ۔ بھٹو کی ان مذہبی عناصر کا ساتھی بنانے کی وجہ سے ان لوگوں کی ہمت اور بھی بڑھ گئی اور آخر میں وہ انہوں اپنے روائتی طرف داروں سے مل کر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔
بھٹو کےحکمانہ انداز نےاس کو ملک کے سنگین اوزار اور انٹلیجنس ایجینسیوں کواستعمال کرنے کی طرف ترغیب دی۔ بھٹو نےایسے جمہوری اداوں کو مضبوط کرنےاور قائم کرنےمیں توجہ نہیں دی جن کی وجہ سے جمہوری نظام مضبوط ہو۔ اس کے بجائے اس کی ساری کوشش خود کی ذاتی حکومت کو ابھارنے میں لگی۔ اس کو کسی پر بھی بھروسہ نہیں تھا۔ اپنی خلل دماغی اور اندیشوں کی وجہ سےاس نے انٹرسرویس انٹیلیجینس کو نہ صرف اپنے مخالفوں پر نگرانی رکھنے کے لیےاستعمال کیا بلکہ اپنی پارٹی لوگوں اور مشیر کونسل پر بھی نگرانی کروائی ۔ ایجینسی نےسیاسی لیڈروں ، اعلیٰ عہدہ پر سرکاری ملازموں، ججوں اور کوئی بھی دوسرے جو اہمیت رکھتا ہو کی خفیہ نگرانی شروع کردی۔
جمہوری اداروں کا ٹوٹنا اور آئینی حفاظت کے ناموجود ہونے نے افراطرفی پیدا کردی ۔ بھٹو نے بلوچیستان میں بغاوت کو کچلنے کے لیے پاکستانی فوج کو استعمال کیا۔ جس نےملٹری کوسیاست میں دخل اندازی کی اجازت دے دی۔ بھٹو کی خودغرضی اور مذہبی طرفداری نے ان اسلامی عناصر کو ابھرنے کا موقع دیا جو ١٩٧١ کی الیکشن سے باہر تھے۔ اسلامی عناصر کو ایک اور موقع ملا۔ ایک داہنی طرف والی اسلامی پارٹیوں کے ایک بین الملکی بلوہ ، فساد نے اس کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسلامی جمعیت کوخوش کرنے کے لیے بھٹو نے شراب کے بھیچنے، استعمال پر اور جواء پر پابندی لگادی اور نائٹ کلب بند کردئے۔ لیکن اسلام عناصراس سے بدضن ہوچکے تھے۔
بھٹو نے ملٹری کے اعلیٰ آفیسران کو نظرانداز کرکےایک نامعلوم آفیسرجنرل ضیا خان کو انیس سو اکیاسی میں آرمی چیف کی پوسٹ یہ سوچ کردی کہ ضیا میں ذاتی مفاد کے لیےآگے بڑھنے کی خواہش نہیں ہے اور مجھے اس سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ ضیا ایک کٹر مسلمان تھا اور بھٹو نےسوچا کہ اس کے بھروسہ کو نہیں توڑے گا۔ آرمی چیف بنتے ہی ضیا نے کٹر اسلامی گروپوں سےتعلقات پیدا کرنے اور بھٹو کونکالنے کی سازشیں شروع کردیں۔
جولائی ١٩٧٧ کو بغیر خونریزی کےجنرل ضیا نے بھٹو کی ساڑے چھ سال کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ محقق علوم اسلامیہ اور ملٹری میں مکمل ملاپ تھا۔ کئی زرائع سے پتہ چلتا ہے کہ انٹرانٹیلیجنس ایجنسی کا سربراہ میجرجنرل غلام جیلانی کا اس بغاوت کے پلان بنانےمیں ہاتھ تھا، یہ وہی جنرل تھا جیسے بھٹو نے ذاتی طور پر چنا تھا۔ دو سال بعد، اپریل ١٩٧٩ میں اپنی ایک سیاسی مخالف کو قتل کروانے کے الزام کو بھٹو کو ایک مشتبہ مقدمہ میں پھانسی کی سزا دے کرسولی پرچڑھادیا گیا۔ شاید تمام لیڈروں میں بھٹو ہی ایک غیرمذہبی اکثریت سےچنا ہوا لیڈر تھا جو اگر کوشش کرتا تو ملاؤں سے لڑ کر ان کو ہرا سکھتا تھا۔ بھٹو کا گمنام مرگ ، پاکستان کا موجودہ لیڈر مشرف ہی بھرسکتا ہے، لیکن بدشگونی کے بادجود ویسا ہی کام کررہا ہے۔
بھٹو کا غاصب جنرل ضیا ایک نچلےمتواسط گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اسکا باپ ایک مذہبی شخص تھا جو انڈیا کی برٹش حکومت کا ایک کلرک تھا۔ غریبی کے باوجود اس نےضیا کو ایک اچھی تعلیم دلائی۔ ضیا نے د ہلی کے مشہور و معروف سنیٹ اسٹیفن کالج میں تعلیم حاصل کی اور رائل انڈین آرمی میں کمشن حاصل کیا۔ ١٩٤٧ میں پاکستان بنے تک وہ کیپٹن کے عہدے پر پہنچ چکا تھا۔ وہ محنتی تھا مگر ذہین نہیں اور اس کے ساتھ کام کرنے والوں کا خیال تھا کہ وہ کرنل کےعہدہ تک ہی پہنوچ سکےگا۔ نوجوانی ہی سے ضیا جنونی اشیا کی تبلیغ جمیت، ایک بہت ذی اثر بنیادی اسلامی تحریک میں شامل تھا۔ اس جمیعت کا کا نظریہ اسلامی حکومت اور حدیث و سنت کی پیروی تھا۔
ایک چھوڑے قد کا گھنی موچھوں والا جنرل ضیا برٹش کامیڈین ٹیری تھامس جیسا لگتا تھا۔ لیکن کسی بھی پیمانے سے وہ بے وقوف نہیں تھا۔ وہ اتنا چالاک تو تھا کہ اپنے آگے بڑھنے کا راستہ بنا سکے۔ اس نے بھٹو کو اپنی نہ صرف نمک حالی کا یقین دلادیا بلکہ دوسرے کوئی چیز کرنےمیں اپنی نا ا ہلی ہونے کا بھی احساس دلایا۔
ضیا نہ صرف ایک حاکمانہ تھا بلکہ وہ پاکستان کوایک ایسی نظریاتی حکومت بناچاہتا تھا جواسلام کے شرعی اصولوں پرسختی سےعمل کرے۔ وہ ایک ناپسندیدہ اور متنازع لیڈ ر تھا۔ اس کا پاکستان کا حمکران رہنا بیرونی قوتوں کی بنا تھا۔ جب سویٹ فورسوں نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان کمیونیزم کے روکنے میں ایک فرنٹ لائن چہار دیواری بن گیا ۔
١٩٧٩ انٹر انٹلیجنیس ایجینسی سویٹ یونین کےخلاف مزاحمتی قوتوں کو مدد دینےمیں اہم بن گئی جنرل ضیا خان نےاپنے ایک بھروسے کے لفٹینیٹ جنرل رحمان کوانٹرانٹلیجنیس ایجینسی کا سربراہ بنادیا۔ اب انٹرانٹلیجنیس ایجینسی کی پہنچ اور دور تک بڑھ گئ۔ جنرل رحمان جو کہ آرٹلری آفیسر رھ چکا تھا، جنرل ضیا کی طرح اکیلا، چھپا، محتاط اور بےاعتنا اور غیرمانوس شخص تھا۔ اس کی سواے اپنی فیملی کے کسی اور سے مانوسیت نہیں تھی۔ اس کے آفیسران کے مطابق اس کےاکھڑ طور طریق اور سخت قواعد کی وجہ سےاس کے لیے کام کرنا مشکل تھا۔ “ ایک سابقہ انٹرانٹلیجنیس ایجینسی کے آفیسر بریگیڈیر محمدیوسف کے مطابق “اس خصوصیت نےاس کو اس کام کے لیےایک معیاری آدمی بنادیا تھا“۔ ١٩٨٧ تک جنرل رحمان انٹرانٹلیجنیس ایجینسی کا چیف رہا۔ وہ ایک انتہا پسند اسلامی نہیں تھا۔ مگر وہ ایک کٹرقوم پرست مسلمان تھا۔
جنرل ریحمان کی رہبری میں آئی۔ایس۔آئی نے سی۔آئی۔اے کی شراکت میں دنیا کی جدید تاریخ میں سب سے بڑا مخفی آپریشن کیا۔ یہ دونوں ایجنسیاں مدتوں سےایک دوسرے کےشریک کار تھیں۔ مگر ضیا سی۔آئی۔اے کو مکمل اختیارات دینے کے لیےتیار نہیں تھا۔ اس نےایسے سخت اصول رکھےجن میں آئی۔ایس۔آئی، مجاہدین کےگروہوں سے رابطہ رکھےگی۔ کوئی بھی سی آئی اے کا آدمی پاکستان سےافغانستان کی سرحد پار نہیں کرے گا۔ مجاہدین کے کمانڈروں کو اسلحہ آئی۔ایس۔آئی کے ذریعہ بانٹا جائےگا۔ مجاہدین کی تمام ٹریننگ کی آئی۔ایس۔آئی ذمہ دار ہوگی۔ جب بھی سی۔آئی۔اے نے اسلحہ اور مالی امداد برہم کی آئی۔ایس۔آئی نےاس کو افغانستان میں منتقل کیا۔ ان اسلحہ کو مجایدین میں تقسیم کرنے کے ہر کام میں امریکن سی۔آئی۔اے کو پاکستانی ایجینسی پر بھروسہ کرنا پڑا۔ ان اصولوں کےتحت آئی۔ایس۔آئی کو اس مخفی آپریشن پر تقریباً مکمل اختیار حاصل ہوگیا۔ دس سال کی مخفی جنگ نے آئی۔ایس۔آئی کی اہمیت، حیثیت اور رسوخات میں ایک بہت بڑا اضافہ کردیا۔ سعود عربیہ اور سی۔آئی۔اے کی مدد سے آئی۔ایس۔آئی نےاس جنگ کوجہاد میں تبدیل کردیا۔
اس دس سالہ جنگ نےانتہا پسند اسلامی گروہ کو ایک منبراور ٹریننگ فیلڈ دی۔ دنیا بھر کے مسلم نوجوان افغانستاں میں بیرونی حملہ آورں سےجنگ میں شرکت کے لئےجمع ہونے لگے۔ ١٩٧٩ سے ١٩٨٩ تقریباً ٣٥ ہزار کے جنگجو اس افغان کی جنگ میں شامل ہوئے۔ ایک بڑا حصہ مشرق وسطہ سے آیا۔ کچھ سعودی عرب سے بھی آئے ان میں سے ایک نوجوان اُساما بن لادن بھی تھا۔ ١٩٨٠میں ایک امیر سعودی کا نوجوان بیٹا پہلی دفعہ پشاور پہنچا۔ اُساما بن لادن کینگ عبدل عزیز یونیورسٹی کا گریجویٹاور ایک شرمیلا جوان جیسے جنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔اُساما بن لادن اپنی عش و عشرت کی زندگی چھوڑ کر افغانستان کے مجاہدین کی جہاد میں مدد کرنے آیا تھا۔ یہ اس کی افغان اور پاکستان کے انتہا پسند عناصر سےاتحاد کی شروعات تھی۔ ١٩٨٤ کی ابتاء تک اس کا بہت سا وقت پشاور میں گزر رہا تھا۔ یہاں اس کا کچھ وقت فلسطین کے ایک اسلامی عالم عبدل اللہ اعظم کےگزرا ۔عبدل اللہ اعظم کی تبلیغ کی وجہ سے بیرونی مسلمان ، افغانستان آرہے تھے۔ اسی دوران اس کا آئی۔ایس۔آئی سے رابطہ پیدا ہوا۔ اس وقت تک اسلامی جہادیوں کو اسحلہ اور ٹریننگ دینا مکمل طور پر آئی۔ایس۔آئی کے ہاتھ میں تھا۔
افغان کی جنگ نے ایجنسی کے ہاتھ میں بےانتہا ذرائع کردیے۔ سی۔آئی۔اے کا دیا ہوا اسلحہ آئی۔ایس۔آئی کے ذریع جنگجو افغانیوں کو پہنچ رہا تھا۔ ١٩٨٠ کےدرمیان جنتا پیسہ سی۔ آئی۔اے اس جنگ میں لگارہا تھا سعودی بھی اس کے برابرمالی امداد دیےرہا تھا۔ یہ پیسہ جو ہرسال کئی میلین ڈالروں میں تھا سی۔ آئی۔اے، پاکستان میں آئی۔ایس۔آئی کے اسپیشل اکاونٹ میں جمع کررہا تھا۔ سی۔آئی۔اے کی مالی مدد اور امریکن ملٹری ایڈ نے آئی۔ایس۔آئی کو حکومت پاکستان کے متوازی ایک ایسا ڈھانچہ بنانےمدد دی جس کا اثر و رسوخ حکومت کے ہر شعبہ میں تھا۔اور جتنی سیاسسی لیڈروں کی خفیہ نگرانی اس دور میں ہوئی اس کی مثال اس دور سے پہلے نہیں ملتی۔
یہاں تک کہ آرمی کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ اس دور میں ایک افضل عہدے پر نافذ انٹیلیجنس آفیسر کےمطابق تمام جرنلوں پر یہ جانے کے لیے نگرانی رکھی گئ کہ وہ موجودہ حکومت کے تابع دار ہیں یا نہیں۔ برگیڈیر یوسف کا کہنا ہے کہ “ آئی۔ایس۔آئی اتنی بڑی طاقت بن گی کے یہ جان کر کے وہ کیا کرسکتی ہے خوف آنے لگا“۔ افعان کی جنگ نےعوام کو آئی۔ایس۔آئی کا ایک نیا رخ دیکھایا جوعوام نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ سابقہ انٹیلیجنس آفیسران کا کہنا ہے کہ افغان کی جنگ کا اثر آئی۔ایس۔آئی کے ہرشعبہ پر پڑا۔ جب کے آئی۔ایس۔آئی کا ایک کامیاب افغانستان میں مخفی آپریشن چلانے سے واہ واہ ہوئی اسکے ساتھ ساتھ ملک میں آئی۔ایس۔آئی کے نام سے عوام کو خوف آنے لگا۔
افغانستان میں سویت یونین کی مزاحمت کو دنیا میں کمیونیزم کے خلاف ایک عالمی جہاد کے طور پر پیش کیاگیا۔ آئی۔ایس۔آئی نے ساتھ ان جہادیوں کولڑائی کی ٹریننگ کےساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات بھی دی گئیں۔ ان لڑنے والےگروپوں کو بتایا گیا کہ اسلام ایک مکمل مذہب ہے جس میں سماجی سیاسی نظام بھی ہے۔ اور ہمارے اس مذہب کو لاخدا کیمیونسٹ سےخطرہ ہے۔ افغان جنگ نےایک نئی انتہا پسنداسلامی تحریک شروع کی۔
مرسلہ: ہفتہ جنوری 19, 2008 9:43 pm
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
مقدس جنگ لڑنےوالوں کےعلاوہ دوسرے ہزاروں لوگوں سعودی عربیہ اور مسلم ممالک کے پیسوں کی مدد سےبنائے ہوئے مدرسہ میں پڑھنے لگے۔ دس لا کھ سےذیادہ بیرونی ملکوں کےانتہا پسند مسلمانوں پرافغانی جہاد اثرانداز ہوا۔
افغانی جہاد سےبہت پہلےہی ملٹری مذہبی ساست میں شمولیت احتیار کرچکی تھی۔ جنرل ضیانے نہ صرف پاکستان کو سب سےذیادہ وقت کے لیےفوجی حکومت دی، بلکہ اس نےملک کو ایک نظریاتی مملکت بھی بنانے کی کوشش کی۔ اپنے سے پہلے آنےوالےملٹری حکمرانوں سے بھی ذیادہ اس نےملٹری کو اندورنی سیاست میں مداخلت کرنےدی۔ اب تک ملٹری کا مقصد ملک کی حدوں کی حفاظت اور اندونی سیکیورٹی تھا۔ لیکن ضیا نے پاکستان کی نظریاتی حدوں کی ذمداری بھی ان کو سونپ دی۔ فوج کے افسران کوخطاب کرتےہوئےاس نے اس بات کی وکالت میں کہا۔“ پاکستاں کے بننے کی بنیاد دو قومیں اور اسلامی نظریات ہے۔ اس لیے یہ اسلام کےسپاہی کا فرض ہے کہ وہ ہرقیمت ہراس کی سکیورٹی، سالمیت اور ملکیت کو محفوظ رکھے“ ۔ اس نےدعویٰ کیا کہ پاکستان اس لیےبنایا گیا تاکہ مسلمانوں کو اسلامی طریقہ سے زندگی گزارنے کا موقع ملے۔ اسلامی نظریات کی حفاظت کو سرحدوں کی حفاظت کے برابردرجہ دیاگیا۔ضیا کےدور میں ملک اور سوسائٹی کو اسلامی نظریات سےچلانے کی کوشش ہوئی۔
ضیانے بڑی چالاکی سےاسلام کو استعمال کر کےملک پر اپنی گرفت مضبوط کی اور اپنےملٹری اقتدار کوجائز کیا۔ اس کےگیارہ سالہ اقتدار کا ایک اہم جز پاکستان کو اسلامی ملک بنانا تھا۔ کیونکہ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی حکومت تھی سیاست مذہب کا ایک حصہ بن گی۔ جنرل کواس اعتقاد تھا کہ اللہ نے اُسے پاکستا ن کو اسلامی مملیکت بنانےقران اور شریعہ پرچلانے کے لیے بھیجاہے۔ آزاد نمائیدوں اور عوام کا منشور نہ ہونے کےڈر سے جنرل اللہ کےنام پر حکومت کرنےلگا۔
اس نے اسلامیہ شریعہ کی بےلوچ تشریح کی ابتدا کر کےملاؤں کی عوام پرگرفت مضبوط کردی۔ اسلامی ملک بنانے کے رحجان نےمذہبی پارٹیوں جنرل کی طرفدار ہوگئیں اور بہت سی اسلامی پارٹیاں تو پہلےہی سےملٹری سے ملی ہوئی تھیں۔ اب جماعت اسلامی اور دوسری اسلامی پارٹیاں بھی حکومت سے مل گئیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ اسلامی علما حکومت کےخاص عہدوں پر بیٹھے۔ جماعت اسلامی جو کہ ایک ذی اثر اور منظم سیاسی پارٹی تھی، حکومت کے اداروں شامل ہوئی۔ پارٹی کو فروغ دینے والوں اور پارٹی سےہمدردی رکھنےوالوں ہزاروںلوگوں کوعدالت، سول سروس اور تعلیمی اداروں میں ملازمت دی گئی۔ ان عہدوں کو ملنے کی وجہ سے اسلامی علما حکومت کی فیصلہ کن جگہوں پرقابض ہوگئے۔
ملک کو اسلامی مملکت بنانے کا کام دو درجوں ہرہوا۔ پہلےقانونی سسٹم میں تبدیلیاں لائی گئیں۔ شریعہ کورٹ بنائےگےتاکہ قصورواروں کو اسلامی قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ دوسرا، اسلامی نظام کو اخباروں، ٹیلی ویژن اور مسجد کےذریعہ عام کیاگیا۔ اسلامی احکام کےذریعہ سول سروس، آرمی اور تعلیمی نظام کواسلامی بنایا۔ اسکول کےنصاب کواسلامی وصف کےمطابق جانچا گیا۔ جو کتابیں جواسلامی معیار پرنہیں اتریں ان کونصابوں اور لائبریریوں سےہٹادیا گیا۔ ارکان حکومت پر پانچ وقت کی نماز لازمی کردی۔ حکومت کےافسران نےخفیہ فائیلوں میں اسٹاف کو ان کی نماز پڑھنے یا نہ پڑھنےاور دینی معلومات پر مارکس دینے شروع کر دیے۔
جنرل ضیا کا آرمی کو اسلامی آرمی بنانے کے بہت گہرے اثرات ہوئے۔ پاکستان کی آرمی جو برٹش انڈین آرمی کےایک حصہ سے بنی تھی۔ اُس میں طریق اطوار ویسے ہی تھے جیسے برٹش آرمی کےتھے۔ یعنی آرمی غیرمذہبی تھی۔ اسلام کو آرمی کا حصہ بنا کرجنرل ضیانےاسے اسلامی چہرہ دیا۔ پہلی دفعہ ملک کی تاریخ میں آرمی اکیڈمی میں اسلامی تعلیمات دی جانےلگیں۔
اسلامی تربیت اور فلسفہ کمانڈ اور اسٹاف کالج کےنصاب کا ایک حصہ بن گیا۔ مذہبی نظامت کا دفتر قائم کیا گیا تاکہ کورپس افسران کواسلام کی تعلیم دی جائے۔اسلامی تعلیم آرمی میں ترقی کےامتحانات کا حصہ بن گئی۔افسراں کوایک کتاب“ The Quranic Concept of war “ پڑھنا لازمی کردیاگیا ۔ یہ کتاب بریگیڈیرایس۔کے۔ملک نےلکھی تھی جو اس وقت آرمی میں تھا۔ افسران کی تربیت میں نہ صرف ایک پروفیشنل فوجی بننا تھا بلکہ انہیں ایک اسلام کا سپاہی بھی ہونا تھا۔ اس کتاب کی تمہید میں جنرل ضیا لکھتا ہے کہ “ ایک مسلم فوج میں پروفیشل سپاہی اس وقت تک “ پروفیشنل “ نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ اپنے تمام کاموں میں ایک مسلم ملک کےمقاصد کی کھوج میں نہیں رہتا اور اللہ کےرنگ میں نہیں رنگ جاتا“۔ عہدہ میں ترقی حاصل کرنے کے لیے افسران کو ایک عابد مسلمان لازمی تھا۔ بیسیوں اعلیٰ درجہ کے پروفیشنل اورغیر مذہبی افسران کو“ عابد“ کی شرط پوری نہ کرنے کے بہانےنکال دیا گیا۔
اس طرز عمل کی وجہ سے قدامت پسند افسران سینئر کمانڈ کےدرجہ تک پہونچ گئے۔ مذہبی سیاسی انتہا پسند نظریات کی معلومات آرمی کے ٹرینگ سینٹرز میں عام کردی گئی۔ رجمنٹ کی مسجد میں جمعہ کی نماز جو کہ پہلے آپ کی مرضی پر تھی اب لازمی کردی گئی ۔
فوج کےرسالوں میں دیوبندی ملاؤں کو نائب کیاگیا۔ان کا کام فوج کودین کیطرف لانا اور رکھنا تھا۔ فوج پرلازم تھا کہ وہ انہیں اپنےساتھ میدان جنگ تک لےجائے۔ فوجیوں کو تبلیغی اجتماعوں میں شرکت کرنے کی حوصلہ افزای کی گئی۔ ان اجتماع کا مقصد فوجی کیڈٹوں کو اسلام کےظلمت پسند رخ سےروشناس کرانا تھا۔ ان کیڈٹوں میں سےسینکڑوں افسران کےعہدوں پر پہنچے۔ اور حکومت کےحساس اداروں یہاں تک کے آئی۔ایس۔آئی میں پھیل گئے۔
١٩٨٠ میں اس تربیت نے پاکستان کی فوج کا نظری، صحیع اور واضع سمت کوانتہا پسندی کی طرف موڑ دیا۔ ١٩٧٠ تک پاکستان کی فوج کےافسران چپیدہ اور امتیازی تھے۔ لیکن یہ رجحان بدل گیا۔ ماضی میں مخصوص طبقہ کےامیر اور تعلیم یافتہ لوگ فوج کےاعلیٰ عہدوں پرفائز تھے۔ اب نئےافسران میں نچلی اور متوسط درجہ کےلوگ آنےلگے۔١٩٧٠ اور اس سے پہلے سنیڑل پنجاب کےامیرگھرانوں کےلڑکے فوج کے بڑے رتبوں پرتھے۔ ١٩٧٠ کے بعد فوج شمالی پنجاب کےغریب گھرانوں کےمذہبی، دقیانوسی اور ایک مخصوص سوچ کےلوگوں سے بھرنے لگی۔ یہ لوگ پچھلےافسران کی طرح مخصوص انگلش اسکولوں سےاعلیٰ تعلیم حاصل کےہوئےنہیں تھے بلکہ حکومت کےقائم کےہوئےعام اسکولوں کی پیداوار تھے۔ پرانی فوج کی حریت پسندی جو کہ عام تھی ان لوگوں میں ناپید تھی۔ یہ اس سوشل کلاس کی پیداوار تھےجو فطرتی طور پر بندھے اور بنیادی اسلامی راستوں پر چلنے والے تھے۔ اور مغربیت سے نا روشناس تھے۔
ان کی تنگ قومی پرستی، تعلیم، پروفیشنل ٹریننگ اورتہذیب وتربیت میں کمی کی وجہ سےجماعت اسلامی اور دوسرے اسلامی گروہ لوگوں کو اپنی طرف ورغلانےمیں کامیاب ہوگئے۔
ان اسلامی گروہ کو پروپیگینڈا کرنے کی مکمل اجازت تھی۔
اس کے علاوہ جماعت اسلامی کو بٹالین اور اوپری درجہ کے افسران میں بھی پروپیگینڈا کرنے کی اجازت تھی۔ اور یہ ملٹری اور مسجد کے درمیان ملاپ تھا جوسال ہا سال چلا۔ اسلامی جماعت کا پہلا مقصد مجذوب ہونا اور پھر ملک کا نظام حاصل کرنا تھا۔ جنرل ضیانے لڑنے والے فوجیوں کو عوامی یونیورسٹیوں میں تعلیم کے لےبھیجنا شروع کردیا جہاں جماعت اسلامی کے کارندوں کا اثرتھا اور ان فوجیوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوئے ۔
جماعت اسلامی کی ترغیب کا اثر دیہات اور شہر کے نواحی علاقوں میں صاف ظاہرتھا۔ ان لوگوں میں مذہبی قید یا انتہا پسندی کےخلاف کوئی روکاٹ نہیں تھی اور وہ بیرونی دشمنوں اسلام کے لئےخطرہ سمجھتےتھے۔ فوجیوں نے ڈاڑھیاں رکھنی شروع کردیں تھیں۔ یہ نوجوان جنرل ضیا کی نظام حکومت کا بنیاد تھے۔ ایک ریٹائیرڈ جنرل کے مطابق ٢٠ - ٢٥ فی صد فوجی افسر ایسے تھےجن کا رجحان بنیادی مذہبیت کی طرف تھا۔
ان افسران میں بہت سےباقاعدگی سےتبلیغی گروپوں کی میٹنگوں میں جانے لگے۔اور چھٹیاں لے کر ان گروہوں میں شامل ہوگےجو دوسروں کو بنیادی اسلام کی طرف راغب کر رہے تھے۔ ہزاروں فوجی لاہور کےگردونواع میں ہونے والےجماعت اسلامی کےسالانہ اجتماع میں جانےلگے۔ ہرسال ١٠ لاکھ سے بھی ذیادہ لوگ ملک کے ہرحصہ سےاور بیرونی ممالک سےیہاں آنے لگے۔ مکہ میں حج کی تعداد کے بعد اتنے لوگوں کا ایک جگہ پرجمع ہونا دوسرے نمبر پر ہے۔ یہاں تک کےآزاد خیال لوگ بھی جہاد اور کشمیر کے معاملہ میں ان کا ساتھ دینےلگے۔ انڈیا سے١٩٧١ میں جنگ ہارنے کی ذلت اور ملک کےٹکڑے ہونے کا آرمی پرگہرا اثر ہوا تھا اور بہت سے آرمی کے افسر دلجوئی کےلیےمذہب کا سہارا لینےلگے۔ایک طرح سے وہ پھر سے مسلمان ہوگئے۔
ان حالات میں یہ تعجب کی بات نہیں کہ ١٩٨٠ میں انتہا پسند اسلام کےفوجیوں نے بغاوت کی کوشش کی جو ناکام ہوئی۔ وہ ایک اسلامی انقلاب لاناچاہتے تھے۔ تاکہ وہ ایک مذہبی حکومت قائم کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک ایک مذہبی حکومت کے لیےتیار نہیں تھا۔ یہ بغاوت کچل دی گئی اور ان افسران کو ملک غداری کےالزام میں سزائیں دی گئیں۔
افغانستان کی صورت حال کی وجہ سے پاکستان کےانتہا پسندوں کی ایک پوری نسل کا نظریہ دنیا کےمسلمانوں پرجبر کےخلاف لڑنا بن گیا۔اس سےجہاد کاایک نیا رخ بنا، پہلے ان انتہا پسندوں کا مصرف انڈیا کےخلاف جہاد تھا۔ مگر اب جہاد کو دنیا بھر میں دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیاجانےلگا۔ افغان کی جنگ نےجہاد کو نجی بنادیا۔ جنگجو لوگ روایاتی مذہبی فرقوں میں سے بھی آنےلگے۔ آئی۔ایس۔آئی کا افغانستان کی جنگ میں عملی حصہ لینے نے پاکستانی افسران کو انتہا پسندوں کے قریب لا کھڑا کیا۔
جہادیوں کو استعمال کرنے میں ملٹری اور انٹیلیجینس کے افسران پر جہادیوں سے قربت کا اثر ہوا اور ان میں سے کئی انتہا پسند بن گئے۔ کم از کم آئی ایس آئی کےدو چیف جنرل حمید گل اور جنرل جاوید نصیر ان میں سےتھے۔ جو ریٹائرڈ ہوکر بھی ان لوگوں میں شامل رہے۔ دونوں نےاسلامی پاکستان کےتصور کوترقی دی۔ اور ان کی سوچ یہ رہی کےایک اسلامی انقلاب پاکستان کو مشرق، خاص طور ہر امریکن کلچر اور سیاسی کےاثر سےنجات دلاسکتا ہے۔ جنرل گل جو اپنےآپ کو “ مسلم ویژنری“ کہتا تھا ١٩٨٧ میں جنرل رحمان کے بعد آئی۔ایس۔آئی کا چیف بنا جب کے افغان مزاحمت پر اندیشہ مقام پرتھی۔
اس آئی۔ایس۔آیی چیف میں دل موہ لینے والی خصوصیت تھی۔ وہ کھلےعام افغان کےمجاہدین لیڈر گلبدین حکمت یار اور پاکستان کی اسلامی پارٹیوں کا طرفدار بن گیا۔ گلبدین حکمت یار ایک بےلوچ لیڈر تھا اور وہ مصالحت کرنے والوں میں سےنہیں تھا۔ سویت یونین کی ہار کے بعد وہ اپنےآپ کو اس جیت کی وجہ بتاتاہے۔ جنرل گل اور سی۔آئی۔اے ایک دوسرے کےساتھی تھے۔لیکن ١٩٨٧ میں جنیوا ایکورڈ نےجنرل گل کو امریکہ کےخلاف کردیا۔ یہ وہ ایکورڈ ہےجس کی وجہ سےبعد میں سویت یونین کو افغانستان سےنکلنا پڑا۔ اس ایکورڈ پرحکومت پاکستان کی طرف سے پرائم منسٹر محمدخان جُنیجو نےجنرل ضیا کی مرضی کےخلاف دستخط کئے۔ جنرل ضیا کا خیال تھا کہ اس کی وجہ سےمجاہدین کابل پر قبضہ نہیں کرسکیں گے۔ سویت یونین کےافغانستان چھوڑنے سے پہلے ١٩٩٠ میں امریکہ نے پاکستان کےایٹمی پروگرام کےخلاف پابندیاں عائد کردیں اس کی وجہ سےملٹری اور آئی۔ایس۔آیی میں امریکہ کےخلاف ناراضگی بڑھ گئی۔ سی۔آئی۔اے نےافغانی باغیوں کی امداد بند کردی اور اس کا آئی۔ایس۔آیی سے رابطہ ٹھنڈا پڑگیا ۔ ایک مضبوط تعلق کا یہ توڑ اچانک آیا۔ ملٹری نےامریکہ پر یہ الزام لگایا کے سویت یونین کے بکھرنے کےبعد اس نےساتھی پاکستان کوچھوڑ دیا ہے۔
افغان کی جنگ ختم ہونے سے بہت پہلےجنرل گل نے کشمیر کے لیے ایک نئےجہاد کی تیاری شروع کردی تھی۔ میرے ایک سوال کےجواب میں ١٩٩٠ میں جنرل گل نے کہا۔“ یہ ہمارے سال ہا سال کی کوششوں کا ثمرہ ہے کہ کشمیر میں ہندوستانی کی فوج کےخلاف مصلہ بغاوت ہوئی“۔ وہ اس وقت ملک کے ایلیٹ آرمرڈ کورپس کو کمانڈ کررہا تھا۔
١٩٨٨ جنرل ضیا کی موت ہوائی جہاز کے ایک عجیب حادثہ میں ہوئی۔ اس کی موت کے بعد پاکستان کی سب سے لمبی ملٹری حکومت اپنےاحتتام کو پہونچی۔ اس سانحہ پرجنرلوں کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ وہ مارشل لا لگادیں یا الیکشن کروا کر ایک جمہوری الیکشن میں جیتنے والی عوامی حکومت بنائیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ بہتر یہ ہی ہے کہ عوامی حکومت لائی جائے ورنہ اس فرقوں میں بٹی ہوئی قوم ان کی نہ ختم ہونےوالے ملٹری حکومت کےخلاف اٹھ کھڑی ہوگی۔ لیکن یہ جنرل سیاست سےمکمل طور پرنہیں نکلنا چاہتے تھے کیونکہ انہیں بےنظیر بھٹو کا اس الیکشن میں جیتنے کاخطرہ تھا۔ ذالفیقارعلی بھٹو کی بیٹی بےنظیر بھٹو، پاکستان پیپلس پارٹی ( پی۔پی۔پی ) کی سربراہ تھی۔ اور جنرلوں کوپتہ تھا کہ اس کی پارٹی یقینی طور پر سب سےذیادہ ووٹ حاصل کرے گی۔
بےنظیر کو روکنے کے لیےملٹری نےتمام مخالف پارٹیوں نوازشریف کی قیادت میں اسلامی ڈیموکریٹک الائینس ( آئی۔ڈی۔اے) کے جھنڈے کےتلےجمع کرلیا۔اس وقت کےچیف آف اسٹاف جنرل اسلام بیگ اور جنرل گل نےاس بات کی حمایت کی کہ جمہوری نظام کےلیےایسا کرنا ضروری ہے۔
لیکن ملٹری کا مقصد ، نئی حکومت پراپنا کنٹرول جاری رکھناتھا۔ آئی۔ڈی۔اے بنا کرجنرلوں اپنی جانبداری کوقائم رکھناچاہے تھے۔ پیپلس پبلیک پارٹی ہی ایک ایسی سیاسی جماعت تھی جس نےملٹری قیادت کی دس سال مذاحمت کی تھی۔
ملٹری کی کفالت میں روایتی اقتداری، مذہبی پارٹیاں اور وہ سیاست دان تھےجو ١٩٨٠ میں نمودار ہوئے تھے۔ جنرل ضیا کو اپنی حکومت کو ایک معاشرتی اور جوازی بتانا تھا۔ ا س نے پنجاب کے بارسوخ زمیندار، صنعت کار اور تجارتی گروپ کو اپنی طرف ملا لیا۔ مسلم لیگ کی نئی قیادت میں جو لوگ تھےجو سیاست میں فوج کی مدد سےآئے تھے۔ اس ملاپ کا دوسرا حصہ کٹر اسلامی گروپ تھےجس میں جماعت اسلامی بھی شامل تھی۔ جماعت اسلامی افغان اور کشمیر کے جہاد میں شامل تھی۔
اگرچہ آئی۔ڈی۔آئی ١٩٨٨ کے الیکشن میں صرف تین چھوٹےصوبوں میں کامیابی حاصل کرسکی لیکن پنجاب میں اس کو مکمل کامیابی ہوئی اور اس وجہ سے پی۔پی۔پی کو نیشنل اسمبلی میں اکثریت نہیں حاصل ہوئی۔ ملٹری نےمجبوراً حکومت پی۔پی ۔پی کی بےنظیر بھٹو کو سونپ دی مگر پنجاب کےصوبے میں اس کو حکومت بنانے میں زبردست روکاٹیں پیدا کردیں۔ پنجاب پاکستان کےچار صوبوں میں سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہاں آئی۔ایس۔آئی کی کارستانی سےاور غیرجانبدار ممبروں کی مدد سےنواز شریف کی حکومت رہی۔
بےنظیر کی حکومت کو جمہوریت کی ایک نئی صبح سمجھاگیا۔ مگر یہ ملٹڑی کا بلا راست حکومت تھی۔ رسمی طور پر ١٩٨٨ میں حکومت کو ملکی انتظام ملے مگر آئی۔ایس۔آئی کےدائرہ احتیار میں فرق نہیں پڑا۔ فوجیوں کے بیرک میں واپس جانے سے ان کےاثر و رسوخ میں کمی نہیں ہوئی۔ آئی۔ایس۔آئی نےاس عوامی حکومت کو نگاہ رکھی۔ ملٹری اور عوامی حکومت کے درمیان نااتفاقی نےجمہوریت کو کامیاب نہیں ہونےدیا۔ چیف آف اسٹاف، پریسیڈینٹ غلام اسحاق خان سےمل کر درِ پردہ حاکم تھا۔ جنرل ضیا کی آئین کی آٹھویں تبدیلی کی وجہ سےچیف آف اسٹاف ، پریسیڈینٹ غلام اسحاق خان کو بےانتہا احتیارات حاصل تھے۔
ملٹری کو اس سیاسی صورت میں بغیر ذمداری اب بھی اختیارت تھے۔ ملٹری نے افغانستان، انڈیا اور امریکہ سےایٹمی اسلحہ کے کنٹرول کی پالسیوں کو اپنے ہاتھ میں رکھا۔
جب بےنظیر نے آئی۔ایس۔آئی کے جنرل گل کی چھٹی کی اس وقت غیر مؤثر بےنظیر بھٹو نےاپنےآپ کو آرمی کےمقابل پایا۔ آئی۔ڈی۔اے کے بانی جنرل گل نے عوامی حکومت سے کبھی مصالحت نہیں کی۔ آرمی کو بے نظیر بھٹو پر بھروسہ نہیں تھا یہاں تک کہ بعض جنرل اس کو سلوٹ بھی نہیں کرتے تھے۔١٩٩٠ کے فروری میں ملتان میں جنرل گل سے ملا جہاں وہ آئی۔ایس۔آئی سے نکل کر پاکستان کی مین اسڑائک فورس کا کمانڈر تھا۔ یہ وہ زمانہ ہے جب آرمی نےایک بڑی جنگی مشق “ ضربِ مومن “ ختم کی تھی۔ جنرل نے بے نظیر بھٹو پرانڈیا سےدوستی کا الزام لگایا اور اس کی حب الوطنی پرشبہ کیا۔ اس نے کہا۔“ اس مشق کی بدولت ہم نے اس کو پاکستان کی دفاع کو بے ضرر بنانے سے روک دیاہے“
یہ صاف ظاہر تھا کہ آرمی کےجنرل، بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کےموقع کی تلاش میں تھے۔ بے نظیر بھٹو نےچیرمین آف جوائنٹ چیف آف اسٹاف ایڈمرل افتخار احمد سرہوی کو ریٹائرڈ کرنے کی کوشش کی اور لفٹینینٹ جنرل عالم جان مسحود ،جو کےایک سنئیر آفیسر تھا اس کے ریٹائرمنٹ میں ایک سال بڑا دیا۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ جنرل عالم جان مسحود حکومت سے ملا ہوا تھا۔ آرمی کے بڑے عہدادارن نے اس عمل کو آرمی میں مداخلت تصور کیا۔ چھ اگست پریسیڈینٹ غلام اسحاق خان نے بھٹو کی حکومت کو رشوت ستانی اور بداعمالی کا الزام دے کر معطل کردیا اور نیشنل اسمبلی کو بھی برخواست کردیا۔ خان، پرسیڈینٹ بننے سے پہلےایک ضابطہ پرست حاکم تھا۔ اورجنرل ضیا کی ملٹری حکومت کا مرکزی کردار اور اس حکومت کا نمائندہ بھی۔
بےنظیر بھٹو کی پارٹی کو اگلے الیکشن میں زبردست شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ وہ اپنےصوبہ سندھ کی مقامی حکومت بھی ہارگئی۔ اس دفعہ ملٹری کےلیڈر کوئی چانس نہیں لینا چاہتے تھے۔ آئی۔ایس۔آئی نے آی۔ڈی۔اے میں شامل بڑے لیڈروں کوالیکشن میں مالی امداد دی۔ نیشنل نیوز میں شائع ہوئی ایک لسٹ میں بہت سےجانے پہچانے لیڈروں کے نام تھے۔ جن میں نواز شریف کا نام بھی شامل ہے۔ ان میں سےبہت سےلوگ بعد میں حکومت کے اہم عہدوں پر فائز ہوئے۔
١٩٨٨ میں کشمیر میں ایک لمبےعرصے سے راکھ میں چھپی سیاسی انگاری انڈین کنٹرول کےخلاف شعلہ بن گئ۔ ہزاروں کشمیری گوریلا وار کی ٹریننگ کے لیےسرحد پھلانگ کر پاکستان کی طرف داخل ہوئے۔ انڈین آرمی نےاس بغاوت کو کچلنے کی کوشش کی۔ یہ ایک اندرونی شرکشی تھی جوانڈین آرمی کےخلاف ایک ہتھیار بند جدوجہد بن گی ۔ ہزاروں کشمیری جوانوں علیحدگی پسند جدوجہد میں شامل ہوگے۔ اس جدوجہد کی ابتدا جس آذاد قومی ادارے سے ہوئی اس کا نام جمو کشمیر لیبریشن فرنٹ ( جے۔کے۔ایل۔ایف ) تھا
مرسلہ: بدھ جنوری 30, 2008 8:26 am
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
آئی۔سی۔ایس نے وہ تمام انٹیلیجنس اور ملٹری نیٹ ورک استمال کئے جو انہوں نے 1980 میں افغانستان میں سویت یونین کےخلاف بنائے تھے۔ افغانستان میں جہادی جذبہ اسلام سے بھر پور دنیا کےمختلف اسلامی ملکوں سے آئے جو نہ صرف اسلام کے لیےاپنی جان دینے کے لیےتیار تھے بلکہ کافروں کی جان لینے پر بھی۔ کشمیر،اسلامی جہادیوں کا دنیا میں سب سے بڑا اڈا بن گیا۔ آئی۔سی۔ایس کی مداخلت میں اور بھی اضافہ ہوگیا جب اس نے ج۔کے-ایل-ایف پرتوجہ کم کردی اور پاکستانی طرفدار حذبِ المجایدین کو مدد دینی شروع کردی۔ اس تبدیلی نے کشمیری جدوجہد کو بانٹ دیا اس سے آپس میں مار دھاڑ شروع ہوگی۔ 1990 میں اس جہاد میں بہت سے پاکستانی مسلح گروپ شامل تھے۔ یہ وہ وقت ہے جب گوریلا جماتیں، حرکاتِ المجاہدین ( HuM )، لشکرِتائبہ ( Let ) اور بعد میں جیسِ محمود ( JeM ) وجود میں آئیں۔ ان کٹر اسلامی گروپوں نے جدوجہد کا رنگ و روپ بدل دیا۔
ان اسلامی گروپوں میں لڑنے والے پنجاب اور صوبہ سرحد سے آئے۔ انہوں نےاس اسلامی جدوجہد کو غیر مذہی علیحدگی کی صورت دینے کی کوشش کی ۔ جس کے نتیجہ آفت خیز ہوئے۔ اگرچہ پاکستانی گروپ کی شمولیت نےاس مسلح جدوجہد کو جاری رکھا۔ لیکن اس کی بناء پرایک دوسرے سےنااتفاقیاں ہوئیں۔ بہت سے کشمیریوں کو یہ بات ناپسند تھی کہ پہلے آئی۔سی۔ایس نےاس جدوجہد کو پاکستانی رنگ دیا اور بعد میں اسلامی۔ اب تک ہزارہا پاکستانی جنگجواس کشمیر میں لڑتے ہوئے مارے گئے ہیں۔
نومبر 1990 میں نواب شریف نےحکومت سنبھالی۔نواب شریف، ملک کی سب سے مالدار تجارتی خاندان کا فرزند تھا۔ شریف سیاست میں جنرل ضیا کی زیر حمایت داخل ہوا۔ اس کا سیاسی وجود اس کے والد کے جنرل گلام جیلانی تعلقات سے بنا۔ جنرل گلام جیلانی، ایک وقت میں آئی۔سی۔ایس کا چیف رہ چکا تھا۔ 1977، سول گورنمنٹ کو الٹانے مدد کرنے کی وجہ سے غلام جیلانی کوجنرل ضیا نےملک کے سب سے ذیادہ طاقتور صوبہ پنجاب کی گورنر شپ سونپ دی۔ غلام جیلانی نے شریف کو بےنظیر کےخلاف لڑنے کے لیے تیار کرنا شروع کیا۔ 1981 میں شریف کو وزیر تجارت کا عہدہ ملا اور کچھ سالوں بعد پاکستان کے وزیر اعلیٰ کا۔ شریف کی قابلیت اوسط درجہ کی تھی۔ جس وقت جنرل ضیا نےاسے پاکستان کی حکومت کا سب سے طاقتور صوبہ پنجاب کی گورنر شپ سونپی۔ اس میں نہ ہی سیاسی بنیادیں تھی اور نا ہی لیڈر شپ کی مقناطیسی صلاحیتیں۔
جب شریف وزیر اعلیٰ بنا تو اس کے اختیارت اس سے پہلے کی سول حکومتوں سے ذیادہ تھے۔ اختیارت پریسیڈینٹ ، وزیر اعلیٰ اور آرمی چیف آف آسٹاف ، تینوں میں درمیان تناسب سے بٹے ہوئے تھے۔
لیکن یہ ہم آہنگی ذیادہ وقت تک نہیں چلی۔ شریف آرمی کی لگائی ہوئی روکاوٹوں کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اس کو یہاں تک لائے تھے۔ 1992 میں یہ دشمنی اپنی حد تک پہونچ گئی جب شریف نے اپنے تجربہ کار صلاح کاروں کے مشوروں کو نظر انداز کرکے جنرل جاوید ناصر کو آئی۔ایس۔آئی کا ڈائریکٹر جنرل بنانا چاہا۔ جنرل جاوید ناصر ایک ڈارھی والا کٹرمسلمان تھا۔ وہ اپنے آپ کو الہامیہ تصور کرتا تھا۔ یہ وہ جنرل تھا جس نے اپنی انتہا پسند اسلامی عتقدات کسی سے نہیں چھپائےتھے اور سب کو پتہ تھا کہ اس کا تبلیغی جماعت سے بھی رابطہ ہے اور اس تھؤڑے وقت جب وہ آئی۔ایس۔آئی کا ڈائریکٹر جنرل رہا ، تبلیغی جماعت کے لوگ آئی۔ایس۔آئی کی مہموں میں شامل تھے۔ جنرل جاوید ناصر کے یہ طور طریق آرمی کی ہائی کمانڈ کے لیے باعث شرم تھے جو ملک کی اعلیٰ جاسوسی ایجینسی پر کنٹرول کھو چکے تھے۔ یہ صاف نہیں تھا کہ یہ سب مہمیں حکومت کی اجازت سے کی جارہی ہیں یا یہ جنرل کے اپنے پروجیکٹ ہیں۔
جنرل ناصر نے ایجنسی کے خفیہ آپریشنوں کو کشمیر اور افغانستان کی حدود سے بھی آگے پڑھا دیا۔ 1993 میں ممبائی انڈیا، کے تجارتی دارلخلافہ میں بم پھٹنے سےسینکڑوں لوگوں کی موت ہوئی۔ آئی۔ایس۔آئ پر ذمہ داری کا الزام لگا۔ یہ کہا جاتا ہے ممبائی کی کرائم مافیا کےسرغنہ داؤد ابراہم کا اس سانحہ میں ہاتھ تھا۔اس کی وجہ باری مسجد کا بدلہ بنائی گئی۔ سولویں صدی کی بنی ہوئی مسجد باربی کو ہندو انتہا پسندوں مسمار کیاتھا۔ انڈیا نے پاکستان سے20 آدمی کو پکڑ کردینے کو کہا اس فہرست میں داؤد کا نام سب سےاوپر تھا۔ داؤد ابراہم اس وقت کراچی پاکستان میں آئی۔ایس۔آئی کی حفاظت میں تھا۔ داؤد ابراہم کا نام بین الاقوامی دہشت پسندوں کی فہرست میں بھی آگیا۔ آئی۔ایس۔آئ پر الزام لگنے کی وجہ سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کا خطرہ بڑھ گیا۔
1992 پاکستان کے مسلسل اس بات سےانکار کرنے پر کے آئی۔ایس۔آئی کا دہشت پسندوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ امریکہ نےپاکستان کو دھمکی دی۔ اگر پاکستانی آئی۔ایس۔آئ نے کشمیر میں اسلامی انتہا پسند اور انڈیا کے پنجاب میں آزادی کی جدوجہد کرنے سکھوں کی امداد بند نہیں کی تو پاکستان کا نام دہشت پسند ملکوں کی فہرست میں درج ہوجائے گا۔
سی۔آئی۔اے کےڈائریکٹر جون وولسے نے کہا کہ آئی۔ایس۔آئی لڑائی کی آگ کو بھڑکارہی ہے۔ اسی سال ایک خط میں جیمس بیکر، یو۔ایس سیکریٹری آف ایسٹیٹ نے نواز شریف کو لکھا کہ اگر آئی۔ایس۔آئی نے سامان اور اسلحہ دینا بند نہیں کیا تو امریکہ پاکستان کی مختلف چیزوں میں امداد روک لے گا۔
1993 میں اس ڈر سے کے امریکہ پاکستان کو دشت پسند ملک کی فہرست میں نا شامل کردے شریف نے وزیر خارجہ اکرم زکی کو واشنگٹن بھیجا تاکہ وہ امریکن ایڈمینسٹریشن کو یقین دلائے کہ شریف جنگجوئی عناصر کی مدد نہیں کرےگا۔ لیکن امریکہ نےاس بات پر زور دیا کہ وہ ان گروپ کے خلاف سخت اقدام لے جودہشت پسند ہیں۔ آئی۔ایس۔آئی نےجنگجو عناصرکی مدد میں کمی کردی لیکن کشمیری سرکشوں کوجن میں جماعت اسلامی بھی شامل تھی چھپے طریقے سے مدد کرتے رہے۔ اگرچہ یہ طریقے امریکہ مطالبوں پر مکمل طور پر نہیں اترے لیکن امریکہ نے پاکستان کو دہشت پسند ملکوں کی فہرست میں نہیں شامل کیا۔
آئی۔ایس۔آئی نے، نہ صرف انڈیا کےاندرونی معاملات میں مداخلت کی بلکہ جنرل ناصر کی ہدایت پر آئی۔ایس۔آئی نے یو۔این کی ممانعت کے باوجود بوزنیہ کےمسلمانوں کو مزائل اور بڑا اسلحہ ہوائی جہازوں کےذریعہ بھیجا۔ اس کےعلاوہ 1993 میں مصر، تونیسا اور الجیریا نے بھی جنرل ناصر کےخلاف شکایت کی تھی کہ وہ ان کے ممالک میں انتہا پسندوں کی امداد کررہا ہے۔
وزیرآعلیٰ نواز شریف کی حکومت کےخاتمہ کے بعد اس بے مثال جنرل ناصر کو مئی 1993 میں آئی۔ایس۔آئی سےنکالنےکے بعد ملٹری سےبھی ریٹائرڈ کردیاگیا۔
ملٹری کی بیٹھائی ہوئی سابق ورلڈ بنک کےایک آفیسر معین قریشی کی عارضی حکومت نےامریکہ کا پاکستان پردباؤ کم کرنے کےلیے آئی۔ایس۔آئی چھٹائی کرنی شروع کی۔ بیسوں افسر جو افغان انتہا پسند سےملےجلے تھے آہستہ آہستہ باہر کردیے گئے۔ گیارہ سو کےقریب آئی۔ایس۔آئی کے کارگر وں کو یا تو ریٹایرڈ کردیا گیا، یا ان کو ان کےملٹری یونٹوں میں واپس کردیا گیا۔ اس تبدیلی کی وجہ اسلام آباد کی نئی پالسی تھی۔ جس میں ایک گروپ دوسرے گروپ سےافغانستان میں لڑ رہا ہو۔ نئی پالسی، مئی 1992 میں نجیب اللہ کی افغان میں کمیونیسٹ حکومت کے گرنے کے بعد عمل میں آئی۔ یہ اقدام امریکہ کی خوشمندی حاصل کرنے میں شاید کامیاب ہوئے ہوں۔ لیکن اس سے آئی۔ایس۔آئی کی معین سمت میں تبدیلی نہیں ہوئی ۔ایجینسی کے کشمیری انڈیا سےعلحیدگی چاہنے والےگروپوں سے تعلقات بدستور رہے۔ کیونکہ ملٹری کے خیال میں وہ پاکستان کی جنگ لڑ رہے تھے۔ ملٹری میں یہ کا خیال تھا کہ کشمیر میں انڈیا کی آدھا میلن فوج کوالجھائے رکھ کر کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑنے والے پاکستان کی بھی حفاظت کر رہے ہیں۔
یہ آنکھ مچولی جاری رہی اور بینظیر بھٹو، تین سال پہلے کی رخصتی کے بعد ایک بار پھرنومبر 1993 میں وزیر اعلیٰ بنیں۔ اس دفعہ ان کو اسی آرمی کی حمایت حاصل تھی جس نے ان کو 1990 نکال باہر کیا تھا۔ پہلی بار کے مقابلہ میں اس دفعہ صورت حال مختلف تھی۔ اس دفعہ نہ صرف آرمی چیف عبدالوحید قادر ان کیطرف تھا اور بلکہ نیا صدر پاکستان فاروق لغاری صدر پاکستان بھی پرانی پی۔پی پارٹی کا وفادارتھا۔ پہلی دفعہ کی حکومت کی طرح نہیں بلکہ اس دفعہ تینوں میں ہم آہنگی تھی۔ پچھلےتجربات کی بنا پر بےنظیر نے آرمی کو خوش رکھنے کی کوشش کی اور خارجی پالسی میں مصلحت اندیشی اختیار کی۔
1994 تک آئی۔ایس۔آئی، پھر ایک دفعہ مداخلت کررہی تھی۔ 1993 کے درمیان جب کوئی تین درجن طالبان جنوب مشرق میں قندھار کے نزدیک ( کشکےناخود ) مختلف مجاہدین کی آپس میں لڑائی میں اور ملک کی لاقانونی پر آواز بلند کرنے جمع ہوئے تو آئی۔ایس۔آئی اس دفعہ طالبان کی کفالت کررہی تھی۔ طالبان ، پشتو کا ایک لفظ ہے جس کے معنی مذہی اسکول یا مدرسہ کے طالب علم ۔ یہ لوگ آبادی کےغریب گھرانوں سے آئے ان میں بےگھر اور یتیم بھی شامل تھے۔ اس گروپ کی قیادت مجاہدین کا ایک سابق کماندر ملّا محمد عمر کررہاتھا۔ ملّا محمد عمر نےاپنے علاقہ سےان فاسق مجاہدین کمانڈروں کو نکال باہر کرنے کا ٹھیکا لے لیا۔
ملّا محمد عمر نے سویت یونین کےخلاف لڑائی میں ایک آنکھ کھودی تھی۔اور وہ جنگ کے بعد ایک مدرسہ میں طالب علم تھا۔ ملا عمر نے ایک مجاہدین لیڈر جس نےدو لڑکیوں کی عصت دری کی تھی قتل کرکے اپنےگاؤں مائوانڈ کے قریب ایک ٹنک کی نالی پرلٹکا دیا۔ اس واقع نےملا کومشہور کردیا۔ مجاہدین کےطاقت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کےخلاف اس برجستہ عمل نے تمام ڈسٹریکٹ کے لوگوں ملا کے اردگرد جمع کردیا اور اس طرح طالبان کا وجود ہوا۔
اکتوبر 1994 میں پاکستان کاحفاظی دستہ مُلّا عمرسےملا، وہ ٹرک کےایک قافلے کوترکمینستان مُلّا حفاظت میں بھیجناچاہتے تھے۔ شروع میں آئی۔ایس۔آئی جوگلبدن حکمتیار کی حزبِ اسلامی مجاہدین گروپ کیطرفدار تھی اس پرشک کیا۔ لیکن بے نظیر کی حکومت میں اندرونی معاملات وزیر ریٹائرڈ جنرل نصیر اللہ بابر نےطالبان میں امکانی سیاسی قوت دیکھی جوجنگ میں تباہ ہوئے ملک امن و امان قائم کرسکتی ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان کو اقتصادی اور تذویری فائدے مل سکتے ہیں۔
پاکستان کےجنوب مشرق میں ایک دوستانہ حکومت پر کنٹرول سینڑل ایشا سےتجارت اورگیس حاصل کرنے کے راستہ کھل سکتے ہیں۔ پاکستان ترکمینستان سے، گیس خریدناچاہتا تھا۔ لیکن یہ اسی صورت میں ممکن تھا کہ افغانستان میں سے یہ پائپ لائن گزرے۔
ہوسکتا ہے کہ اس وجہ سے شروع میں امریکہ کی ہمدردیاں اس طالب علموں کی رضا کارسپاہیوں کونظرانداز کررہی تھیں۔ اسلام آباد کےامریکن ڈپلومیٹ کو بھروسہ تھا کہ طالبان، افغانستان میں ایک مضبوط مرکزی خکومت قائم کرنےمیں ایک اہم کردار ادا کریں گے۔ ریلف آرگینائزیش جو یو۔این کےخاص مشن کی نا کامیابی سے بدظن تھے نے بھی نجی طور پر یہ ہی خیال ظاہر کیا۔ انہوں نےتعصب کے باوجود طالبان کو افغان کےاس مسلہ کا حل سمجھا جس کو بین الاقوامی امن کرانے والےنہیں حل کرسکےتھے۔ یہ سب طالبان کے اسلامی سوشل انصاف کےخطبات سےمتاثرتھے۔ اس کےعلاوہ امن و حفاظت کے درمیاں سمجوتےاور انسانی حقوق پر بھی بات چیت چل رہی تھے۔
1995 میں جب اس تحریک نےقندھار اور کچھ اور صوبات پر جیت لیےتو اسلام آباد نے بھی ان کی مدد کرنے کا ارادہ کرلیا۔ اسطرح آئی۔ایس۔آئی اس معاملہ میں شامل ہوئی۔درجنوں انٹیلیجینس آفسر کو طالبان کے سپاہیوں کے ساتھ محلق کیا گیا۔ تاکہ وہ ان کو شاطرانہ اور ماہرانہ امداد فراہم کریں۔ ان میں بہت سےسویت یونین کےخلاف مجاہدین کے ساتھ جہاد میں حصہ کے چکےتھے۔اور مختلف افغانی مجاہدین سےان کی روابط تھے۔
امیرسلطان طرار کو یہ نیا کام سونپا گیا۔ طرار شروع ہی افغانستان میں سی۔آئی۔اے اور آئی۔ایس۔آئی کےمخفی آپریشن میں شامل تھا۔ طرار کا کوڈ نام کرنل امام تھا۔ اور افغان کے جہاد کے زمانے سے بہت سےطالبان لیڈر سےواقف تھا۔ اس لیے وہ اس کام کے لیے بہتر آدمی تھا۔
اسکی ڈاڑھی اور صافہ پہنے کی وجہ سےاس میں اور کسی طالبان میں امتیاز مشکل تھا۔ اورجلد ہی اس نےرابطہ پیدا کرلیا۔ اس کو پاکستان نےقندھار اور پھر ہرات ( جو کے مشرقی افغانستان کا ایک شہر ہے ) میں پاکستان کے کونسل جنرل کےعہدے پر فائز کردیا۔اسطرح نا صرف وہ طالبان کے لیڈروں کےلیےایک مشیر بن گیا بلکہ وہ طالبان کواسلحہ اور پیسہ بھی دینے کا ایک زریعہ بن گیا۔ یہ امداد تھی جس کی وجہ وار لارڈ کےخلاف طالبان کی طاقت کا وزن بھاری ہوگیا ۔ کرنل امام اوردوسرے انٹیلیجنس افسران نےدوسری طرف کےمجاہدین لیڈروں کوطالبان کا طرفدار بنانے کے لیےخریدنا شروع کردیا۔ 1996 میں طالبان کا، کابل پر قبضہ ہونے کے بعد آی۔ایس۔آی کا کام اور بھی بڑھ گیا اب انہیں اپنا کنڑول سارے افغانستان میں پھیلانا تھا۔
طالبان کے ستاروں کا اس طرح چمکنا اسلام آباد اور پاکستان کی اسلامی پارٹیوں کی بدولت تھا۔ 1997 میں مزار شریف کی جنگ میں لڑنے کے لیےسرحد کے آس پاس کے مدرسوں سے ہزاروں طلبا افغانستان بھیجے گئے ۔ صوبہ سرحد اور بلوچیستان کے مدرسے بند ہوگئے تاکہ یہ طالب علم اس مذہبی جنگ میں حصہ کےسکیں۔
پاکستان کی طالبان کی مدد کرنے کی وجہ نظریاتی نہیں تھی۔ اس کی پختون تحریک کو استعمال کرنے کی وجہ افغانستان پردائرہ اثر قائم کرنا تھا۔ اصلی مقصد انڈیا کا مقابلہ میں اپنا کنٹرول بڑھانا اورایران اور افغانستان میں دوری پیدا کرناتھا۔ پاکستان کےفوجی حکمت عملی کےماہروں کاخیال تھا کہ افغانستان میں ایسی حکومت جس میں پختون کی اکثریت ہو پاکستان کو انڈیا ( جس سےاس کا کشمیر میں عرصہ سےجھگڑا چل رہا ہے ) کےخلاف علاقائی برابری دے گی۔ ان خیال تھا کہ ملک کی چوڑائی کم ہے اور یہ کوتاہی، انڈیا سےجنگ کی صورت میں نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ایسی حکمت عملی پاکستان کی افغانستان پالسی میں1980 سےشامل تھی۔ لیکن طالبان کا افغانستان پرحکومت پانے سے یہ خواب پورا نہیں ہوا۔ طالبان نے پاکستان کا آسامی بننے سےانکار کردیا۔
پاکستان کوایک زبردست دھچکا لگا۔ جب اس انتہا پسند حکومت نے دُوران لائن کو ماننے سے بھی انکار کردیا اور صوبہ سرحد کےکچھ حصوں پراپناحق جمایا۔ پاکستان کےافغانستان سے تعلقات تب سے خراب ہیں جب انگریروں نےانڈیا اور پاکستان کو آزاد کیا۔ ہرافغان حکومت نے پاکستان اور افغانستان کےدرمیان انٹرنیشنل دوران لائن کو ماننےسےانکار کیا ہے۔ افغانستان ہی صرف ایک واحد ملک تھا جس نے پاکستان کی یو۔این میں شمولیت کےخلاف ووٹ ڈالا۔ 1950 اور 1960 میں افغان حکومت نے صوبہ سرحد میں پختون کوپاکستان سےعلحیدہ ہونے والی تحریک کو فروغ دیا۔
1980 سے پاکستان کی افغان پالسی کا بڑا حصہ نسلی اور مذہبی تعلق استعمال کرکے افغانستان میں ایک دوستانہ اور اطاعت پزیرحکومت کا قیام تھا۔ سویت یونین سےجنگ کےدوران پاکستان نےانتہا پسند حکمت یار کی طرح کے پختون مجاہدین کمانڈروں کی طرف لی۔ اور ان پختون طالبان کو بھی امداد دینے کی وجہ یہی تھی۔ طالبان کا یہ کٹر، سخت اور بنیادی مذہبی رنگ میں دنیا سےبرتاؤ کرنے کی وجہ سےوہ بین الاقوامی اچھوت بن گئے۔ طالبان نےدنیا بھر کےاسلامی انتہا پسندوں پناہ دینی شروع کردی۔ نہ صرف یہ بلکہ پاکستان کی کوتاہ نظری نےطالبان کو اپنا نظریہ پھیلانے سےنہیں روکا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان کا طالبانی بنے کا خطرہ بڑھ گیا۔
طالبانی عملداری نےایک جنگ سے پامال ملک کو اُساما بن لادن کا گھر بنادیا۔ القاعدہ کی دہشت انگیر انگلیاں پاکستان میں پھیل گئیں۔ پاکستان کےاسلامی جنگجو جن کو آئی۔ایس-آئی نےتربیت دی تھی طالبان کےطرفدار بن گئے۔
افغانستان دنیا بھر کےجنگجوں کے لیےایک تربیت گاہ بن گیا اور اس سےافغانستان اور کشمیر میں لڑنے والوں کا رابطہ بن گیا۔ اس کےساتھ ہی پاکستان بھی غیرملکی جہادیوں کے لیےایک مکہ بن گیا۔ یہ وہ لوگ تھےجوافغانی جہاد کےلیےآئےتھے۔ اور جب سویت یونین کی ہار ہوئی تو یہ لوگ پاکستان میں ٹھہرگے۔ وہ اپنےملکوں کو واپس نہیں لوٹے کیونکہ ان کوخطرہ تھا کہ وہاں ان کی ایذا رسائی ہوگئی۔ کیونکہ انہوں نے ایس۔آئی کی مدد کی تھی۔ پاکستان ان کے لیےحفاظتی جنت بن گیا۔
اس دوران بےنظیر بھٹواس انتہا پسند سوسائٹی کو قابو نہیں کرسکی۔ 1996 میں پریسیڈینٹ نےاس کو برطرف کردیا۔ پچھلے آٹھ سال میں یہ تیسری مرتبہ تھا کہ ایک منتخب حکومت کو اسکا وقت مکمل ہونےسےپہلے نکال دیا گیاہو۔ کمزور جمہوری ادارے، جمہوری سیاسی کلچر کی کمی، پشتی سیاست، سیاسی لیڈروں کی نااہلی، نالائقی اور فوج کا سیاست میں مداخلت کی وجہ سے پاکستان میں جہوریت ہمشہ نازک حالت میں رہی۔
اس کےبعد کےالکشن میں نواز شریف کثرتِ رائے سےجیت گیا۔ شریف نےتہیہ کرلیا تھا کہ وہ اس دفعہ اپنا اقتدار نہیں جانےدے گا۔ چنانچہ اس نے پریسیڈینٹ اور عدالیہ کی طاقت کو کمزور کرنے کے لیےاسلامی پالسی کو فروغ دیا تاکہ وہ اپنےاقتدار کو مضبوط کرے۔ شریف نےایک شریعہ بل پیش کیا اوراس اسلامیت کوآگے بڑھایا جس کی ابتدا جنرل ضیانے کی تھی۔ اس کا مذہب کو اپنی سیاسی ضروت کےلیےاستعمال کرنےسے کٹر اسلامی اورجنگجو مذہی عناصر کو شہ ملی۔ اِس سےمذہب کی وجہ سے کیےہوئےجبراورظلم میں اضافہ ہوا۔ شریف کی توجہ اپنےاقتدار کوقائم رکھنے پراور اقتصادیات پر بےتوجہی کی بنا پر تجارت تباہی تک پہنچ گی۔ اور صیغہ مال نظم و ضبط نہ ہونے کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے کی حدود پر پہنچ گیا۔ شریف کو اداروں کی پراوہ نہیں تھی اور نہ ہی اس کو اسنےماڈرن ملک کےاداروں کو سیکھا یا سمجھا۔ اس نےحکومت کو موروثی سمجھا۔ اور اس طرح سےچلایا بھی۔ مدیر اور صحافیوں کوتنقید کرنے پرگرفتار کیا گیا اور انہیں تنگ و پریشان کیا جانےلگا۔ شریف اس بات کےمنصوبے بنا رہا تھا کہ وہ آئین میں تبدیلیاں لا کرخود کو“ امیر المومن “ ( واجب الوجود حکمران ) قرار دے گا۔
سول سوسائیٹی اورجہموری اداروں کو دبانے کےساتھ ساتھ شریف نے “ حکومت کی ملکیت“ یعنی تمام کارپوریشن کو اور تمام ترقیاتی کے کام ہورہے تھے ملٹری کےسپرد کردیا۔ دو لاکھ پچیس ہزار فوجیوں کو مردم شماری پرلگا دیا۔ ایک لاکھ فوجیوں کو بجلی کےمیٹر پڑھنے اور واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ کو چلانے میں لگادیا۔ یہ ادارہ بجلی کی پھیلانے اور ملک کے بڑے آب پاشی کےنظام کا زمدار تھا۔ ایک وقت لاہور کے آوارہ کتوں کو مارے کے لیے فوجیوں کو لایا گیا۔
پاکستان میں اس سے پہلے اتنی بڑی تعداد میں آرمی کا سرکاری معاملات میں استعمال نہیں ہوا۔ آرمی پر کام چلانے پر بھروسہ کرنے کے اپنے نتیجےہیں۔ سول نظام و نسق کوچلانے کی ذمداری ملنے پر آرمی کےاعلیٰ افسران اور بھی ملک کےسیاسی اقتدار میں شامل ہوناچاہنے لگے۔ اس بات نےشریف اور ملٹری کےدرمیان کھنیچاؤ پیدا کردیا۔ کیونکہ شریف کسی اور سے اقتدار میں ساتھی نہیں بنانا چاہتا تھا۔
شریف نے دو افضل جنرلوں کو نظر انداز کر کےجنرل مشرف پرویز کو آرمی کا نیا چیف بنادیا۔ اس نے یہ سوچ کر مہاجر اقلیت کےآدمی کو پنجابی بالادست آرمی کا چیف بنایا تھا کہ مشرف پنجاب کےطاقت ور پرائم منسٹر سے پنگا نہیں لےسکےگا۔ لیکن اس کی غلطی یہ تھی کہ یہ جھگڑے جنرلوں کے ذاتی نہیں تھے یہ آرمی کے ادارے کی نواز شریف سے ان بن تھی۔ اس نے یہ غلط سوچا کہ اگر وہ اپنے ایک آدمی کو آرمی کی سربراہی دے گا تو آرمی اس کی غلام ہوجائےگی۔ شریف کے لیے یہ فردیت تھی۔ مگر آرمی کے لیے یہ ادارتی معاملہ تھا۔
مئی 1999 میں شریف کے انڈیا سے امن و امان کی گفتگو کے بعد آرمی اور شریف کےمقابلے کا وقت آیا۔ اس وقت مشرف نے پرائم منسٹر کو بتائے بغیر کشمیر میں روکے ہوئے معرکہ کو جان دی۔ پاکستانی آرمی نے کارگل کی چوٹیوں انڈیا کی چوکیوں پرقبضہ کرلیا۔ یہ انڈین آرمی کی وہ چوکیاں تھیں جو وہ اپنی روائت کے مطابق موسم سرما میں خالی کردیتے تھے۔ انڈیا ان کو واپس لینے کے لیےجنگ پرتیارتھا۔ خوف ذدہ نواز شریف نے امریکن پریسیڈینٹ کلینٹن سے اس معاملہ میں سمجھوتہ کرانے کی گزارش کی۔ شریف کو انڈیا کی ایسی شرائط قبول کرنی پڑہیں جس کی وجہ سے ملک کےجنگجو لوگوں سےاس کا ٹکراؤ ہوا۔ اکتوبر میں اس سے پہلے کے وہ مشرف کو نکالنے کی کوشش کرتا۔ یہ صاف ظاہر تھا کہ انتہا پسند ملٹری اقتدار میں ہے ناکہ الیکشن جیتی ہوئی حکومت۔
اختتام - باب اول
پاکستان کا ناپاک اتحاد - لڑاکا اور فوج
مرسلہ: اتوار فروری 10, 2008 12:28 am
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
دوسرا باب
پاکستان کی رخ موڑی
گیارہ ستمبر 2001 کو آئی۔ایس۔آئی کا چیف لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد واشینگٹن کے کیپیٹل ہل میں سنیٹر باب گرام اور کانگریس مین پوررٹر گراس ( چیرمین آف سینٹ اینڈ ہاوس اینٹیلیجینس کمیٹی ) کے ساتھ صبح کا ناشتہ کررہا تھا۔ اس موقع پر سینیٹر جون کائل اور پاکستان کی امریکہ میں پاکستان کی ایمبیسیڈر ملییاہ لودھی بھی موجود تھیں۔وہ لوگ دہشت پسندی کے موضوع ، خاص طور پر بن لادین کے متعلق گفتگو میں مشغول تھے کہ سینیٹرگرام کے ایک اسٹاف ممبر نے ورلڈ ٹریڈ سینٹڑ پر جہازوں کے ٹکرانے کی اطلاع دی۔ یہ میٹینگ اس وقت تک جاری رہی جب ایک جہاز کے کیپیٹل ہل کی طرف آنے کی اطلاع آئی تو یہ میٹنگ برخواست ہوئی۔ جنرل محمود نے اس سانحہ پرامریکہ کے لوگوں لیے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا اور پانچوں تیزی سے منتشر ہوگے۔
اس شام جنرل محمود اپنا یہ ایک ہفتہ لمبا دورہ کرکے کے پاکستان رخصت ہونے والا تھا۔ لیکن اس کی یہ روانگی دہشت پسندوں کے حملے کے بعد تمام ائرپورٹوں کے بند ہوجانے کی وجہ سے رک گئی۔ وہ ٩ ستمبر کو سی۔آئی۔اے کے چیف اور یو۔ایس سینئیر آفیشل کی ستورالعمل دعوت پر سے صلح و مشورہ کے لیے آیا تھا۔ 1990 پاکستان کی ایٹمی کاروائیوں کو بند کرانے کے لیے پاکستان کی امداد پر پابندی لگادی تھی۔ جس سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان نااتفاقی پیدا ہوگئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود بھی سی ۔آی۔اے اور آئی۔ایس۔آئی کا رابطہ جاری رہا۔
آئی۔ایس۔آئی کےچیف کی حیثیت سے جنرل محمود یہاں دوسری بار آیا تھا۔ پہلی بار اپریل 2000 میں پریسیڈنٹ کلینٹن کے پاکستان کےمختصر دورے کے بعد جنرل محمود، واشینگٹن آیا تھا۔ یہ ملاقات سی۔آئی۔اے نے پاکستان کے چیف اسپائی ماسٹر سے تعلقات استوار کرنے کے لیے کی تھی۔ اور اس کو اعتماد حاصل کرنے کے لیے اس کی خوب خاطرتواضع کی گئ۔ پاکستانی جنرل کی درخواست پر اس کو گیٹیس برگ کا نجی سیر کرائی گی۔ کیونکہ نیشنل ڈیفینس کالج میں اس امریکن 1836 کی سول وار پر اپنا تھیسیس لکھا تھا اسلئے جنرل کو گیٹیس برگ میں دلچسپی تھی۔ وہ اس موضوع پرگھنٹوں گفتگو کرسکتا تھا۔ لیکن سی۔آیی۔اے کو یہ یقین نہیں تھا یہ سب خاطرومدارت نےاپنا کام کیا ہو۔ اس کی وجہ دورہ میں بدمزگی پیدا ہونا تھی، جب یو۔ایس انڈرسیکرٹری تھامس پیکرینگ نے پاکستان کی طالبان کی امداد کرنے پر جنرل کی زبردست گوشمالی کی ۔ وہ اس ذلت اور غصہ میں بھرا پاکستان لوٹا۔ اس حادثہ نے پاکستان کو امریکہ کے تعلقات کو بہتربنانے میں مدد نہیں کی۔ پاکستان میں ملٹری حکومت اور امریکہ کی پاکستان کی امداد روکنے کی وجہ سے باریک دھاگے سے بندے تھے۔ پاکستان کی طالبان کی معاونت جب کے کٹر طالبان دوسرے ملکوں سے ہزاروں جنگجو لائے رہے تھے بش ایڈمینسٹریشن کے زبردست فکر کی وجہ تھی۔
جنرل اشرف کے بعد جنرل محمود آرمی کا سب سے طاقتور شخص تھا۔ وہ ایک ناٹا تھا جس کی موچھیں بائیسکل کا ہنڈل بناتی تھیں۔ جنرل ایک سنگدل اولوالعزم انسان تھا۔ بغیرنتائج کی پرواہ کیےفیصلے کرنا اور تکبراس خصوصیات تھیں۔ وہ اپنے افسران میں مقبول نہیں تھا۔ 10th corp کا کمانڈر ہونے کی حیثیت سے وہ اُن دو کمانڈروں میں سےتھا جنہوں نے 2 اکتوبر 1999 میں انقلاب لاکر مشرف کو تخت پر بٹھایاتھا۔ اس کےفوجیوں نےاسلام آباد پر قبضہ کرکے نواز شریف کوگرفتار کیا تھا اس کے صلہ میں مشرف نےاس کو آئی۔ایس۔آئی کا سربراہ بنادیا تھا۔اس کےاقتدار میں اسلامی جنگجووں کی امداد بڑھ گئی۔ کشمیر میں جہادیوں کی سرگرمی ذیادہ ہوگئ اور افغانستان کو کنٹرول کرنے کےلیے پاکستان طالبان کے اور قریب ہوگیا۔
امریکہ کےدوسرے دورے میں وہ سی۔آئی۔اے کے سینیئرافسران، پینٹاگون اور نیشنل سیکیوریٹی کونسل کے افسران سے ملا۔ اس ملاقات کے دوران گفتگو کا مرکز افغانستان میں دہشت پسندی تھا۔ اس نے پاکستان کی “ طالبان پالیسی“ کے د فاع کہا کہ مُلا عمر ایک نیک اور مذہبی آدمی ہے اور وہ دہشت پسند نہیں۔ حالات اور بھی خراب ہوگئے جب دو افراد نےافغان ندھرن الائینس کےسربراہ احمد شاہ مسعود کو ہلاک کردیا۔یہ قاتل صحافیوں کے بھیس میں تھے۔ الائینس کے دوسرے لوگوں نے القاعدہ اور آئی۔ایس۔آئی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
جنرل محمود، ایمبیسیڈر لودھی کے آفس میں شام پانج بجے ٹیلیویژن پر نیویارک ٹوین ٹاورسے متعلق خبریں دیکھ رہا تھا، جب یو۔ایس ڈپٹی سکریٹری آف اسٹیٹ ریچرڈ ایمریتاج نے اس کو ایک ایمرجنسی میٹنگ میں بلایا۔صبح 10 بجے 10 ستمبر کو جنرل، ایمبیسیڈر اور ایمبیسی کا ایک سینیئر افسر ضمیر اکرم یو۔ایس اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ پہونچے۔
ایمریتاج مختصر اور جامع تھا جب اس نے کہا پاکستان کو ایک سخت فیصلہ کرنا ہے “ تم ہمارے خلاف ہو یا ہمارے ساتھ ہو ۔ یہ صاف صاف انتخاب ہے“۔
جنرل نے پوچھا کےاس صورت حال میں میرا ملک کیا کرسکتا ہے۔
“ ہمیں تمہارے ملک کی مکمل مدد اور تعاون چاہیئے۔ ہم تمہیں کل بتائیں گے کے اس کی تفصیلات کیا ہیں۔“
ریچرڈ ایمریتاج نے جنرل کو کل آنے کو کہا۔
واپسی پر جنرل نےمشرف کو ٹیلی فون کیا۔ مشرف کراچی میں ایک لوکل حکومت کے نمائندوں سےخطاب کرہا تھا جب اس کے سیکرٹری کے نیویارک ٹوین ٹاور کےسانحہ کی اطلاع دی۔اس کو فوراً اس بات کااحساس ہوا کہ اسے کیا فیصلہ کرنے پڑئیں گے۔
“ میں نےفوری فیصلہ کیا۔ مگر میں نےاس کے بارے میں کافی غور کیا اور میرے مشیر اور ملٹری کے سینیئ کمانڈروں سے رائے لینے کے بعد“۔ مشرف نےیہ مجھ سےایک انٹرویو میں کہا۔“ میں نے نیپولین کا نظریہ اپنایا کہ فیصلہ کرنے کی بنیاد 75 فیصد تجزیہ اور انفارمیشن ہوتی ہیں اور 25 فی صد اندھیرے میں چھلانگ لگانا“۔
جنرل محمود نے واشنگٹن کاجوغصہ اور تصادم مشرف کو بیان کیا اس سے مشرف کو بالکل حیرت نہیں ہوئی۔ اس کو بھی سیکریڑی آف اسٹیٹ کولن پاول نے بھی یہ مختصر اور جامع الفاظ میں یہ ہی کہا۔“ امریکہ کے لوگ یہ نہ سمجھ پائیں گے کہ پاکستان اس لڑائی میں ان کی طرف کیوں نہیں ہے“۔
مشرف نے کولن پاول کو اپنے ملک کے تعاون کا یقین دلایا۔
١٣ ستمبر کو جنرل محمود اسٹیٹ ڈیپارٹمینٹ لوٹا۔
ایمریتاج نےجنرل کو ایک کاغذ دیتے ہوئے کہا۔ “ اس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں“۔ اس کاغذ میں سات مطالبےتھےجو بُش ایڈمینیسٹرشن چاہتی تھی۔
جنرل، جو طالبان کا زبردست طرفدار تھا۔ اس پرچے پرایک نظر ڈالی اور اسکو ایمبیسیڈر کو پڑھنے کےلیےدے دیا۔ اس سے پہلے کے ایمبیسیڈر لودھی اس کو پڑھنا شروع کرے جنرل نے کہا۔ “ ہمیں یہ تمام منظور ہیں“
اس جواب کی پھرتی نے ایمریتاج کو حیران کردیا اور پاکستانی آفیشیل کو ششدر میں ڈال دیا۔
“ یہ بہت طاقتور الفاظ ہیں۔ کیا تم نےاپنےصدر سے اس پر بات نہیں کروگے“۔ ایمریتاج نے کہا۔
“ مجھے صدر کی سوچ پتا ہے“۔ جنرل محمود نے کہا۔
جیسےایمریتاج کےسر بوجھ اترگیا ۔ اس نےجنرل محمود کو سی۔آئی۔اے کے سربراہ جارج ٹینٹ سے سی۔آئی۔اے کے ہیڈکوارٹر لینگلیے میں ملنے کو کہا۔ “ وہ تمہارا انتظار کررہا ہے“۔
جارج ٹینٹ سے سی۔آئی۔اے کےہیڈکوارٹر لینگلیے میں اس اہم ملاقات کےلیےجاتےہوئےجنرل محمود اداس لگ رہا تھا۔ وہ امریکن آفیشل کے اس سخت رویہ پر بڑبڑایا۔ جن مطالبوں کو اس نےدس منٹ پہلے قبول کیا تھا وہ اب ان سےخوش نہیں تھا۔وہ ایک ایسےجنرل کی طرح لگ رہا تھا جس نےجنگ ہاردی ہو۔ اس دوران ایمبیسیڈر لودھی سفارت خانہ کو واپس ہوئی جہاں سےاس نے یہ مطالبات صدر مشرف کو اسلام آباد فیکس کئے۔ جنرل محمود پاکستان کا اس “ دہشت کے خلاف جنگ“ میں حصہ لینے پر امریکن آفیشل سےتبادلہٴ خیال کے لیے 16 سمبر تک واشینگٹن میں ٹھہرا۔ لیکن یہ صاف ظاہر تھا کہ وہ اس کو عملی جامہ پہنانےکے لیے مشتاق نہیں تھا۔
وینڈی چیمبرلین، امریکہ کا سفیر13 ستمبر کو صدر مشرف سے ملا اور اس نے مشرف کو صدر بُش کی طرف سے وہی سات نکاتی پیغام پیش کیا۔ جو کہ جنرل محمود کو دیا گیا تھا۔
1۔ پاکستان کی سرحدوں پر القاعدہ کے آپریشن کو روکا جائے۔ پاکستان القاعدہ کواسلحہ اور فوجی انتظام کا علم دینا بند کرے۔
2۔ پاکستان امریکن جہازوں کو پاکستان کے اوپر اُڑنے اور پاکستان میں اُترنے کی کھلی اجازت دے۔
3۔ پاکستان ، نیوی اور ائرفورس کے اڈوں اور سرحد کو استعمال کی اجازت دے۔
4۔ انٹیلیجنس اور امیگریشن کی انفارمیشن فوری طور پر امریکہ کو دے۔
5۔ پاکستان کے اندونی دہشت پسندوں کی امریکہ اور اس کے دوست ملکوں پردہشت پھلانے کی روک تھام کرے۔
6۔ طالبان کو ایندھن دینا بند کردے اور پاکستانی جنگجو کو افغانستان میں طالبان کے ساتھ جنگ میں شریک ہونے سے روکے۔
7۔ پاکستان طالبان سے سفارتی تعلقات توڑلےاور بن لادن اور اس کی القاعدہ کو تباہ کرنے میں مدد کرے۔
مشرف نے اعلان کیا کے پاکستان ان لوگوں کو جنہوں امریکہ کے خلاف یہ خوفناک قدم اٹھایا ہے ڈھونڈنے اور سزا دینے میں امریکہ سے مکمل تعاون کرے گا۔ صدر بُش نے اس کے جواب میں کہا۔“ اب ہم دیکھیں کہ اس کا کیا مطلب ہے“۔
پاکستان کا تعاون امریکہ کےلیےضروری تھا۔ پاکستان کا جغرافی طور پرافغانستان کےقریب ہونا اور افغانستان کےمتعلق وسیع انٹیلیجینس کا ہونا کسی بھی ملٹری کے لےاہم تھا جوالقاعدہ اور طالبان کے خلاف اقدام لینا چاہتی ہو۔ پاکستان ان تین ملکوں میں سے تھا جنہوں نےافغانستان کی اسلامی حکومت کو تسلیم کرلیا تھا۔ دوسرے دو ملک عرب ایمریٹ اور سعودی عربیہ تھے۔ پاکستان نے کابل سے ڈپلومیٹک رابطہ بھی قائم رکھا تھا۔ امریکن مطالبہ میں جس پرجنرل محمود بغیرجھجک کے ہاں بھری تھی یہ بھی ایک شرط تھی کہ پاکستان طالبان کی حکومت سےناطہ توڑ لےگا اور ان کو کسی قسم کی امداد نہیں دے گا اور امریکن ملٹری کوطالبان کے خلاف فوجی نقل و حرکت کی انفارمیشن مہیا کرے گا۔ پاکستان کی سات سال تک طالبان کی حکومت کو مضبوط کرنے ان کو سیاسی، ملٹری اور مالی دینے کے بعد اب ان کی اسلامی حکومت کوختم کرنے میں بُش ایڈمینسٹریشن ان کی مدد مانگ رہا تھا۔
پاکستان کا اس معیار پراترنے کا پہلا امتحان یہ لسٹ تھی۔ واشنگٹن نے آئی۔سی۔ایس سے بن لادین سے متعلق تمام انفارمیشن مانگی جس میں اس کے پاکستانی اور دوسری اسلامی آرگینائزیشن سےتعلق بھی شامل تھے۔ پاکستان نےآخرکار امریکہ کو اس بات پر راضی کرلیا کےامریکہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر سے افغانستان پر کوئی حملہ نہیں کرے گا۔ لیکن ان کے جہاز ہر وقت پاکستان پر سےگزر سکتے ہیں۔ اور اس کے لیے ایک راستہ مقرر کردیا۔ پاکستان، کابل سےاپنے سفارتی تعلقات توڑنے کے لیے تیار تھا مگر امریکہ نےاس میں مصلحت سمجھی کے پاکستان فی الحال اپنے سفارتی تعلقات بہ حال رکھے۔ یو۔ایس اسسٹینٹ سیکرٹری کریسٹینا روکا نے پاکستانی سفیرلودھی سے کہا کہ پاکستان طالبان کی حکومت سےاس وقت تعلقات رکھے جب تک کہ امریکہ اپنا حملہ مکمل نہیں کرلیتا۔ اس وقت طالبان سےسفارتی تعلقات ختم کرنےسےطالبان کو امریلہ کے حملہ کا پتہ چل جائے گا۔
پاکستان ملٹری کو اس تبدیلی پرسخت حیرت ہوئی۔ ان کی ہمیشہ یہ سوچ رہی تھی کہ اگر وہ کابل میں ایک دوستانہ حکومت قائم کرلیں گےتو انڈیا کا پاکستان پر حملہ کی صورت میں یہ تعاون ملٹری کو کام آئے گا۔ ملٹری کوخطرہ تھا کہ اگر امریکہ کے کہے پر عمل کیا تو یہ تعاون خطرے میں پڑھ جائے گا۔
11 ستمبر سے پہلے بن لادن کو افغانستان سے نکلوانےمیں امریکہ کو اسلام آباد کا تعاون حاصل کرنے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ اکتوبر 1999 میں جب مشرف اقتدار پر آیا تو اس نےبن لادن کو پکڑنے کا ایک خفیہ پلان کو ختم کردیا جوامریکہ ،پاکستانی کمانڈو اور آی۔ایس-آئی کی مخبری سے کرنا چاہتا تھا ۔ 1999 میں نواز شریف نے اپنے امریکہ کےدورے کے درمیان یہ پلان واشنگٹن کو پیش کیا تھا۔ امریکہ اس کے لیے 5 میلین اور سابقہ آئی۔ایس۔آئی افسروں اور پاکستانی ملٹری افسروں کو ضروری تربیت دینے کے لیےتیار تھا۔ ستمبر میں اس پلان کی تفصیل اس وقت کے آئی۔ایس۔آئی کے سربراہ جنرل ضیا الدین اور سی۔آئی۔اے کےدرمیان طےہوچکی تھی۔ لیکن اس سے پہلے کے یہ پلان عمل میں آئے تختہ چھین گیا۔ جنرل ضیا الدین جس کو نواز شریف نے ملٹری کا چیف آف اسٹاف بنایا تھا۔ اس کو مشرف کےملٹری طرفداروں نے اسلام آباد پر قبضہ کے دوران گرفتار کرلیا۔ پاکستان ملٹری کا کہنا تھا کہ یہ پلان حقیقت کے مطابق نہیں تھا اور اس کا کامیاب ہونا ناممکن تھا۔ مگر امریکہ نے بن لادن کو افغانستان سے نکلوانے پر پاکستانی کی فوجی حکومت پر اپنا دباؤ جاری رکھا۔
جنوری 2000 میں مشرف نے امریکہ کے سینیئر آفیشل سے وعدہ کیا کہ وہ طالبان کے سب سے اعلیٰ لیڈر ملا عمر سے ملے گا اور اس پر بن لادن کو افغانستان سے بدر کرنے کا دباؤ ڈالےگا۔ لیکن یہ ملاقات ظہور میں نہیں آئی۔ مارچ 2000 میں صدر کلینٹن انڈیا سےامریکہ کی واپسی میں ایک مختصر وقت کے لیے پاکستان میں رکا۔ 1969 کے بعد یہ پہلا امریکہ کا صدر تھاجو پاکستان آیا تھا۔ حالانکہ صدر کلینٹن ایڈمینیسٹریشن اس کے خلاف تھی۔ ملٹری حکومت آنے کے بعد واشنگٹن نے پاکستان کی امداد پر پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ اور دونوں ملکوں کےتعلقات بدتر تھے۔ اس آمنے سامنے ملاقات میں کلینٹن نے بن لادن سے متعلق مشرف کی مدد چاہی۔
“میں نےاس کو زمین و آسمان دینے کا وعدہ کیا“۔ کلینٹن نے بعد میں اپنے مشیروں سے کہا۔ “ اگر وہ ہمیں بن لادن کو گرفتار کرنے میں مدد کرے اور ایک دو اور چیزیں “۔
سفیر لودھی بھی اس ملاقات کے دوران موجود تھیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ “ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ پاکستان کوئی زمین و آسمان دینے کا کہا گیا ہو“۔
ایک بار پھر کلینٹن نے مشرف کو اس کا افغانستان جاکر ملا عمر سے بن لادن کو ملک بدر کرانے کا وعدہ یاد دلایا۔ جون میں سی۔آئی۔اے ڈائریکٹر جارج ٹینٹ اس مسیج کے ساتھ پاکستان گیا۔ یہ صاف ظاہرتھا کہ ملا عمر بن لادن کو نکالنےسےمتعلق مشرف کی بات نہیں سنےگا۔ چناچہ مشرف افغانستان نہیں گیا۔ اور اسے یہ بھی پتہ تھا کہ اس کے بہت سے کٹر جنرل جن میں جنرل محمود بھی شامل تھا نہیں چاہتے کےاس موقع پرجب کہ طالبان ندھرن الائنس پر آخری حلمہ کرنے والے ہیں اسی کوئی بات کی جائے۔
طالبان کے لڑاکوں میں عربی جنگجو بہت اہم تھے اور آنے والی جنگوں میں ان کا موجود ہونا ضروری تھا۔ پاکستان کے کچھ نہ کرنے سے واشنگٹن کی مایوسی میں اضافہ ہوا اور امریکہ نے کھلے عام پاکستان پرالزام لگایا کہ پاکستان طالبان کی ان جنگی تیاریوں میں اس لیےمدد کررہا ہے تاکہ طالبان کو افغانستان پر مکمل کنٹرول حاصل ہوجائے۔ ستمبر میں بین الاقوامی اتحدہ کی سیکیورٹی کونسل نےطالبان کی حکومت پر نئی منادیاں عائد کیں اور بن لادن کو ملک بدر کرنے کو کہا۔ اس کےعلاوہ تمام ملکوں کو طالبان کو اسلحہ اور ملٹری امداد دینے سے منع کردیا۔ ان نئی منادیوں نے پاکستان کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور اسلام آباد اپنےدوستوں کواسلحہ اور مالی امداد دیتا رہا۔ کلینٹن کے آخری دنوں میں پاکستان اور امریکہ کا رشتہ زچ ہوگا تھا۔ امریکن ایڈمنسٹریشن نے پاکستان کو ایٹمیی وجہ یا نا جہوریت کی بنا پر کانگرس کی طرف سےدی ہوئی پابندیاں لگانے میں کوئی فائدہ نہیں دیکھا۔ امریکہ کی “سخت پالسی“ بھی پاکستان کو تعاون کرنے پر مجبور نہ کرسکی۔
بُش نےصدر بنے کے فوراً ہی بعد دہشت پسندی کے بارے میں مشرف سےبات کرنی شروع کردی ۔ فروری 2001 میں اس نے مشرف سےایک خط میں اس معاملہ میں مدد مانگی۔ اس نےاس بات پر زور دیا کہ بن لادن اور القاعدہ امریکہ کےدشمن ہیں اور امریکہ کےمفاد اور اس خطرہ کو روکنا ضروری ہے۔ لیکن اس دفعہ امریکہ کی پالیسی میں ایک تبدیلی تھی۔ صرف سختی کا اظہار کرنے کے بجائے کولن پاول نے پاکستان کا تعاون حاصل کرنے کے لیے کچھ ترغیب دینے کی بھی بات کی۔ چنانچہ امریکن ایڈمینسٹریشن نے پاکستان کی ملٹری حکومت پر سے کچھ پابندیاں ختم کرنے بات شروع کی۔ لیکن کیونکہ کیپیٹل ہل پر پاکستان کے مطالق ناموافق رویہ تھا۔ اسلئے یہ بات اگے نہیں بڑھ سکی بُش نے ایک بار پھر مشرف کو لکھا کہ افغانستان کی دہشت گردی پھیل رہی ہے اور اس نےمشرف سے درخواست کی کہ وہ اس کوختم کرنے میں مستعدانہ حصہ لے۔
اگرچہ پاکستان کا طالبان پر سال بہ سال اثر کم ہورہا تھا لیکن مشرف، طالبان کی مدد ختم کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ فروری 2001 میں جب میں اور میرا ایک ہم منصب صدر مشرف کا انٹرویو لینے کے لیے راوالپنڈی آرمی ہیڈکوارٹر پہونچے تو وہ مُلا عمر کاایک سبز لفافہ جلدی سے بند کر رہا تھا۔ یہ خط مشرف کےاس پیغام کے جواب میں مُلا نے بھیجا تھا جس میں مشرف نے مُلا عمر سے کہا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردی سےمطالق سرگرموں کی بنا پر بین الاقوامی توجہ اس کی طرف کررہا ہے۔
اس نے ہم سے کہا۔ “ میں نے اس سے کہا کہ اس کو دہشت گری ، مذہبی انتہا پسندی اور عورتوں پر ظلم پرتوجہ دے تاکہ طالبان سے مطلق دنیا کی رائے بدلے“۔
مگر اس کی طرف سے کوئی ایسا اشارہ نہیں ملا جس سےظاہر ہو کے وہ اس طالبان کی مدد ختم کردے گا جو کہ اس کے خیال میں پاکستان کےمفاد میں ہے۔ مشرف، طالبان پر یو۔این کی طرف سے لگی ہوئی پالیسوں سےخوش نہیں لگتا تھا۔
“ ہم ان کے سب دروازے بند کر رہے ہیں“۔ اس نے کہا۔ “ انہوں نے خشخاص کی زراعت بند کردی ہے۔ دنیا کو یہ سمجھنا چاہیے کے اگر ان پر اس طرح کی پابندیاں لگاتے ہیں تو یہ ان کو خودکشی پر مجبور کرنا ہے“۔
بن لادن کوگرفتار کےکے امریکہ کو بھیجنے پرصدر نے کہا کے ایک درمیانہ راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔“ اس کو کسی بھی تیسرے ملک بھیجا جاسکتا ہےِ“۔
مگر ایسا کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی حل نہیں تھا۔
11 ستمبر کے بعد پاکستان کے رویہ میں حیرت انگیز تبدیلی ہوئی۔ یہاں تک کے امریکہ کو بھی اس پرحیرت ہوئی۔ پاکستان کےجمہبوری ملک نہ ہونے کی پرواہ ختم ہوگی۔ اور مشرق میں ملٹری حکومت کی دشت گری کےخلاف جنگ میں شامل ہونے پر پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھے گئے۔
١11 ستمبر نے اسلام آباد کی نیشنل سکوریٹی اور فارن پالیسی سے متلعق سوچ اجاگر ہوئی۔ جس طرح طالبان کی مدد کا فیصلہ چند لوگوں نے کیا تھا اسی طرح اس پالیسی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ بھی چند لوگوں نے کیا۔ طالبان کی مدد ختم کرنے اور امریکہ کو ملٹری کو پاکستان کی حدود میں داخل ہونے اور فضا کو استعمال کرنے کی اجازت صدر مشرف نے کسی سے صلاح و مشورہ کئے بغیر کیا ۔ “ یہ سب ملک کی مفادیت کے لیے تھا“۔ مشرف نے بعد میں کہا۔
مشرف نے یہ ہی بیان اس وقت دیا تھا جب اس نے طالبان کا ساتھ دینا شروع کیا تھا۔
فارن پالیسی کی اس اہم تبدیلی پر ملک کی کسی بھی سیاسی پارٹی سےصلاح و مشورہ نہیں کیا گیا۔ صدر مشرف نے اپنا یہ فیصلہ تین دن بعد اپنی بنائی ہوئی مشیر کونسل کو بتایا۔ یہ لوگ پہلے ہی سےاس پراعتقاد رکھتے تھے۔ 14 ستمبر کو وہ اپنی مشیر کونسل اور سیکیوریٹی کونسل سے ملا اور میٹنگ ساری رات جاری رہی۔ اس میٹنگ میں اس نےاپنےاس فیصلہ کی وجہیں بیان کیں۔ اس کی دلیل یہ تھی کہ پاکستان خود طالبان کی دہشت گیری کا شکار ہے اور طالبان کی حکومت اسلامی انتہا پسندوں کی پاکستان میں فرقہ پرستی پھیلانے میں مدد کررہی ہے۔
“ ہم نے ان کو دہشت پسندوں کی ایک لمبی فہرست دی ہے ۔ جن کوگرفتار کرنے کے انہیں ہمیں دینا ہے“؛۔
اس نے مشیرروں سے کہا کے امریکہ سے تعاون کرنا پاکستان کی ایٹمی قوت اور کشمیر کی پالیسی کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
جاری ۔۔۔
http://danishkadaetafseer.org/danishkada
مرسلہ: ہفتہ مارچ 01, 2008 5:29 pm
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
گذشتہ سے پیوستہ ۔۔۔
١٧ ستمبر کومشرف نےجنرل محمود کو آخری بار ملا عمر کو سمجھانے کے لیےقنداہار بھیجا - اس نے کہا “ میں ملا عمر کو یہ بتاناچاہتا تھا کے اس کےعوام کو ایک بیرونی باشندہ کو پناد دینے سےمضرت پہنچے گی“ ۔ مشرف نے کہا۔
١٩٩٠میں جب پہلی دفعہ بن لادن سودان سے نکالےجانے کے بعد افغانستاں میں مقیم ہوا تو اس کے اور ملا عمر کےدرمیان خوش دلی کے نہیں تھے۔ ملا عمر نے کئی دفعہ اپنےساتھوں کے درمیاں بن لادن کو “گدھا“ کہا اور اس کامذاق اڑایا۔ لیکن بن لادن اس کو ورثہ میں ملا ہے اور پختون کی رسم و رواج کی مطابق بن لادن کو ایک مہمان سمجھ کراس کی حفاظت کرنا پڑھا۔“وہ ایک مرغی کی طرح ہے جس کےگلے میں ایک ہڈی پھنس گئی ہو“۔ وہ ا سے نے ایک دفعہ پاکستان کے رکن سفارت سے کہا۔ طالبان اور ال قاعدہ اپنے مذہی اور سیاسی مقاصد میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے تھے۔ طالبان افغانستان کو ایک قدیم مذہی معاشرہ بناچاہتے تھے۔ اور ان کا یہ مقصدصرف افغانستان تک محدود تھا۔ ١١ ستمبر تک امریکہ ان کا نمبرایک دشمن نہیں تھا۔ القاعدہ کا دوسرے ہاتھ پر بین الاقوامی ایجنڈا تھا۔ جس کا بنیادی مقصد جب بھی موقع ملےامریکہ کے مفاد کونقصان پہنچانا تھا رسمی عقیدہ نہیں۔ ان کا لانحہ کٹراسلامت پھیلانا نہیں تھا۔
افغانستان سےمالی فائدہ ے اور ملک سے باہرجنگو لوگوں کی بنا پر بن لادن نے راسخ الاعتقاد لوگوں پراپنا حلقہ اختیا ر وسیع کردیا اس کٹراسلامیت کو قبول کرنے کی وجہ سےملا عمر کےاس مہمان سے تعلقات اچھے ہوگے۔
اسلام باد کی ملا عمر پر دباؤ ڈالنے کی قوت کم ہوتی گئی۔ ملا عمر اب اسلام باد کی لگام میں نہیں رہا۔ پاکستان کو سخت شرمندگی ہوئی جب ملا عمر نے مشرف کےوزیر داخلہ مُحی الدین حیدر کی یہ درخواست کے ملا عمر ان فرقہ پسندوں کو پاکستان کےحوالے کردے جنہوں نے پاکستان میں ایک شیعہ مسجد میں پرحملہ کرکے کئی لوگوں کی جان لی تھی۔ مارچ ٢٠٠١ میں پاکستان کی یہ درخواست بھی رد کردی کہ وہ بامیان میں بدھا کےمجسمہ کوتباہ نہ کرے۔ پاکستان کی کوشش کے وہ طالبان اور القاعدہ کی مدد سےافغانستان میں اپنا دارہ احتیار بڑھائے لیکن اس کوشش نے پاکستان کا پر القاعدہ اور طالبان دونوں پر کنٹرول کھودیا۔ انٹرنیشل خفگی اور افغستان کےاندرونی احتجاج کے باوجود کٹر طالبان لوگوں نےاسلام سے پہلے کے ترکہ کو تباہ و برباد کرشروع کردیا۔
بعض طالبان زرائع بدھا کےمجسہ کو برباد کرنے کا الزام بن لادن پرڈالتے ہیں۔ جو طالبان کےملٹری افسران مجسہ کو برباد کرنے کےحامی تھے وہ القاعدہ کےطرف داروں میں سےتھے۔ یہ وہ لوگ تھےجو بن لادن کےشانہ بہ شانہ سوئٹ یونیں کی فوجوں کے خلاف جنگ میں شامل تھے اور بن لادن کےافغانستان میں بسیرا کے بعد اِن سالوں میں کے انکے تعلعقات اور بھی مضبوط ہو گئے تھے۔ بن الا دن کی وجہ سے عرب اور پاکستان کے جنگجو، طالبان کےلئے لڑرہے تھے اس نے بن لادن کا اختیار اور بھی ذیادہ کردیا تھا۔ دہشت گرئی کے ٹرینیگ کمیپ بن لادن کی مالی امداد سےچل رے تھے جہاں اسلامی ممالک ک جنگجو ٹرینیگ حاصل کر رہے تھے۔ یہاں تربیت یافتہ بن لادن کے 55th بریگیڈ کا حصہ تھے۔ یہ طالبان کے مخالفوں کے خلاف لڑرہا تھا۔
١٧ ستمبر٢٠٠١ میں پاکستان کا جنرل محمود اپنے عملے کی بغیر ملاعمر سے ملا۔ ایک سینئر آدمی افسر جو آی۔ایس۔آئی کے سربراہ کےساتھ آیا تھا اس فیصلہ پر بہت حیران ہوا۔ ان دونوں میں کیا گفتگو ہوئی کسی کواس کا علم نہیں۔ مگر اپنی واپسی پر جنرل محمود نے مشرف سے کہا کہ “ وہ ملا عمر کے جواب سے مطمین ہے“ ۔ جنرل مشرف نے کہا۔“ ملا عمر کے رویہ میں نرمی آگئی ہے“۔ لیکن اس نرمی میں بن لادن کو امریکنوں کے حوالے کرنا شامل نہیں تھا۔ وہ صرف اس بات کو تیار ہوا کہ وہ ایک اسلامی کورٹ قائم کرئے تو اور اسلامی علما کو اس کیس کو جانچنے کا انچارج بنائےگا۔ اگر امریکہ اپنا ثبوت پیش کریں۔مگر یہ کورٹ وجود میں نہیں آیا۔
کچھ دنوں بعد جنرل محمود مفتی ناظم الدین شیزائی کی قیادت میں علماوں کا وفد ملا عمر سےملنے بھیجا جس کے ارکان وہ لوگ تھے جوطالبان کےطرف دار تھے۔ یہ وہی مفتی تھا جس نے بعد میں امریکن کولیشن فورسیس کےخلاف “جہاد“ کو فتویٰ دیا۔ اور ساتھ میں مشرف کے خلاف ایک خونریز احتیجاج کا بھی سرغنہ تھا۔ اس کے بیٹوں میں سے افغانستان میں طالبان کے لئے لڑنے کو بھی بھیجا۔ اس بات کا زبردست شبہ تھا کہ اس دھوکے بازی میں جنرل محمود بھی شامل تھا۔بعض افسران کا خیال ہے کے اس نے ملا عمر کا امریکن کے خلاف حوصلہ بڑھایا۔
جنرل محمود کا آ ئی۔ایس۔آئی جیسی ذی اقتدار ایجینسی کا سربراہ ہونے کی وجہ سے مشرف کی نئی امریکن ۔افغان پالیسی کو اپنانے مشکل ہوتی۔ اور چند بڑے جنرل کا مکمل ساتھ نہ ہونا کی وجہ سے پاکستان امریکہ کی ان مطالبوں کو پورا نہیں کرسکتا تھا۔ جنرل مشرف محمود کی ایجنسی کی مغرورانہ سربراہی سے بھی ناخوش تھا، دوسرے جنرل محمود کا امریتاج کے سات نقات کو اس سے بغیر صلاح مشورہ کئے قبول کرلینا مشرف کو پسند نہیں آیا حالانکہ وہ بھی اس بات پرمتفق ہوتا۔ اس نئی پالیسی کے لیے ایک نئی ٹیم کی ضرورت تھی۔
تین ہفتہ بعد، ٧ اکتوبر ٢٠٠١ کو مشرف نےجنرل محمود کو آ ئی۔ایس۔آئی کی سربراہی سے دست بردار کردیا اور ساتھ تھی دوسرے تین جنرل جن کی سوچ کٹراسلامیاتی تھی انہیں بھی ان کےعہدوں سے دست بردار کردیا۔ مشرف نےجنرل محمود کو جوائٹ چیف آف اسٹاف کی پوزیش کی آفر کی تھی مگر جنرل محمود نےاس سےانکار کردیا۔جنرل عزیز نےمجبوراً یہ عہدہ قبول کرلیا۔“
جنرل عزیز نے پوچھا ۔ “میں یہ جانناچاہتا ہوں کی یہ تبدیلیاں تم خود کررہے ہو یا امریکہ تمہیں ان پر مجبور کر رہا ہے“۔
جنرل مشرف نے جواب دیا۔“یہ میرا اپنا فیصلہ ہے“۔
جنرل عثمانی نے بجائے اُس کےجنرل محمد کو نئی بنائی ہوئی پوسٹ پر ترقی دینے اور جنرل گلزار کیانی کو کوارٹر ماسٹر جنرل بنانے پراستعفیٰ دے دیا۔ اس نئےعہدے چیرمین آف چیف اسٹاف کمیٹی جنرل عزیز کو امریکہ کے “آپریشن اِنڈیوریینگ فریڈم اِن افغانستان“ میں امریکہ کے ساتھ کام کرنا پڑا۔
یہ تبدیلیاں اس وقت ہوئیں جب برٹش اورامریکن فوجیں افغانستان میں حملہ کرنےمیں مصروف تھیں۔ اور مشرف کی ملٹری میں ان تبدیلیوں کو مغرب کی طرف جھکاؤ کی نظرسے دیکھا گیا۔ ان تبدیلیوں نے نہ صرف ان پرانے جنرلوں کو ملٹر ی سےخارج کردیا جو ١٩٩٩ کے بعد پاکستان پرحکومت کر رہے تھے۔ بلکہ مشرف کو ملک پرمکمل اختیار دے دیا۔ پرانی حکومت میں وزراء اور نیشنل سکیوریٹی کونسل کے ہر فیصلہ کے لیے ملٹری کے جنرل کی منظوری کی ضرورت تھی۔ اب ملٹری کے جنرل اپنے آپ کو اسلامی جنگجوں اور طالبان سے علحیدہ کرنے کے لئے تیار تھے۔
مشرف کی ہم برابری کرنے والا کوئی نہیں باقی بچا تھا۔ ان فیصلوں سےامریکہ نے بھی اطمینان کا سانس لیا۔ اا ستمبر کے کچھ ہی ہفتوں بعد مشرف پاکستان آرمی کے تیرا بڑے جنرلوں میں سے پانچ جنرلوں کو ان کے عہدوں سےعلحیدہ کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا۔
“ منصوبہ بندی کےتین اہم جُز عین وقت ، گنجائش اور طاقت ہیں“۔ مشرف نےجنوری ٢٠٠٢ میں مجھ سے کہا۔
اب وہ اس سے پہلے کے انٹرویو مقابلہ میں کافی پرسکون تھا۔ وہ اب ایک انٹرنیشنل شخصیت تھا۔“ دنیا کی کوئی جہموری حکومت اتنی تیزی سےاتنی تبدیلیاں لاسکتی ہے“۔
جنرل محمود کو آئی۔ایس۔آئی سےعلیحدہ کرنا ضروری تھا۔ مگر اس سے مسلہ حل نہیں ہوا۔ بہت سے سینئر آرمی افسران ، امریکہ کو پسند نہیں کرتے تھے اور وہ امریکہ کی اس جنگ میں حصہ نہیں لینا چاہتے تھےجو ان کے مطابق ایک “ گندی لڑائی “ تھی۔ “ مجھے امریکنوں کا ساتھ دینے سےنفرت ہے“ ایک آئی۔ایس۔ آئی کےسینئر بریگیڈیر نے کہا۔“ مجھے خوشی ہوگی اگر وہ اس جنگ میں پھنس جائیں“۔ کچھ تو یہ یقین کرنے پرتیار نہیں تھے کے القاعدہ یا مسلمانوں نےگیارہ ستمبر کےحملہ میں حصہ لیا ہے۔ ان کے لیے یہ مشکل تھا کے وہ اپنا دسیوں سالہ اسلامی جنگجو سے رشتہ توڑ لیں اور اپنے یقین و اعتقاد کو تبدیل کرلیں۔
مشرف نے لفٹینیٹ جنرل حسان الحق کو آئی۔ایس۔آئی کا سربراہ منتخب کیا۔ حسان الحق ایک معتدل جنرل تھا۔ وہ صوبہ سرحد سے ایک پٹھان تھا جو پہلے بھی ملٹری انٹیلینجنس کا سربراہ رہ چکا تھا۔ اور اپنی اعتدال پسندی کی وجہ سے مشہور تھا۔ اس کا پہلا کام ایجنسی سے ان لوگوں کو خارج کرنا تھا جو عرصہ سےاسلامی جنگجو ؤں کے لئے ہمدردی رکھتے تھے۔ جنرل نے ایجنسی کے دو اداروں کو بند کردیا جو کشمری اور افغانی اسلامی جنگجو ؤں سےگہرے تعلقات رکھتے تھے۔
کشمیر اور افغانی اسلامی جنگجوؤں سے علحیدگی اور امریکہ کا ساتھ دینا کا فیصلہ بہت اہم سمجھا گیا۔اس پالیسی تبدیلی میں آئی۔ایس۔آئی کےچالیس فی صد ارکان ملٹری کو واپس کردیئے گے۔ اس کے علاوہ ان جنرل محمود کے اپنے“ طالبانی جاسوسوں“ کو بھی نکالنا تھا جو جنرل محمود نے بنا رکھے تھے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ سی۔ آئی۔اے نےان افسروں کی فہرست مہیا کی جن پر اسلامی طرف داری کا شبہ تھا۔ اس کے باوجود آئی۔ ایس۔آئی ان لوگوں کو اپنے سے جدا کرنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوئی۔ ان افسران کے لیے اپنی پرانی سوچ سے ہٹنا نامکمن تھا۔ اس کے باوجود آئی۔ایس۔آئی، امریکہ کی افغانستان میں جنگ کا پلٹا کرنے میں کامیاب ہوئی۔ آئی۔ایس۔ آئی کا طالبان کی مدد نہ کرنے کی وجہ سےطالبان کی حکومت کوہارنے میں دیر نہیں لگی۔ وہ ایجنسی جو طالبان کی شروعت سے ان کے ساتھ تھی، اب اپنی تخلیق کو ختم کرنے میں امریکہ کا ساتھ دیے رہی تھی۔
جنرل حق پس منظر کھلاڑی تھا۔ اس کا شمار مشرف کے اندرونی حلقوں میں تھا۔ آئی۔ایس۔آئی کی اہمیت نہ صرف اس لیے بڑھ گئی کہ اب وہ امریکہ کی دہشت پسندی کی جنگ میں ایک رول ادا کرہی تھی۔ بلکہ جنرل حق سربراہی میں وہ ملک کی سیاست میں بھی داخل تھی۔ اس نےسینکڑوں القاعدہ کے ارکان کو گرفتار کر کےامریکہ کو خوش کردیا تھا۔ اگرچہ اندورنی اسلامی جنگجوں پر پابندیاں تھیں لیکن اب پر ایجنسی قابو نہیں کرپائی۔
مشرف کی ملٹری میں جنرلوں میں تبدیلوں نے مشرف کو ملک کو اکیلا چلانے کی قوت تو بخش دی تھی۔ مگر اسلامی گروپوں نے ملک کے اندر اس کا ناک میں دم کررکھا تھا۔ وہ اس کی پرو امریکی پالیسی کے خلاف آئے دن سڑ کوں پر ہنگامےکررہے تھے۔اور یہ مشرف کی پریشانی کا باعث تھا۔ کیونکہ ان اسلامی گروپوں کو ملٹری میں اب بھی حمایت حاصل تھی۔ مشرف کی سوچ تھی کہ امریکہ افغان جنگ جلد ہی ختم ہوجاے گی۔ مگر امریکن حملہ میں عام لوگوں کی ہلاکت نےاس کی حیثت کم ہوتی جارہی تھی ۔ کٹر مذہی لوگوں افغانی سرحد کے قریب ملک کے مغربی شہر کوئٹہ میں تباہ و بربادی مچائی، بنکوں کو لوٹا اور یو۔نی۔سیف کےدفتروں میں آگ لگادی۔ مشرف کو ان میں شہروں میں جہاں ہنگامے ہورہے تھے فوج بھیجنی پڑی جس میں اسلام آباد بھی شامل تھا۔
مقامی بندوقوں سے لے کر مشین گن تک سے مسلح ہو کر پاکستان کے ہزاوں قبائلی لوگ امریکہ کے خلاف جہاد میں شرکت کرنےکے لیےسرحد پار کرنے لگے۔اکتوبر ٢٠٠١ کے آخری ہفتوں میں صوفی محمد ایک کٹر اسلامی لیڈر دس ہزار مسلح افراد کے ساتھ سرحد پار کرگیا۔ پاکستانی ملٹری نےاس طرف سے آنکھیں بند کرلیں۔ “یہ اچھی بات ہوگی کہ وہ افغانستان جاکر لڑئیں اس کے بجائے یہاںب انتشار پھلائیں“۔ اندورنی ملک کے معالات کی منسڑی کرایک ترجمان نے کہا۔ پانچ ہزار سےذیادہ پاکستانی جہادی، طالبان کے لیے لڑتے ہوئے مرے اور ہزاروں جنگی قیدی بنے۔
ملٹری حکومت کوافغانستان کی جنگ کا پاکستان کے اندورنی معاملات میں خرابی پیدا کرنے کا خدشہ تھا۔ ان دہشت پسندوں نے بھاولپور میں ٢٨ عیسائیوں کا ایک گرجہ گھر میں قتل عام کردیا۔ اسلامی دہشت پسندوں نےاس اسلام اور عیسائیت کی جنگ کا نام دے کر ایسا کیا۔اس سانحہ نے امریکہ کے خلاف آگ کو اور بھی بھڑکادیا۔ اس طرح اندرون ملک جنگ کی آگ میں لپٹ گیا۔ یہ صورت اور ذیادہ بھڑک گی جب ہزاروں افغانی، امریکی بمباری سے بچنے کے لیے پاکستان میں آنے لگے۔
مغربی طرفدار اور اعتدال پسند سیساسی پارٹی جیسے بے نظیر بھٹو کی پی۔پی۔پی اور متحدہ قومی مومینٹ نے ملٹری گورنمنٹ نے کی اس دہشت گری کو روکنے میں مدد کی۔ یہ احتیجاج ذیادہ تر شمالی مغربی صوبہ سرحد کے پختونی علاقے میں اور مغربی بلوچیستان میں ہورہے تھے۔ امریکہ کے افغانستان پر حملہ کی بنا پر پرطیش احتیجاج نے آگ پر تیل ڈالا اور ایک سال کے بعد کے الیکشن میں اسلامی پارٹیاں پارلیمینٹری پول میں ان دونوں صوبوں میں جیت گیئں۔ ان صوبہ میں رہنے والےنسلی طور ہر افغان کے لوگوں سےقریب تھے۔
جنرل مشرف کو دو فکریں تھیں۔ ایک وہ چاہتا تھا کہ یہ جنگ مختصر اور محدود ہو اور دوسرے اس جنگ کے افغانستان میں دوستانہ سیاسی تک جہتی ہو۔ اس نےان لوگوں کے ساتھ کام کرنے کی پیش کش کی جن کو وہ “ اعتدال پسند طالبان“ کہتا تھا۔ مشرف نے نومبر کے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں اس بات کی دلالت کی ماڈرن طالبان اپنے کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے اور ان کو آئیندہ کے نظام میں شمولیت ملنی چاہیے۔ ان نے کئی دفعہ امریکی ایڈمینسٹریشن سےاس بات کی وضاحت چاہی کے امریکہ شمالی اتحاد کو کابل میں داخل نہیں ہونے دے گا۔ شمالی اتحاد کو انڈیا کی ہمدردیاں حاصل تھیں اور وہ پاکستان کے خلاف تھے۔
جنگ میں زبردست روکاوٹ پیدا کرنے کے باوجود نومبر کے دوسرے ہفتہ میں طالبان کا نظام تتربتر ہوگیا۔ امریکہ کو اس بات پرحیرت تھی ان کے خیال میں یہ جنگ اگر ایک سال نہیں تو کم ازکم کئی مہینوں تک چلے گی۔ مزار شریف پہلی جگہ تھی جہاں طالبان کو پہلی شکست ہوئی اور ہزاروں طالبان جنگی قیدی بن گئے۔ ان میں کافی پاکستانی بھی شامل تھے۔ کچھ ہی دنوں میں طالبان بغیر ایک گولی چلائے رات کی تاریکی میں کابل چھوڑ کر بھاگ گئے۔ دوسرے دن شمالی اتحاد نے کابل میں داخل ہوکر صدر بُش کو شرمندہ کردیا۔ بُش نے ان کو کابل میں داخل ہونے سے منع کیا تھا۔ مشرف کے مشورہ پراس نےشمالی اتحاد کو کابل میں داخل ہونےسے روکا تھا۔ مشرف کے خیال میں اگر شمالی اتحاد اتحاد کے فوج کابل میں داخل ہوئی تو زبردست خونریزی ہوگی۔ مشرف اور بُش اس بات پر متفق ہو چکے تھے۔ کہ کابل کو غیر فوجی شہر رکھا جائےگا۔ اور کابل میں ایک غیرجانبدار متحدہ نظام ہوگا۔ امریکن صدر کو اس بات پر تیار کرنا پاکستان کےفوجی سربراہ کے لیےایک سیاسی جیت تھی۔
جب طالبان کے دشمن شمالی اتحاد نے کابل کا نظام سنبھال لیا تو پاکستان اس سے بالکل خوش نہیں تھا اور اسلام آباد اور کابل کےاس نئے سیاسی نظام میں کشیدگی پیدا ہوگی۔ طالبان سے پرانے تعلقات کی بنا پر پاکستان کوافغان حکومت کوانٹرنیشنل طرفداری ملنے کا فکر تھی۔ لیکن پاکستان کی انٹیلیجنس نے بھاگتے ہوئے طالبان سے راستے کھلے رکھے۔ اگرچہ پاکستان ملٹری انتظام کابل پر اپنی پکڑ رکھنا چاہتا تھا۔ مگراس نئی حکومت میں یہ کھنیچ تان ممکن نہیں تھی۔ کافی تگ و دَد کےبعد بون جرمنی کی ٢ دسمبر ٢٠٠١ کی کانفرینس میں ایک دوسرے کے حریفوں مل کر ایک عارضی خکومت بنانے کے لیے تیار ہوئے۔ جس کا سربراہ ایک پختون افغان لیڈر حمید کارزائی بنا۔ اس جوڑ توڑ میں شمالی اتحاد کا درجہ کم ہوگیا۔ لیکن پھر بھی وزارت دفع اور رزارت خارجہ ان کےحصہ میں آئیں۔
اس دوران ہزاروں بھاگتےہوے طالبان نے پاکستان کےصوبہ سرحد اور بلوچستان میں پناہ لی۔ طالبان کی پہاڑوں میں پناہ گاہوں پر زبردست بمباری نے بن لادن اور اس کےسینکڑوں وفاداروں لڑاکوں کو پاکستان فرار ہونے پرمجبور کردیا۔ پاکستانی سرحد کے قریب کےوسیع قبائلی علاقے نئےجہادی بناے اور جنگجووں کوچھپانے کےمنبع بن گے۔ اور یہ جگہ امریکہ کےخلاف جہاد کا ایک مرکز بن گیا۔ اس طرح امریکہ کی دہشت گری کےخلاف جنگ پاکستان پہنچ گئی ۔
جنرل مشرف کی دہشت گری کےخلاف جنگ میں شرکت پاکستان کے لئےمالی اور سیاسی طور پرفائدہ مند ثابت ہوئی۔ پہلے جو ایک اچھوت ملک تھا۔ اب وہ انٹرنیشنل کمیونیٹی کا مرکز بن گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنے بیرون ملک کے سربراہ پاکستان نہیں آئے تھے جتنےاا سمبر کے کچھ ہی ہفتوں بعد آئے۔ پاکستان ایک دفعہ پھرامریکہ کا اسڑیٹیجک پارٹنر تھا۔ ملٹری حکومت نےاس پارٹنر شب کو مالی امداد کی شرط نہیں رکھا۔ مشرف نےاسے صحیح نہیں سمجھا کے مالی امداد کے بارے میں بات کرنا ایک شان ہے۔ “ میں نے یہ تہہ کرلیا کےمیں ان بات چیت میں مالی امداد کے ذکر سےدور رہوں گا۔ ہاں پاکستان کے ساتھ تعاون اور مدد اور ہمارے اندرونی معاملات کو سمجھنے کا ذکر کیا“۔
طالبان کے نظام کےگرنے کے بعد امریکہ اور مغرب سے پاکستان کی امداد میں بہت ذیادہ اضافہ ہوا۔ ایک بلین ڈالر کا قرض قلم زد کردیا اور چھ سو میلین کا قرضہ واپس دینے کی میعاد بڑھا دی گئی۔ اس طرح قرضہ واپس دینے کی میعاد اا ستمبر سے پہلے بھی کئی دفعہ بڑھا ئی گئی تھی۔ لیکن اس دفعہ یہ مشرف کے تعاون کی قیمت تھی۔ دسمبر ٢٠٠١ کے بعد ساڑھے بارہ بیلین کا قرضہ کی میعاد بڑھانا بلکہ قرضہ کی شرائط کو پاکستان کےموافق کرنا، ایسا پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
پاکستان پر سے تجارتی پابندیاں ختم کرنا اور امریکہ کا خود معاشی اور اقتصادی امداد کرنا یہ پھر ویسا ہی تھا جیسا ١٩٨٠ میں سویٹ یونیں کے افغانستاں پر قبضہ کرنے کے بعد ہوا تھا۔ تب بھی اس طرح امریکہ اور مغرب نے پاکستان معاونت کی تھی۔
پاکستان کو امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا بہت بڑا صلہ ملا۔ ورلڈ بنک، آئی۔ایم۔ایف اور دوسرے امدادی ، پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔ یہاں تک کہ یو۔ایس۔ایڈ جو ١٩٩٠ کی اٹیمی توانائی سےمتعلق عائد کردہ پابندیوں کے بعد پاکستان سے دسویں سال پہلے قطع تعلق کرچکی تھی واپس آگئی۔ اس کے علاوہ بیرون ملک رہنے والے اور ذیادہ پاکستانی اپنی فیملیوںکو پیسے بھیجنے لگے۔ خاص طور پر امریکہ میں رہنے والے پاکستانی۔ ان تمام سب وجوہات کی بنا پر پاکستان کے اقتصادی اور معاشی حالات بدلنے لگے۔ جو پاکستان کی افغان پالیسی پر مشرف کے پلٹا کھانے سے پہلے سخت مشکل اور مصیبت میں تھے۔
جس دوران مشرف امریکہ کی افغانستان کی جنگ میں مدد کررہا تھا۔ اس کا ظاہری طالبان کے خلاف ہونا، ان عوام سے دور لے جارہا تھا جو کٹر طالبان کےحامی تھے۔ وہ ایک پتلی رسی پر چل رہا تھا ایک وہ القاعدہ سے لڑرہا تھا۔ دوسری طرف اس کی کوشش تھی کہ وہ طالبان اور اسلامی جنگجوں سے پنگا نہ لے۔۔ پاکستان نے ہردفعہ واشنگٹن کی پاکستان میں امریکن فوج کا داخلے کی درخواست کو رد کردیا۔ مشرف کا کہنے تھا کہ یہ قبائلی عوام سے ٹھیک نہیں بیٹھے گا۔
“ ہم یہ نہیں چاہتے کہ امریکن فوج ویسا ہی کرے جو وہ افغانستان میں کر رہی ہے“۔ ایک سینئر ملٹری افسر نے کہا۔ پاکستان نے امریکن آفیشل کو قبائلی لیڈروں سے آمنے سامنے کی بات چیت کروانے سےانکار کردیا۔
“ امریکن ان لیڈروں کو پیسہ سےخریدنا چاہتے تھے۔ جیسا انہوں نےافغانستان میں کیا۔ ہم نے چاہتے ہیں کے وہ پاکستان کی فرماں روائی میں دخل انداز ہوں “۔
اس بات پراسلام آباد اور واشنگٹن ایک نہیں ہوئے۔ اور یو۔ایس آفیشل پاکستان پر الزام لگانے لگے کہ“ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ ‘ میں پاکستان کو جتنا کرنا چاہیے ۔ وہ اتنا نہیں کر رہا ہے۔
دوسری طرف سی۔آئی۔اے اور ایف۔بی۔آئی کو ملک کے کسی بھی حصہ میں مکمل آزادی تھی۔ اور ایک چھوٹی تعداد میں یو۔ایس ملٹری کے افراد بن لادن کی تلاش میں پاکستانی ملٹری کی مدد کررہے تھے۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ ان کی تعداد ایک درجن سے ذیادہ نہیں تھی اور وہ صرف کیمیونیکیشن اور انٹیلیجنس میں مدد کررہے ہیں۔ لیکن اس چھوٹے نمبر میں امریکن ملٹری کے افراد کی چھاپے مارنے کے دوران موجودگی سیاسی الجھن کا باعث تھی۔ اور اب مشرف کو پتہ چل رہا تھا کہ امریکہ سے گلے ملنا اس کو بہت مہنگا پڑھ رہا تھا۔
جاری ۔۔۔۔
http://danishkadaetafseer.org/danishkada
مرسلہ: منگل مارچ 25, 2008 3:04 am
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
باب نمبر 3
جہاد کے اندر
12 جنوری کو مشرف نےایک اور پلٹا کھایا جب اس نے یہ اعلان کیا کہ مذہب کے نام پر پاکستان میں کسی بھی تنظیم کو دشت گردی نہیں کرنے دی جائے گی۔ ٹیلیویژن کی ایک تقریر میں کو ایک گھنٹے سےذیادہ جاری رہی اس نے تمام دشت گردی کے اعمال کی ملامت کی جس میں کشمیر میں مسلمان اکثریت کو انڈین حکومت سے الگ کرنا بھی شامل تھا۔
اس نے دو طاقتور اسلامی دشت پسند جماعت لاشکرِتعائبہ اور جیشِ محمد پرسحت پابندی عائد کردی اورآئندہ کےلیےجماعتوں کےنام میں جیش، لشکر اور سیپا کی طرح کےنام غیرقانونی قرار دے دیئے۔ دوسرے الفاظ میں حکومت نےجہاد کوملکی پالیسی بنانےسےانکار کردیا۔ مشرف کی اس تاریخی تقریر نےاُسے ایک ایسا مسلمان حکمران بنادیا جس کی ان کو چاہت تھی۔
اس تقریر نے تمام “اتحاد اسلام“ “ تمام مسلمان ایک حکومت“ کی سیاسی تحریک اور کٹر اسلامیت کو فروغ دینے سے رابطہ ختم کردیا۔ اس نے اس نےسخت الفاظ میں کہا کہ صرف حکومت کو بیرونی پالیسیوں پراختیار ہے۔ اور حکومت ملک کے مفاد کی بنا پر فیصلہ کرئےگی کےملک کی بہتری کیا ہے نہ کے اسلامی یک جہی۔
اس نےعہد اٹھایا کےجو دشت پسند اسلامی لوگ مدرسوں حکومت کررہے ہیں، اگراس پر عمل نہیں کریں گےحکومت ان کی روک تھام کرے گی۔
12جنوری کو مشرف کے لیے یہ امریکہ کےافغانستان پرحملہ کرنےسے ذیادہ اہم تھا۔
“ یہ ملک کے لیے ایک راستہ اختیار کرنا ہے اور یہ دشت گیروں کےحملہ کی وجہ سے ہے“۔ جنرل نےاس فیصلہ کےایک ہفتہ کے بعد مجھ سے کہا۔ اس فیصلہ کی وجہ سےاس نےان جنگجو گروپوں سے جھگڑا مول لیا جن کو اس کی انٹیلیجنش سرویسوں کی کفالت حاصل تھی۔ لیکن اس کو پتہ چلا کے اُن جہادیوں کو روکنا آسان نہیں تھا جن کو 20 سال سےحکومت نے پالا پوسا تھا۔
پہلا جہادی گروپ 1980 میں خاص طور پراسلامی مدرسوں کے ہزاروں رضا کاروں سے بنا جو افغانستان میں سویت یونین کے خلاف لڑنے والوں میں شامل ہوگئے۔ 2002 تک پاکستان میں 24 جنگجوگروپ بن چکے تھے۔ وہ بہت ہی منظم پیرا ملٹری جماتیں تھیں ۔ یہ لوگوں نے پرمحلےمیں موجود تھےاور وہ اپنے اندرنی اور بیرونی مفاد کے لیے کام کررہے تھے۔ ان میں ایل۔ائ ۔ٹی، ایچ۔یو۔ایم اور ایچ جے۔آئی سب سے بڑئی جنگجو جماعتیں تھیں۔
اِن تمام پیرا ملٹری گروپوں کی بنیاد ایک ہی تھی۔ ان کے بنے کی وجہ اور مقصد ایک ہی تھا۔ اور وہ ذیادہ تر پنجاب اور صوبہ سرحد کے بے روزگار نوجوانوں کو بھرتی کرتے تھے۔ فرق یہ تھا کے ایچ۔یو۔ایم اور ایچ جے۔آئی کا طالبان سے جوڑ تھا اور ایل۔ائ ۔ٹی کا سودی عربیہ کے وہابیوں سے۔
یہ خفیہ تنظیمیں نہیں تھیں اور نہ ہی اندر ہی اندر وجود میں آئی تھیں۔ اگرچہ حکومت ان کی کفالت نہیں کرتی تھی۔ لیکن ان کو حکومت کی حمایت حاصل تھی۔ ان کی کاروائیوں بھی خفیہ نہیں تھیں اور وہ دیواروں پرلکھائی، اشتہاروں اور کتابچوں سےظاہر تھیں جو ملک بھر میں مسلمانوں کو ان کے جہاد میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ ان میں ٹرینگ دینے والوں کے نام اور پتے بھی تھے۔ “جنت جانے کا سب سے چھوٹا راستہ جہاد ہے“۔ ایک ترغیب دلانےوالے اشتہار میں لکھا تھا۔ شہادت پورے خاندان کی نجات ہے“۔
ہرجہادی جماعت کے پاس شہید کےخاندان کی مدد کا پیسہ تھا۔ اگرچہ جہادیوں کا بنیادی مقصد پیسہ دینا نہیں تھا لیکن لوگوں کو شامل کرنے کے لیےضروری تھا۔ خکومت کی ان جماعتوں کی سرپرستی نے عوامی جہگوں میں فنڈ جمع کرنا آسان کردیا تھا۔ ان جنگجوؤں نےنشر و اشاعت کا انتظام کرنے کام کی مہارت حاصل کرلی تھی۔ ان کی نشریات کو پڑھنے والوں کی تعداد بہت ذیادہ تھی۔ اور یہ تبلیغات ویڈیو اور آڈئیو پر بھی دستیاب تھیں
1980٠ اور1990 میں جہادیوں کی تحریک کا مقصد اُسامابن لادن کیطرح دنیا میں اسلامی خلافت قائم نہیں کرنا تھا۔ ان کے مقاصد پاکستان کی ملٹری جیسے تھے۔ یعنی کمشیر کو انڈیا سے آذادی دلانا اور افغانستان میں میں مسلم پختون حکومت قائم کرنا۔ کچھ کےعلاوہ سب ہی اسلامی جنگجو، ملٹری کی علاقائی پالسی کے جاندار تھے۔ جسطرح ملٹری کو ان کی ضرورت تھی اسی طرح ان کو بھی ملٹری کی ضرورت تھی۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کا امریکہ کی دشت گردی کےخلاف جنگ میں حصہ لے نے سے ملٹری کے پرانے دوستوں اور ملٹری میں اختلاف پیدا ہوگیا۔ اس کا یہ مطب نہیں جیسا کہ آنے والے اباب بتائیں گے کے اسٹیٹ سیکیورٹی سے ان کی امداد مکمل طور پر بند ہوگئی۔
سب سے ذیادہ انتہا پسند ایل۔ای۔ٹی وہابی خیالات سے کی متاثر تھی آئی۔اور دوسروں کےمقابلہ میں ایس۔آئی کی اطاعت پذیر تھی۔ 2002 کے بعد ایل۔ای۔ٹی نے عوام میں اپنی موجودگی کو کم کردیا۔ بجائے مشرف کی حکومت کو چیلنج کرنے کے اپنےجہاد کو کمشیر میں انڈیا کے خلاف معین کردیا اور پاکستان میں اپنی حرکات کو کم کردیا۔ لیکن اس اتحاد پر بڑا بوجھ تھا۔ تمام اسلامی گروپ جن میں ایل۔ای۔ٹی بھی شامل تھی، علاقائی صورت حال میں اور بھی انتہا پسند بن گئے۔ اور ان کےمقاصد ملٹری کے مقاصد سے بھی ذیادہ بڑھ گئے۔ 2000 میں ایل۔ای۔ٹی کی ابتدا کرنے والےحافظ سعید نے مجھ سے کہا کشمیر کی جدوجہد کوانڈیا کے مسلمانوں کو آذادی دلانے کا راستہ سمجھتا ہے۔ اس نے کہا۔ “ہمہارا جہاد اس وقت تک جاری رہے گا جب اسلام دنیا پر والا اقتدار نہیں بن جاتا“۔
ایک سابق یونیورسٹی پروفیسر ایک مقناطسی شخصیت نہیں تھا۔ اس سے ملنے پروہ ایک شرمیلا اور خود کو چھپا رکھنے والا لگتا ہے۔ رہبر بنے کے لیے یہ اجزا مدد نہیں کرتے۔ وہ ناٹا جس کی چھوٹی ڈاڑھی حنا سے رنگی ہے۔ جب میں جنوری 2001 میں ملا تو وہ نوجوان حمایتیوں کے جھمگٹ میں تھا۔ اس کے لیے “ کافروں کو قتل کرنا اور شیطانی قوتوں کوتباہ کرنا، ہرعابد مسلمان کا فرض ہے“۔ ١٩٤٧ میں پاکستان اور انڈیا بنے پر اس کےخاندان کو سملہ جہاں وہ رہتے تھے چھوڑ کر پاکستان آنا پڑھا۔ اس کا حافظ سعید پر گہرا اثر ہوا۔ میلین لوگوں کا نیا مسلم ملک پاکستان بنے پر قتل عام ہوا۔ اس کے خاندان کے چھتیس افراد اس ہجارت کےدوران قتل ہوئے۔ پاکستان آنے کے بعد اسکا خاندان سرگودھا میں بسا۔
حکومت کی دی ہوئی زمین اور محنت سے خاندان میں فارغ وبالی آئی۔ حافظ سعید کے والدیں مذہبی تھے۔ اس کی والدہ نے حافظ سعید سات سال کی عمرقران پڑھادیا۔خاندان میں پانچ باقی بچے تھا۔ اس کی پرائمری تعلیم گاؤں میں ہی ہوئی۔
پرائمری تعلیم ختم کرنے کے بعد اس نے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور ریاص میں کنگ عبدل عزیز اسلامیک یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ جہاں اس نے کافی عرصہ پڑھایا بھی۔ ریاص میں رہنے کے دوران اس تعلقات وہابی علماء سے ہوئے۔ پاکستان واپس آنے کے بعد حافظ سعید نے لاہور یونیورسٹی آف انجینیرینگ اور ٹیکنالوجی کے اسلامی اسٹیڈیز ڈیپارٹمنٹ میں پڑھانا شروع کردیا۔ اس کے دو بھائی امریکہ میں رہتے تھے۔ ایک بھائی اسلامی سینٹر کا سربراہ تھا اور دوسرا علمی معاش کی تیاری میں لگا تھا۔ حافظ نے کبھی بھی کسی مغربی ملک کی سیر و تفریح کی تھی۔
1980 میں حافظ، فغانستان کےمجاہدیں میں شامل ہوگیا جہاں اس کو عبداللہ اعظم اور اُساما بن لادن کی نزدیکی ملی۔ وہ ان لوگوں کا جہاد سے بے انتہا لگن اور زندگی کو جہاد کے لیے وقف کردینے سے بہت متاثر ہوا۔
اُساما بن لادن غیرمعمولی خصوصیت کا مالک ہے۔ فلسطین کے عبداللہ اعظم جو کہ امان میں یونیورسٹی آف جارڈن میں علم فقہ کا پروفیسر رہ چکا تھا کا بھی اثر ہوا۔ فلسطین کا یہ عالم افغانستان پرسویت یونین کےحملہ کے فوراً بعد پاکستان آیا اور اسلام آباد یونیورسٹی میں پڑھانے کے لیے آیا۔ لیکن یہ بہانہ تھا وہ فوراً ہی پشاور منتقل ہوگیا اور جہادی نظریہ کا مرکزی کردار بن گیا۔ اور سعودی پیسہ سےاس نےدنیا بھر سےافغان کے جہاد کے لیے رضاکار بھرتی کیے۔ وہ 1989میں پشاور میں ایک بم کے دھماکے میں ہلاک ہوا۔
اعظم نےحافظ سعید کی مرکز داول الارشد ( ایم۔ڈی۔آئی) قائم کرنےمیں مدد کی۔ ایک تنظیم کا مقصد واہابی اہل ہدایت کی تعلیم کو پھیلانا تھا۔ ایک سنی حرکت کے حامیٴ اصلاحات کی طرح ان کا مقصد اسلام کو بیرونی اثرات سے پاک کرنا تھا۔ ایم۔ڈی۔آئی کا پھیلتا ہوا مرکز لاہور کےگردنواع میں واقع تھا۔ جس میں ایک یونیورسٹی، ایک کھیت، ایک کپڑے کا کارخانہ اور ایک بڑھئی کے کام کا کارخانہ بھی تھا۔ اس کا مقصد ایک اسلامی ماحول پیدا کرنا تھا جو حکومت کی دخل اندازی سے دور رہے۔ ١1994 میں اس تحریک نےملک بھر میں واہابیت کو پھلانے کےمدرسے قائم کرنے شروع کیے۔ جہاں وہ جہاد کے لیے رضاکار تیار کرسکیں۔ ایم۔ڈی۔آئی نے یہاں وہ کورس رکھے جن کا فلسفہ جہادی تعلیم و تربیت تھا۔ اور اور طالب علموں کو ایسےسانچےمیں ڈھالنا تھا۔ جہاں وہ نہ صرف اسلام کے اخلاقی اصولوں میں ڈھل جائیں بلکہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی سے بھی وقفیت رکھتے ہوں۔ ان کا مقصد ایک دوسرا حکومت کا ماڈل پیش کرنا تھا۔ یہ مدرسے شہروں کے غریب علاقوں اور دیہاتوں میں بنائے گئے جہاں کے رہنے والوں کو بہتر تعلیم دستاب نہیں تھی۔ یہ تنظیمیں خاص طور بڑے خاندانوں کو جن میں سے جہاد کے لیے رضار کار مل سکیں ترغیب دیتیں تھیں۔
سویٹ یونین کےافغانستان سے نکلنے کے بعد 1990 میں حافظ سعید نے ایل۔آئی۔ٹی قائم کی۔ یہ ایم۔ڈی۔آئی کا ملٹری بازو تھی۔ اس کا مقصد کشمیر میں انڈیا کےخلاف جہاد تھا۔ پانچ فروری 1993 میں ایل۔آئی۔ٹی نے پونش ڈسٹریکٹ میں انڈیا کی ملٹری پےدرندخو حملہ کر کے ان کے دو فوجی قتل کردیئے اور ایل۔آئی۔ٹی کے بھی دو اسلامی جنگجو بھی ہلاک ہوئے۔ تب سے ایل۔آئی۔ٹی مقبوضہ کشمیر میں انڈین آرمی پر سینکڑوں حملوں کی ذمہ دار ہے۔ تھوڑے ہی عرصہ میں جہادیوں کی خونخوار تنظیم بن گئی۔اس میں اب ہزاروں ٹریننگ یافتہ اور پختہ ارادہ کے لوگ ہوگئے۔اس کے علاوہ ایل۔آئی۔ٹی ایک زبردست پروپیگنڈا مشین بھی تھی۔ مختلف زبانوں میں ان کی کئی کتابیں ہزاروں کی تعداد میں چھپیں۔ ان کی بڑی اشاعت “ الدعوت“ کی اَسی ہزار کتاب شائع ہو کر بڑے بک اسٹوروں کے ذریع پورے پاکستان میں بکیں ۔ جہادیوں کو مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کے لیے ایل۔آئی۔ٹی کو آیی۔ایس۔آئی کی مدد بھی حاصل تھی۔
ایل۔آئی۔ٹی ایک خفیہ آرگینائزیشن تھی۔ اس کے بڑے لیڈروں کے علاوہ تمام تنظیم منظرِعام نہیں تھی۔ اس دشت پسندگروہ نے ہزاروں گوریلاوارفئیر میں تربیت یافتہ لڑاکو بنائے۔ شروع شروع میں انہوں نےافغانستان کے کیمپوں میں ٹرینینگ حاصل کی۔ لیکن 1992 کے بعد انہوں نے آذاد کشمیر کے اندرون دور دراز علاقوں میں اور پاکستان اور افغانستان سرحد کے پر صوبہ سرحد کےقبائلی علاقوں میں کیمپ قائم کئے۔
ان کاطریقہ کار آسان تھا۔ شہادت چاہنے والا میں ملک میں کھلے عام میں بکھرے ہوئے ایل۔آئی۔ٹی کے کسی بھی سینٹر میں داخلہ لےسکتا تھا۔ یہ نوجوان مختلف ٹرینینگ کیمپوں میں بھیج دیئے جاتے تھے۔ ٹرینینگ کی دو سیڑھیاں تھیں۔ یہلےاسٹیج پر تین ہفتوں کی اسلحہ کی تربیت دی جاتی تھی۔ دوسرے اسٹیج کی ٹرینیگ صرف ان کو ملتی تھی جو کٹر مسلمان تھے اور اپنا سب کچھ جہاد پر وقف کرنے پر تیار تھے۔
کیمپ میں جہادیوں کا دن، صبح کی نماز س شروع ہوتا تھا۔ اس کے بعد سارا دن ٹرینینگ میں وقف تھا۔ اس تربیت کا ایک حصہ قرانی تعلیم اور نماز تھا۔ تربیتی کو اپنی زندگی کٹر اسلامی اصولوں سےگزارنا سیکھایا جاتا تھا۔ اسلام کے مجاہد بنے کے لیے داڑھی کا رکھنااور شلوار کا ٹخنوں سےاونچا ہونا ضروری تھا۔ ٹیلیوژن دیکھنا یا گانے سننے منع تھا۔ انفرادیت کچل دی گی تھی ۔ یہاں تک کہ ایک پیلٹ سے کھانا اور ایک گلاس سے پانی پینا ضروری تھا۔
بنیادی ٹرینیگ کےبعد رضاکار کو واپس بھیج دیا جاتا تھا، ذیادہ صورتوں میں گھر۔ ایل۔ای۔ٹی کے سینئر افسران دو ماہ ان کی نگرانی کرتے تھے۔ ان کودیئے ہوے فرائض کی جانچ کی جاتی تھی۔ان فرائض میں چندہ جمع کرنا، پروپیگنڈا کرنا ،گھر میں اور محلہ میں اسلام کی تبلیغ کرنا اور خود بھی عمل کرنا تھا۔ صرف چند رضاکاروں کو اگلے پروگرام کے لیے چنا جاتا تھا۔ جب وہ واپس گھر جاتے تھے تو مکمل نئے انسان ہوتے تھے۔ وہ اپنے بال لمبے رکھتے اور داڑھی کاٹنا چھوڑدیتےتھے۔ ان کونئےنام دیئے جاتے تھے، ذیادہ تر پیغمبر محمد کے اصحاب کے نام۔ دس ہزار سے تیس ہزار رضا کاروں نے ایل۔ای۔ٹی کے کیمپوں میں ٹرینیگ حاصل کی۔
ذیادہ معیاد کی ٹرینیگ لینے کے بعد یہ ضروری نہیں تھا کے رضاکار کو لڑنے کے لیے بھیج دیا جائے۔ ہزاروں لڑاکوں کو کشمیر جانے کا انتظار کرنا ہوتا تھا۔ لیکن ہرایک یہ موقع نہیں دیا گیا۔
“ میں اللہ پاک سے دُعا کر رہا ہوں کہ مجھےجانے کا موقع ملے“۔ ابو محمدنے کہا۔ ابو محمدایک کالج گریجویٹ تھا اور اس نے دوسرے لیول کی ٹرینینگ مکمل کرلی تھی۔حافظ سعیدنے اکثر یہ دوہرایا تھا کہ وہ ایسے نوجوان کو ہتھیار نہیں دے گا جیسے اللہ کی ذات پر یقین کامل نہ ہو۔ جہاد کے لیےعابد ہونا ضروری تھا۔
ایل۔ای۔ٹی کے رضاکار ذیادہ تر کالج اور یونیورسٹیوں اور بے روزگاروں میں سے آئے۔ روایتی اسلامی مدرسوں سے آنے والوں کی تعداد دس فی صد سے کم تھی۔ بنیادی اسلامی لٹریچرسے متاثر ہوکر بہت سے کالج اور یونیورسٹی کےطالب علم نے اس گروپ میں شامل ہوگے۔“جولوگ پڑھنے کے اداروں سے آئے ہیں وہ اس کام کی وجہ جانتے تھے اور یہ کے وہ کیا کررہے ہیں اور وہ ایسا کرنے کے لیےتیار تھے“۔ نوید قمر نے کہا۔ نوید یونیورسٹی آف انجینرینگ اینڈ ٹیکنولوجی لاہور کا گریجویٹ تھا۔ اور وہ ایل۔ای۔ٹی کا ایکٹیوسٹ بھی تھا۔
ایل۔ای۔ٹی کی لیڈر شپ میں وہ لوگ تھےجو یونیورسٹی آف انجینرینگ اینڈ ٹیکنولوج کی فیکلٹی کے ممبر رہ چکے تھے۔ جس میں حافظ سعید بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ کافی تعداد میں ایکٹیوسٹ ورکینگ کلاس یا تعلیم ختم کرنے والوں میں سے تھے۔ بڑی تعداد میں وہ خاندانوں میں سے تھےجو وہابیت سے متاثر تھے۔
ذیادہ تر یہ لوگ پنجاب سے اور خاص طور پر لاہور، گجرانوالا اور ملتان سے تھےجہاں اہل ہدایت کا زور تھا۔ بعض سنڑل پنجاب کے دیہاتوں میں ایل۔ای۔ٹی کا کشمیر کے جہاد کی مدد کرنے کی وجہ سے بہت ذیادہ اثر تھا۔ گوندھا والا جیس اب پند شہادین کہاجاتا ہے۔ اس جگہ سے ہرخاندان میں سے کم از کم ایک مرد جو ایل۔ای۔ٹی کا لڑاکو بن کرجہادِ کشمیر میں لڑتے ہوئے مرا۔
ایل۔ای۔ٹی کا اثر اتنا بڑھ گیا تھا کےدیہاتی خانگی پنچایت اور آپس کی پنچایت میں ان کا فیصلہ قبول کرنے لگے ۔ زمانہ قریب میں ایل۔ائ۔ٹی کو صوبہ سندھ اور بلوچیستان سے بھی رضا کار میں اصافہ ہونے لگا۔ ان صوبوں میں بھی واہابیت پھیلنے لگی۔ دوسرے ملکوں سے بھی مسلمان ، جس میں برطانیہ بھی تھا رضا کار ایل۔ای۔ٹی میں شامل ہونے لگے۔ افغانسان کا شمشاد خان جو کے ایل۔ای۔ٹی کا چیف کمانڈر تھا انڈین فورس سے ایک جھڑپ میں کشمیر کے ایک ڈسٹریکٹ بدگام میں مارا گیا۔ بہت سے بیرونی ممالک کے لوگوں کو بھی پاکستان میں ایل۔ای۔ٹی کے کیمپوں میں ٹرینیگ ملی۔ ان میں گوانتانامو کا قیدی ڈیوڈ ہیکس اور فرانس کا ویلّی بریجیت بھی ہیں جس پر دہشت گردی کرنے کا شبہ تھا اور جس پراسٹریلیا میں حملہ کرنے کے پلان بنانے میں شامل ہونے کا شبہ تھا۔
ایل۔ای۔ٹی کی ایک نئی اور سنگین صورت سامنے آئی جب انہوں نے انڈیا کی ملٹری اور انسٹالیشن کے خلاف فدائین حملے شروع کردیئے۔ ایل۔ای۔ٹی اس اصطلاح فدائین حملے کو ان نشانوں کا نام دے رہی تھے جو انڈیا کی ملٹری بیسوں کے اندر تھے۔
ایک فدائین وہ شحص ہے جو ہرصورت میں اپنا دیا ہومشن مکمل کرے“۔ ایل۔ای۔ٹی کےنمائندے عبدل منتظیر کہتا ہے۔
اس نےاس بات پر زور دیا کے فدائین اور خود کش حملے کرنے والا جوحملےمیں اپنی بھی جان دے دیتا ہے ایک نہیں ہیں۔
“ ہم خود کش حملوں کو غیراسلامی سمجھتے ہیں۔ بہت سے فدائین اپنے مشن کےبعد زندہ واپس آئے“۔عبدل منتظیر نے کہا۔
فدائین کا چناؤ اچھےاور بہادر لڑاکوؤں میں سےہوتا تھا۔ اور ہر جنگجو فدائین نہیں بن سکتا اورفدائین کے لیے دنیاوی طاعت بھی ضروری ہے۔ جس کا مجھےایک فدائین سےجو کے مشن سے واپس ہوا تھا، مل کر پتا چلا۔ وہ پتلا، ملائم آنکھیں، خوش اخلاق تھا۔ یہ اندازہ لگاناممکن نہیں تھا کہ وہ گوریلا جنگجو ہے۔ جوان ڈاڑھی والا جنگجو کا دیا ہونام ابواُ کریما تھا۔ وہ کشمیرسے ابھی واپس ہوا تھا۔ جب میں اس سے ایل۔ای۔ٹی کے لاہور ہیڈ کوارٹر میں جنوری 2001 ملا ، وہ لنگڑارہا تھا۔انڈین ٹروپ سے لڑائی کےدوران اس کی ٹانگ میں ایک گولی لگی تھی۔
“ جسے ہی میری ٹانگ سے گولی نکالی جائے گی اور رخم بھر جائےگا۔ میں محاز پرواپس جاؤں گا“۔اس نےمجھ سے کہا۔
“ میری خواہش ہے کہ میں شہادت کا درجہ حاصل کروں“۔
اس کا چہرہ چمک رہا تھا جب اس نےا پنے ساتھی کےساتھ انڈیں فورس کی ایک پوسٹ کو تباہ کرنے کا واقع بیان کیا ۔ اس جھڑپ میں کئی انڈین فوجی مرے۔
عموماً ایل۔ای۔ٹی کے عہدہ دار ان شہدوں کے گھروں پرجاکر ان کےخاندان کے افراد کو مبارک باد دیتے تھے۔ موت پرمٹھائی باٹی جاتی تھی۔ اس موقع کو نئے رضاکار بنانے کے لیےاستعمال کیا جاتا تھا۔ جذباتی تقریرں کی جاتی تھیں اور سب کے سامنے مرنے والے کی طرف سے بنایا ہوا عہد نامہ پڑھا جاتا تھا۔ جس میں خاندان کو مذہب کی راہ پر چلنے اور اللہ کی راہ میں جان دینے کی تلقین ہوتی تھی۔ مردوں سےدرخواست کی جاتی تھی کہ گانےسننا اور فلمیں دیکھنا بند کردیں۔ ان سے کہا جاتا تھا کہ اپنے ٹیلیوژن سٹ تباہ کردیں کیونکہ “وہ ناچ گانے کا ہندو کلچر پھیلاتے ہیں“۔ ایل۔ای۔ٹی کی فرقہ پرست جھکاؤ اور کٹراسلامی رجحان ان کو پاکستان کی دوسرے اسلامیجمیعت سے مختلف کرتا تھا۔ دوسرے اسلامی جماعتیں بعض دفعہ ایل۔ای۔ٹی پر الزام لگاتی تھیں کہ وہ کشمیر کی آذادی کے جہاد کا غلط استعمال کررہے ہیں۔
ایل۔ای۔ٹی ہندوں کے خلاف جہاد پر زور دے رہی تھی جن کو وہ زبردست ایک سے ذیادہ خداؤں کو ماننے والا قرار دیتی تھی اور یہودیوں کو جہیں ان کے خیال میں قران نے اسلام کا دُشمن قراردیا ہے۔ ایل۔ای۔ٹی کے کہنے کے مطابق ہندو اور یہودی اسلام اور پاکستان کے دُشمن تھے۔ان کی ایک دستاویز“ ہم کیوں جہاد کررہے ہیں“۔ کے مطابق صرف جہاد ہی ایک ذریعہ ہے جس سے پچھلی تاریخ میں مسلمانوں پر کی ہوئی ذیادتیوں کا بدلہ لیا جاسکتا ہے اور اسپین کو واپس لیا جاسکتا ہے جہاں مسلمانوں نے 800 سال حکومت کی۔ ہندوستان پر پھر سے مسلمانوں کی حکومت قائم کی جاسکتی ہے۔ اس میں کہا گیا تھا کے ایل۔ای۔ٹی نہ صرف کشمیر بلکہ ہندوستان کو آذاد کرنے کے لیے کام کررہی ہے۔ یہ بھی ایک وجہ تھی کہ ایل۔ای۔ٹی کےہندووں پر اتنے وحشیانہ حملےتھے۔ کئی دفعہ مظلوموں کے سر کاٹ دیئے گئے تھے۔ 2000 میں ایل۔ای۔ٹی نے اپنے جہاد میں کشمیر کے علاوہ ہندوستان کو بھی شامل کرلیا۔
تین دسمبر کی شام میں ایل۔ای۔ٹی کے دو مسلح آدمی لال قلعہ میں داخل ہوئے۔ یہاں انڈیا کی آرمی کا ایک یونٹ تعین تھا، اس کےعلاوہ یہاں جیل کیے ہوئے قیدیوں کی انٹروگیشن بھی کی جاتی ہے۔ یہ انٹروگیشن انڈیا کی سنٹرل بیورو آف انٹروگیشن اور آرمی کرتی تھی۔ لال قعلہ مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے بنوایا تھا اور پُرانےدارلخلافہ کےگرد و نواح میں تھا۔ انڈیا کے لیے اس کی ایک علامتی حثیت تھی۔ یہاں جشن آذادی کے دن پرائم منسٹر روائتی طور پر انڈیا کا جھنڈا بلند کرتا تھا۔ تاریخی عمارت ہونے کی وجہ سےسیر کرنے والوں کو دن میں یہاں آنے کی اجازت تھی۔ جب مسلح دشت گروں نے سیکیوریٹی آفس میں داخل ہو کر انڈیا کے تین فوجیوں جوافیس کی حفاظت کر رہے تھے قتل کردیا تو ایک سنگین لڑائی شروع ہو گی۔ دوسرے دن ایل۔ای۔ٹی نے اعلان کیا کہ وہ اس کے ذمہ دار تھے اور جن لوگوں نے قتل کیا تھا وہ ایک محفوظ جگہ پر چھپے ہوئے ہیں۔
پہلی دفعہ کشمیر کی آذادی چاہنے والےاسلامی دشت گروں کا انڈیا کے اندر ایک ملٹری انسٹالیشن پر یہ بیباک حملہ تھا۔
“ یہ ثابت کرتا کہ ہمیں نےجہاد کو انڈیا کے اندر پہونچا دیا ہے“ ایک ماہ کے بعد جب میں حافظ سعید سےملا اس نےمجھ سے کہا۔
لال قعلہ پر حملہ اس بات کی نشان دہی تھا کہ انڈیا کے خلاف اسلامی جہادیوں کا محاز خطرناک حدوں میں داخل ہوچکا ہے۔
جاری ۔۔۔۔
مرسلہ: منگل اپریل 08, 2008 3:24 am
آخری بار تفسیراحمد نے بدھ اپریل 23, 2008 2:56 am کو; 1 بار مدون کیا
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
اس قسم کےحادثہ تھے جنہوں نے ایل۔ای۔ٹی کو یو۔ایس کی توجہ اس طرف دلائی۔ اور ٢٠٠٢ میں اس جماعت کو دشت گردی کرنے والی جماعتوں کی لسٹ پر درج کردیا گیا۔ کیونکہ مُشرف نےدشت گردی کےخلاف جنگ میں شامل ہونے کا اعلان کردیا تھا اس کو اس جماعت کوممنوع کرنے کےعلاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ لیکن اس کو ممنوع کرنے کا ذیادہ اثرنہیں ہوا۔ اس کے اعلان سے پہلے ہی ایل۔ای۔ٹی نےاپنا ہیڈ کوارٹر مقبوضہ کشمیر میں منتقل کرلیا۔ اس کی وجہ سےمشرف پرسیاسی دباؤ کم ہوگیا۔ اور یہ الزام کے پاکستان کی حکومت فدائین کے حملوں میں شامل ہے۔ اب کمشمری ایل۔ای۔ٹی ایک مکمل لیڈر شپ کےزیردامن تھی۔ پاکستاں میں ایل۔ای۔ٹی نےجماعت الدعواہ کے نام سےسیاسی جماعت تیار کی اور حافظ سعید اس کا نیاسربراہ ہوا۔ جماعت الدعواہ اپنی سرگرمیاں تبلیغ، تعلیم اور رفاہ عامہ تک محدود رکھیں۔ مگر حقیقت میں جماعت الدعواہ نے کشمیری جہاد سے تعلق ختم نہیں کیا۔
ایل۔ای۔ٹی نے قبول کیا کہ اس ممانعت نے ان کے کشمیر میں آپریشن کو آہیستہ کردیا لیکن اس کوختم نہیں کیا۔ کچھ عرصہ روکنے کے بعد ایل۔ای۔ٹی پھر سے رضا کاروں کو کو بھرتی کررہی تھی اور اس کے چندہ جمع کرنے کے بکس مسجدوں اور عوامی جگہوں پرنظر آنےلگے۔ مارچ ٢٠٠٤ کی ایک تقریر میں حافظ سعید نے کہا کے پچھلے چھہ ماہ میں ایل۔ای۔ٹی کے کیمپوں میں سات ہزار نئے رضا کاروں نےٹرنینگ لی ہے۔ نومبر٢٠٠٢ میں جماعت الدعواہ کی پہلے اجتماع میں ایک لاکھ لوگوں نےحصہ لیا۔
یہ صاف ظاہر تھا کے انٹرنیشل کیمیونٹی کی نظروں سے پوشیدہ رہنے کے لئے جماعت الدعواہ بنائی گئی تھی اس کا ملٹری انفرااسٹراکچر اور پروپیگنڈا مشینری اپنی جگہ موجود تھی۔ گروپ نے رسالوں کی طباعت اور اپنی ویب سائٹ جاری رکھی۔ حیرانگی کی بات ہے کہ جب حکومت نےاسلامی انتہا پسندوں کےمتعلق مہم چلائی اور لوگوں گرفتار کیا ان میں سے ایک بھی ایل۔ای۔ٹی کا ممبرنہیں تھا۔ حافظ سعید کو کچھ دنوں بندکیا گیا۔ لیکن دسمبر٢٠٠٢ کورٹ آرڈر کی بنا پراسےچھوڑنا پڑا۔ اس نے مسلمانوں کو جہاد کے لیے ترغیب شروع کردی۔
“ ہمارے لیےجہاد نماز، روزے کی طرح واجب ہے اور وہ کسی صورت میں بھی ترک نہیں کیا جاسکتا“۔ اس نے اپنی نظر بندی ختم ہونے پر کہا۔“ہماری جماعت اتنی بزدل نہیں کے جس طرح کےحکومت ہے جو یوایس کے دباؤ میں جہاد کی مدد کرنا چھوڑدے“۔
٢٠٠٣ میں حکومتِ پاکستان نے جماعت الدعواہ کو دشت گرد لسٹ میں شامل کردیا۔ لیکن اس عمل نے سرگرمیوں کو ختم نہیں کیا اس نے اسپتالوں اور مدرسوں کی سرگرمیوں کو جارہی رکھا۔
اگرچہ ایل۔ای۔ٹی نے کشمیر کی جدوجہد کو جاری رکھا۔ مگرحکومت سےلڑائی مول نہیں لی۔
“ ہمارا مقصد غیرمسلم کےخلاف جہاد ہے“۔ ایل۔ای۔ٹی کے نمائندے یحیٰ مجاہد نے کہا۔ دوسرے اسلامی جنگجوؤں گروپ جی۔ای۔ایم اور ایچ۔یو۔ایم طرح، ایل۔ای۔ٹی نے کبھی پاکستان میں اپنی گوریلا فورس استعمال نہیں کی۔ اور ناہی فرقہ پرستی میں حصہ لیا اور نہ ہی نسلی اختلاف کی بنا پرتفریق کرنے والی آرگینائیزیشنوں میں حصہ لیا۔ حکومت کا ایل۔ای۔ٹی کونظر انداز کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کے اسلام باد ان جماعتوں کو نظرانداز کر رہا تھا جن نے اپنی سرگرمی کشمیر میں محدود کی ہوئی تھی۔ اور وہ ملک میں دشت گردی میں شامل نہیں تھے۔ حکومت نے اپنی پوزیشن کا دفع کرتے ہوئے کہا کے ایل۔ای۔ٹی سےملک کی اندرونی سیکیورٹی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور اس آرگینائیزیشن پرحکومت کی نگرانی ہے اور اس کے کوئی ممبر نے ملک کے اندر دشت گردی کی ہے۔
برخلاف اس کے اس بات کا پکا ثبوت ہے کےایل۔ای۔ٹی نے افغانستان سے بھاگے ہوئے القاعدہ کے ممبروں کو پناہ دی۔ ٢٠٠٢ میں اُساما بن لادن کا ایک قریبی ساتھی ابو زُبیدہا پاکستان کے ایک شہر فیصل آباد میں کرایہ کے ایک مکان میں گرفتار کیا گیا۔ یہ مکان ایل۔ای۔ٹی کے ایک ممبر نے کرائے پرلیا تھا۔لیکن ایل۔ای۔ٹی کے لیڈروں کا کہنا تھا کہ ان کا اس دشت گردگروپ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ اور ان کے درمیان بڑا فرق ہے۔
“ ہم جہاد کے بارے میں اتفاق رکھتےہیں مگر اُساما بن لادن مسلمان حکومتوں کےخلاف بھی جہاد چاہتا ہے۔ اسلام مسلمان حکومتوں کے خلاف جہاد کا منع کرتا ہے“۔ایل۔ای۔ٹی کے نمائندے یحیٰ مجاہد نے کہا۔
حکومت کا ایل۔ای۔ٹی سےجھگڑا نہ کرنے کی وجہ اس جنگجو جماعت کو اس وقت تک نظر انداز کرنا تھا۔ جب تک کے انڈیا کشمیر کے تنازعہ کو حل کرنے کے لیےتیار نہ ہوجائے۔ انڈیا اور پاکستان میں امن کی بحالی کی ٢٠٠٤ کی گفتگو کی وجہ سے پاکستان اور انڈیا کےتعلقات بہتر ہونے کے باوجود کشمیر کے مسلہ کو حل کرنے کی طرف کوئی نئے اقدام نہیں اُٹھائےگے۔ حکومت پاکستان کا خیال تھا کےاگر کشمیر میں ملٹری ایکشن ختم ہوجائیں تو انڈیا پر سے دباؤ اس مسلہ کو حل کرنے کا دباؤ ختم ہوجائےگا۔
اگرچہ ایل۔ای۔ٹی س کی سرگرمی کشمیر میں ذیادہ تھی۔ مگر اس نے اپنا نیٹ ورک دوسرے ملکوں میں بھی پھیلا رکھا تھا۔ اس کےممبر انڈیا، برما، چیچنیا، بوزنیا میں بھی موجود تھے۔ اور بعض اطلاعات کے مطابق وہ امریکہ کے خلاف عراق میں بھی لڑ رہے تھے۔ اپریل ٢٠٠٤ میں اتحادی فوجوں نے ایک پاکستانی اسلامی جنگجو کوگرفتار کیا اس کی شناخت دانش احمد بتائی گئ۔ دانش احمد کو برٹش فورس نے بصرہ گرفتار کیا۔ دانش احمد کشمیر میں ایل۔ای۔ٹی کا سابق کمانڈر تھا جیس بعد میں امریکن انٹیلیجنس کے سپرد کردیا گیا۔
احمد ان پزاروں ہزاروں پاکستانی رضاکاروں میں سے تھا جوعراق کی جنگ میں لڑرہے تھے۔ ذیادہ تر وہ ایک مذہبی اسکول سے تھے جو ایم۔ دی۔آئی چلارہی تھی۔ ایم۔دی۔آئی سختی سے امریکہ کے خلاف تھی اور اس جماعت نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ اس ضروری ہے کہ مسلمانوں کو امریکہ کے خلاف ان مجاہدین کا ساتھ دینا چاہیے جو امریکا کے خلاف عراق میں لڑ رہے ہیں۔
“ اسلام خطرے میں ہے اور عراقی مجاہدین اس کی عظمت اور وقار کےلیےلڑ رہے ہیں۔ اور وہ شطانی فوجوں سے مشکل حالات میں لڑرہے ہیں“۔ جون ٢٠٠٤ میں حافظ سعید نے لاہور مسجد میں کہا۔
اگرچہ ایل۔آئی۔ٹی پاکستان میں دشت گردی کرنے والوں کے ساتھ شامل نہیں ہوئی۔ مگر انکے لیڈر مُشرف کی امریکہ کی پالیسوں کی طرفداری کرنے اور مدرسوں کی اصللاح کرنے سے خوش نہیں تھے۔
“ ہمارے ذیادہ تر لیڈر امریکہ کی گود کے کتےہیں “۔ جماعت الداعواہ کی ایک اشاعت مجاوتل داعواہ میں کہا گیا۔
باوجود اس کے کہ یہ تصور کیا گیا کے ایل۔آئی۔ٹی مطیع ہے جس کو تابع دار رکھا جاسکتا ہے ایل۔آئی۔ٹی کی طاقت بڑھتی جارہی تھی اور وہ حکومت سے کشمیر کے علاوہ دوسری متنازع چیزوں پر بھی مقابل تھی صرف رضاکاروں کی بھرتی، چندہ جمع کرنا ، اور ملٹری سرگرمیوں کی وجہ سے وہ پاکستان کی سوسائٹی کو انتہا پسند بنارہی تھی۔
کشمیر سے مختلف افغانستان وہ جگہ ہے جہاں نائن الیون کے بعد حکومت اور ان کے پرانے جہادی دوستوں کے مقصد میں مناسبت نہیں رہی۔ ١٩٨٠ طالبان، آئی۔ایس۔آئی اور پاکستانی جہادیوں کےدرمیان ملاپ کی وجہ سےمشرف کے لیےیہ مختلف ہوگیا کہ وہ آئی۔ایس۔آئی کو اپنی پالیسی کو تعمیل جو ١٨٠ درجہ مخلتف تھی مشکل ہوئی۔ وہ گروپ جن کو طالبان سے ہمدری تھی مثال کےطور پر ایچ۔ہو۔ایم اور جے۔ای۔ایم کو افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر کے خطرناک علاقوں میں قوت حاصل ہوئی ۔
طالبان آئی۔ایس۔آئی اور جہادیوں کے ملاپ کی وسعت اس وقت معلوم ہوئی جب ١٩٩٩ میں ہندوستانی انڈین ائر لائن کے طیارے کواغوا کیا گیا۔ میں نے قندھار کے ائر پورٹ پر یہ سانحہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ میں چند رپورٹر، کیمرہ مین اور ٹی وی کے عملے کے ساتھ اس انڈین ائر لائن ( ائر بس ) سے ٥٠٠ میٹر کے فاصلہ پرتھا۔اس ائیر پورٹ پرصرف انڈین ائیر لائن ائیر بس ہی تھی جو کام کر رہی تھی۔کالی پگڑیوں والےطالبان کے سپاہی اس جہاز کی نگرانی کررہے تھے۔ یونائٹیڈنیشن اور جہاز کو اغوا کرنے والوں میں گفت و شنید کھینچ رہی تھی۔ جہاز کے اندر خراب تھیں۔ ایک مسافر کی لاش خون میں لت پت پڑی تھی۔
٢٤ دسمبر کو کھٹمنڈو نیپال سےدہلی جانے والی فلائٹ آئی سی آٹھ فورٹین کو اُڑنے کے چالیس منٹ کےبعد پانچ لوگوں نےاُسے اغوا کرلیا جن کے پاس ہنیڈ گرنیڈ، پستول اور چاقو تھے ۔ جہاز قندھار پہنچنے سے پہلے ہندوستان، یونائیڈ عرب امریٹ اور پاکستان رُکا۔اغوا کرنےوالےجو اپنے آپ کو کشمیر کی آذادی کے سپاہی ظاہر کر رہے تھےان کا مطالبہ تین اسلامی جنگجو کی انڈیا جیل سے رہائی تھی۔
عجیب بات ہے کہ طلبان لیڈر جو فوٹوگرافی کو غیراسلامی قرار دیتے تھے ان کو اب تمام وسیلہ مہیا کر رہے تھے۔ ٹی وی کیمرہ اور فوٹوگرافی پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ یہ دقیانوسی اسلامی حکومت اب دنیا بھر میں اس اغوا کی شہرت کے لیے بے چین تھی۔ جیسےجیسے اغوا ڈرامہ افشا ہوا۔ دنیا بھر سے بیسوں رپورٹر اور ٹی وی کےعملے قندھار کے مذہی شہر آپہنچے۔
نئے سال کی آمد کے ساتھ یہ آٹھ دن کی دشت گری ختم ہوئی جب انڈیا کا وزیر خارجہ جسونت سنگھ اپنےساتھ اُن تینوں اسلامی جنگجو کولیکر قندھار پہونچا۔ یہ وہ قیدی تھے جن کی رہائی اغوا کرنےوالے چاہ رہے تھے۔ اس میں ایک ناٹا، الجھے ہوئے بالوں والی داڑھی والا آدمی ایچ، ای، ایم کا سابق لیڈر مسعود اظہر تھا جیسےانڈیا نے١٩٩٤ میں دشت پسندی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔اس کےساتھ ایک لمبا قدوقامت اور بھرے جسم کا ایک برٹیش نیشنل بھی تھا جس کی پیدائش پاکستان میں ہوئی تھی احمد عمرسعید کوتین غیرملکی سیاحوں کو اغوا کرنے کے الزام گرفتا کرکے تیہار کی جیل میں رکھا گیا تھا۔
اغوا کرنے والے فاتح مند کی طرح جہاز سےاُترے۔ اُن کےچہرے اب بھی چھپے تھے۔ ایک انڈین آفیشیل نے آذاد کیے ہوئے جنگجوؤں کوطالبانوں کے احکام کے سپرد کیا ۔ ملا وکیل احمد مُطاوکیل، طالبان کا شائستہ وزیرخارجہ اس معاملہ کو ہوشیاری سے نمٹانے میں پر انٹرنیشنل کیمیونٹی سےداد حاصل کی۔لیکن اصلی ڈرامہ ائیرپورٹ کے رن وے کی دوسری طرف ہورہا تھا۔
قندھار میں طالبان کی فوج کا چیف مُلا اخترعثمانی اور اس حکومت کے دوسرے آفیشیل رہا کئے ہوئے جنگجوؤں استقبال کررہے تھے اُن کے ساتھ دو اغوا کرنے والے تھے۔ ان میں سے ایک ویسٹرن سوٹ میں تھا اور دوسرا سفاری جیکٹ میں ۔
“ کیا تم اب خوش ہو؟“ ایک مُلا نےمسکراتے ہوئے پوچھا۔
“ بالکل۔۔۔“۔ ان میں سے ایک نے لہراتےجواب دیا۔
ان کو ایک کار جس کی کھڑکیاں اندر بیٹھے ہوئے لوگوں کو پوشیدہ کرنے کے لیے کالی کردیں گئیں تھیں میں بیٹھا کر تیز رفتاری سے ایک خفیہ جگہ ہر روانہ کردیا گیا اور تین اغوا کرنے والے بھی غائب ہوگے۔
“ طالبان کی فراست کی اور عمدہ انتظام کی وجہ سے ہرچیز پلان کےمطابق ہوئی“۔ اظہر نے اس سانحہ کو یاد کرتے ہوئے کہا۔
تاریخ میں یہ پہلی دفعہ تھا کہ ایک پاکستانی دشت گرد گروپ نےدشت کےلیے ہوائی جہاز کے اغوا کو کامیابی سے استعمال کیا تھا۔ یہ پلان ایچ۔یو۔ایم کا تھا۔ یہ گروپ ایل۔ای۔ٹی کی طرح تھا۔ لیکن اس کے ممبر کم تعلیم یافتہ، غیر ملازم جوان اور صوبہ سرحد سےتھے۔ حرکت الانصار کواسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی دشت پسندوں کی لسٹ میں شامل کرنے کے بعد ١٩٩٤ پر حرکت الانصار کے سابق ممبروں نے ایم۔یو۔ایم بنائی تھی ۔
طالبان اور پاکستانی سرپرست کی مدد کےبغیرگروپ کو کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانی سورسیس جن متواکل بھی شامل ہے اور جس میں طالبان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد اپنے آپ کو امریکن فوج کے حوالے کردیا تھا کا کہنا ہے ۔“ اغوا کرنے والے کو ھدایت دینے والے پاکستانی انٹیلیجینس آفیسر ائیر پورٹ پرموجود تھے“۔
ہوائی جہاز کے اغوا کے بعد بھی انڈیا میں دشت پسندوں کی کاروائی جاری رہی۔ وہ تمام جہادی لوگ جو اس معاملے میں شامل تھے ان کی وجہ سے پاکستان کو شرمندگی ہوئی۔
٧ جنوری ٢٠٠٠ میں اظہر کراچی کےسنڑل ڈسٹریکٹ میں دیکھا گیا۔ وہ دو درجن مسلح خاکی یونیفارم پہنے لوگوں کے درمیان تھا۔ اس نے فخریہ طور پر اپنے آزادی کو انڈیا کی ہار کہا۔
“میں یہاں اس لیے آیا ہوں کے یہ میرا فرض ہے کے آپ سے کہوں کہ مسلمان اسوقت تک آرام سے نہ بیٹھے جب تک کہ وہ انڈیا اور امریکہ کو تباہ نہ کردے۔ میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ جب تک میں کشمیر کو انڈیا کے شکنجے سے نہ نکال لوں۔ حکومت کی طرف سے اظہر کو باز رکھنے کے لیے نہ ہی گرفتار کیا اور نہ ہی اس کو اشتعال انگیز استعمال کرنےسے روکا۔ یہ صاف ظاہر تھا کہ اس کو حکومت کی حمایت حاصل ہے۔
اظہر جنوبی پنجاب کےڈسٹریکٹ بہاول پور میں ١٩٦٨ میں پیدا ہوا۔ ایک اسکول ٹیچر کے بارہ بچوں میں اس کا تیسرا نمبر تھا۔ وہ ایک مذہبی فیملی میں پیدا ہوا اور اس کے خاندان کے بہت سےممبر انتہا پسند اسلامی تھے۔ اظہر کی اسلامی تعلیم پاکستان کےسب سے بڑے اور ذی اثر جامیہ المیا اسلامیا کے مکتب میں ہوئی۔ جو کراچی میں واقع ہے اور جسے جامیہ بنوریا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ بعد میں وہ وہاں ٹیچر بھی رہا۔ اسلامی عالم یوسف بیوری نے ١٩٥٠ میں اس قائم کیا اور اب یہ اس کے ٹسٹ سے چل رہا تھا۔ ١٩٨٠ میں سویٹ یونین سے جنگ کے خلاف جنگ میں یہ مکتب جہادیوں کا سینٹر بن گیا۔
پاکستان میں یہ مکتب بنیادی دیوبندی تحریک کا گڑھ تھا۔ جو کہ انیسوی صدی میں اُبرا ۔ یہ سنی حنفی اسلام کی ایک شاخ ہے۔ مکتب کا نام وہی ہے جو کہ ایک دیوبندی میں بڑے مکتب کا نام تھا۔ یہ مکتب ١٨٦٧ میں انڈیا میں دہلی کے قریب ایک گاوں دیوبندی میں بنا۔ اس مکتب کے بانی ، شاہ ولی اللہ کے ماننے والے تھے۔ شاہ ولی اللہ اٹھارویں صدی کا اس اسلامی عالم تھا۔ اسکی کوشش اسلام کےمختلف فرقوں کو یکجا کرنا تھا۔ یہ تحریک جنوبی اشیا سےشروع ہوئی اور اس کا مقصد ایک شرعی اسلام تھا۔ مسلم افغانستان پرسویٹ یونین کے خلاف جہاد کو ترغیب دینے کی وجہ سے انتہا پسندوں میں شمار ہونے لگی۔
١٩٨٠ میں پہلا پاکستانی جہادی گروپ اس مکتب سے آیا۔اور آنے والے سالوں میں اس مکتب کے ہزاروں طالب علموں نے افغانستان اور کشمیر کےجہاد میں حصہ لیا۔ کئی طالبانی تحریک کے لیڈر اس اسکول کی پیداوار تھے۔ وہ عموماً مفتی ناظم الدین جو کےایک اسلامی عالم اور اس اسکول کا ڈین تھا سے اسلامی شرعی معاملوں میں رائے لیتے تھے۔
اظہر کا جہاد کی طرف سفر اس مکتب سےشروع ہوا۔ ١٩٨٠ میں وہ افغانستان کے مشرقی خوست صوبےمیں مجاہدین کے ساتھ سویٹ یونین کے خلاف گیا تھا۔ افغانستان میں اس نے فیصلہ کیا کہ اپنی زندگی جہاد کے لیے وقف کردےگا۔ اس نے ایچ۔یو۔ایم میں رکنیت حاصل کرلی۔ ایچ۔یو۔ایم اس وقت سب سےطاقتور جہادی گروپ تھی جوافغانستان کی جنگ میں شامل تھا۔اس کی کمزور صحت کی وجہ سےاس کو پروپیگنڈا اور انتظامی کام دیا گیا۔ اس کی پُرجوش تقریروں کی وجہ سےاس نےتحریک میں ایک امتیازکرلیا۔ اس کی تقریر کے آڈیو کیسیٹ مسلمانوں کوجہاد کاجوش دلانے کے لیےتقسیم کئےگئے۔ وہ ایک مؤثرانشا پرواز بھی تھا اور 80s میں ایک رسالہ صداء مجاہد کا اڈیٹرتھا۔ وہ جلد ہی گروپ کی لیڈر شپ میں شامل ہوگیا۔
90s اس کی ایک ذمہ داری دوسرے ملکوں میں جہاد کی امداد کو تیار کرنا تھا۔اس نے یورپ اور افریقہ کے کئی چکر لگائے۔ بعض زرائع کا کہنا ہے کے١٩٩٢ میں وہ اُساما بن لادن کے پیچھے سوڈان گیا اور عرب لڑاکوؤں کےساتھ لڑا ان میں سے بہت سے افغانی جنگ کے کار آزمودہ تھے جو مقامی سپہ سالار عدید کےلیےلڑ رہے تھے۔کہا جاتا ہے کہ اس نے یمن میں بھی لڑاکووں کو جنگی ٹرینینگ دی۔اور پھراس کوانڈین کشمیر میں جہادیوں کے نیٹ ورک کی تنظیم کرنے بھیجا گیا۔ ١٩٩٤ میں وہ جالی پرتیگیزی پاسپورٹ پرسفر کرتے ہوئے انڈین فوج کی نگرانی میں آگیا اور پکڑا گیا۔ اور اس کو دشت گردی کے الزام میں سزا ہوئی۔ اگرچہ وہ دشت گردی کے الزام سے بری ہوگیا۔ لیکن اس کی قید ختم نہیں کی گئی۔ اور وہ چھ سال تک قید میں رہا۔ اس نے ایک دفعہ جیل سےسرنگ بنا کر نکلنے کی کوشش کی، مگر پکڑا گیا۔ اور اسےسرینگر کی سخت نگرانی والی جیل میں بند کیا گیا۔ قید کےچھ سال کے دوران درمیانی تیس کی عمر میں اس نےجہاد پر کئی مضامین لکھے۔ عموماً ان میں افریقہ کا ذکر ہوتا تھا۔
١٩٩٤ کی جولائی میں ایچ۔یو۔ایم نےلندن اسکول آف اکنامکس کے ایک اسٹوڈینٹ احمدعمرسعیدشیخ کو انڈیا بھیجا تاکہ وہ ایک مشرقی سیاحوں کےگروپ کو اغوا کرکے ان کے تبادلہ کے عوض میں اظہر اور دوسرے جنگجو لیڈروں کی رہائی طلب کرے۔ شیح کو نئی دہلی کے ایک پوٹل سے ایک امریکن اور تین برطانیوں کو اغوا کرنے میں کامیابی ہوئی مگر انڈین پولیس نے اُتر پردیش کے شہر شاران پور کے ایک گھر سے ان کو چھڑا لیا۔ گولیوں کے تبادلے میں ایک سپاہی ہلاک ہوا اور شیخ پکڑا گیا۔ اس کی اور اس کے معلم اظہر کی رہائی میں پانچ سال لگے جب ایک انڈین طیارہ اغوا ہوا۔ شاید وہ پہلی بار ایک دوسرے کے اتنے قریب ہوئے جن ایک انڈین جہاز ان کو قندھار لایا۔
شیخ پاکستان کے ایک امیر گھرانے کا بیٹا تھاجو اپنی معاشی حیثت کو اچھا کرنے کے لیے برطانیہ ہجرت کرگیا۔ شیخ کا پروفائل ایک اسلامی، سیاست سے واقف جنگجو سےمشاہبت رکھتا تھا۔١٩٩٢ میں یوگوسلایہ کی تقسیم کے وقت بنائی ہوئی ان ڈاکومنٹری فلموں دیکھ کر جنگ جوئی کو تقویت ملی جن میں مسلمانوں پرظلم و ستم ڈھائے گئے تھے۔ ١٩٩٠ میں بالکن کی لڑائی میں ہزاروں مسلمان بے رحمی سے قتل کردیئےگئے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایسا تشدد نہیں دیکھا گیا تھا۔
شیخ کی انتہا پسندی کو اپنانے کی ایک کہانی نے شہرت حاصل کی تھی۔اس کہانی کےمطابق شخ ایک ‘ انسانی امداد کا بیڑے“ کے ساتھ بازنیا پہونچا۔ اس تنظیم کا مقصد نسلی تصب کے ملظوموں کو انسانی مدد دینا تھا۔ مگر اس دورہ میں وہ جن لوگوں سے ملا اور جواس نےدیکھا ان چیزوں نےاس کوانتہا پسند بنادیا۔ واپسی پر اس نےلندن اسکول آف اکنامکس کوچھوڑ دیا۔ اور افغانستاں کےایک ٹرینگ کیمپ گیا۔ جہاں اسکا تعلق ایچ۔یو۔ایم سے ہوا ۔ لندن کو واپسی پرانڈیا جانے سے پہلے آی۔ایس۔آی نےاسکو بھرتی کرلیا۔
انڈیا سے رہائی کے بعد اظہر نے ایچ۔یو۔ای سے تعلق ختم کرلیےاور اپنا گروپ بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ اپنےاستادمفتی نظام الدین شمزائی اور دوسرے سینئر ملاؤں کی مدد سے ٣٠ جنوری ٢٠٠٠ کو ایک نئی جنگجوگروپ جیشِ محمد ( جے۔ای۔ایم) کی شروعات ہوئی۔ اس فیصلہ نے پاکستانی جہادی گروپوں کو ہکا بکاکردیا۔ شمزائی اور دوسرے دیوبندی جو کہ پاکستان کی ملٹری سےملے جلے تھے ان کی اس گروپ کی سرپرستی نے جہادی گروپوں میں کئی سوالات پیدا کیے۔ جامعہ بنورہ ، حکومت کے ساتھ مل کر جہاد ی گروپ کی سرپرستی کررہا تھا۔ اس لئے یہ شبہ کیا گیا کہ آی۔ایس۔آی اس میں شامل ہے۔
نیا گوریلا گروپ اس سے پہلے کےگروپ سے ذیادہ اولوالعزم نکلا۔ اسگروپ نے ٢٠٠٠ ء کے وسط میں کشمیر میں انڈین فورس کےخلاف دھماکہ خیزحملے کئے ۔ اس کےمجاہد دیہاتوں، چھوٹے شہروں اور مدرسوں سے آے۔ جے۔ای۔ایم نےبرطانیہ میں کشمیری مہاجر اور پنجابیوں میں سے بھی لوگ بھرتی کیے۔ ٢٥دسمبر ٢٠٠٠ کو ان میں سے ایک محمد بلال نےاکسپلوسیو سے بھری گاڑی سری نگر کےانڈین آرمی بیس میں گھسادی۔ اس مہم کی مالی امداد برطانیہ میں پاکستانی اور کشمیری جلاوطن سے اور دوسرے ممالک سے آئی۔
ان گوریلا حرکات کےعلاوہ جے۔ای ۔ایم کا افغانستان کی طالبانی حکومت سے رابطہ قائم رہا۔ اظہر کے کئی قریبی رشتہ دار کابل گورنمٹ میں ملازم تھے۔ جے۔ای ۔ایم کے ہزاروں مجاہدین افغانستان میں ٹرینگ کے دوران القاعدہ کے قریب ہوئے۔ اس گروپ کا اخبار ضرب المومن، طالبانی حکومت کا ڈھنڈورا پیٹنے والا بن گیا۔ یہ اخبار افسران کے حلقوں میں پڑھا جاتا تھا۔
یہ ہفتہ وار اخبار کراچی میں اردو اور انگریزی دونوں میں چھپتا تھا۔ پاکستان میں اس کی اشاعت دو لاکھ پچاس ہزار تھی۔ یہ ایک قسم کی جہادی صحافت تھی۔ ١٩٩٠ میں جس میں کافی ترقی ہوئی۔ طالبان کا افغانستان میں عروج کی وجہ سے ان اشاعت میں اضافہ ہوا اور وہ پاکستان میں طالبان کے مقاصد کا دماغ اور روح بن گئیں۔ مختلف جنگجوگروپوں کی دو درجن سے ذیادہ طبع و نشر کی تعداد دس لاکھ تک پہنچ گئی۔ انہوں نے اسلامی جنگجویت کو پھیلانا اور مشرقی خیالات کےخلاف لکھنا شروع کردیا۔ ضربِ مومن نے طالبان کےمقاصد بتانے کے لیے انسانی چہرے نہیں شائع کیے بلکہ اسلامی مقدس یا ہتھیارات کی تصاویر شائع کیں۔ انہوں باقاعدہ القاعدہ اور طالبان کی خبریں شائع کیں۔ جے۔ای۔ایم کی ممانعت بندی کے باوجود ضربِ مومن نے چھاپنا بند نہیں کیا۔ اس کےعلاوہ گروپ نے پاکستان کے چار شہروں سے ایک روزانہ کا اخبار بھی شائع کرنا شروع کردیا جس کی اشاعت ایک لاکھ تک پہونچ گئی۔
جے۔ای۔ایم نے مولانا عبدل رشید، جامعہ بنوریا کے ایک اہم لیڈر کے الرشیدہ ٹرسٹ کی مدد سے افغانستان میں اپنی کاروائیاں بڑھادیں۔ اس ٹرسٹ سے ملے والے سرمائے سے جے۔ای ۔ایم کی جہادی ایکٹویٹی بڑھیں۔ وہ افغانستان میں مسجدیں اور مدرسے بنانے لگے۔ ٢٠٠٢ میں امریکہ نے جے۔ای۔ایم کو دشت کو بھیلانے والی تنظیموں کی لسٹ میں درج کردیا۔ پاکستان نے بھی اس کے فنڈ منجمد کردیئے اور اس تنظیم کو ممنوع کردیا۔ مگر اس حکومت کے آرڈر کو ہائی کورٹ نے معطلل کردیا۔
نائن الیون کے بعد پاکستان کی طالبان سےعلحیدگی پر اکتوبر ٢٠٠١میں جے-ای۔ایم نے اپنا غصہ سری نگر کی اسٹیٹ اسمبلی کی بلڈنگ پر اُتارا۔ جس میں ٣٥ لوگ مارے گئےاور بعد میں سری نگر کےانڈین ملٹری بیس پرخود کش حملہ کروایا۔ اس واقعہ کے بعد پاکستان کی فوجی حکومت پر ان تنظیموں کے خلاف اقدامات لینے کا انٹرنیشنل دباؤ بڑھ گیا۔ یہ سانحہ نائن الیون کے کچھ ہی وقفہ کے بعد ہوا۔ مُشرف نے اس سانحہ کو دشت گردی کہا۔
کچھ ہفتوں بعد جے-ای۔ایم نے پھرایک حملہ کیا۔ مگر اس دفعہ یہ انڈیا کےاندر تھا۔٣٠ دسمبر کو دوپہر سے ذرا پہلے کچہ مسلح افراد ملٹری یونیفارم پہنے سخت پہرہ کے باوجود انڈین پارلیمنٹ کی بلڈنگ تک پہونچنےمیں کامیاب ہوگے۔ ان میں سے ایک ایکسپلوسِو سے بھری جیکٹ پہنے تھا۔ اس نے پہونچتے ہی اپنے آپ کو اس ایکسپلوسِو سے اڑادیا۔ اس وقت پارلیمنٹ میں ایک سو کے قریب ممبر تھے۔ تیس منٹ تک حملہ آورں اور پولیس میں جنگ ہوئی۔ انڈین پرائم منسٹر اٹل بیہاری وجپائی اس وقت اپنی کار میں پارلیمنٹ کی طرف سفر کررہےتھے۔ وہ فوراً واپس مڑے۔ اس لڑائی میں پانچ حملہ آور اور سات گارڈ مرے ۔ زخمیوں کی تعداد پندرہ تھی۔ جے۔ای۔ایم نے اس حملے کی ذمہ داری لے لی۔ لیکن حکومت کےدباؤ کے اندر اس کے لیڈروں نے اس ذمہ داری سےانکار کردیا۔ حکومت نے اظہر کو حفاظتی نظر بند کردیا مگر اسےانڈین حکومت کو دینے سے انکار کردیا۔ پاکستان کی حکومت کا یہ کہنا تھا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کے یہ حملہ اظہر نے کروایا ہے۔ امریکہ نے جے-ای۔ایم کو دشت گروں کی لسٹ میں شامل کردیا۔ جے۔ای۔ایم کو امریکہ کے دشت گر قراردینے کے فوراً ہی بعد مشرف نے جے۔ای۔ایم کی کاروائیوں کو منمون قرار دے دیا۔ اس منمونیت سے پہلے جے۔ای۔ایم ایک دوسرے نام جماعتِ فُرقہ بناچکی تھی۔ چند ہی ماہ بعد کورٹ کے آرڈر سےاظہر کو رہا کردیا گیا۔ مگرگروپ نے اس منمونیت کے خلاف باوجود گروپ نے پورے پاکستان میں بیرونی باشندوں، عیسائیوں اور شیعہ مسلمانوں پرخونخار حملے کیے۔ اس جماعت کے بہت سے لوگ بعد میں القاعدہ کے پیادہ بن گئے۔ پاکستان کی حکومت نے ان خونخار حملوں میں جے۔ای۔ایم کی خفیہ شرکت کو نظرانداز کردیا۔ اس کو کچھ عوام کےحفاظتی قانون کے تحت کچھ مہینوں بند رکھنا۔ جس کے بعد اس نے اپنی عوامی موجودگی کم کردی۔
طالبان کے ہارنے کے بعد جو جے-ای۔ایم کے ممبر افغانستان سے واپس ہوئےوہ کرسچن چرچ پرخود کش حملہ کرنے کے ذمہ دار تھے حالانکہ وہ اسلام آباد کے سفارت خانوں کے علاقے میں تھا اور جہاں سخت سیکیورٹی تھی۔ مارچ ٢٠٠٢ میں اس حملہ میں دو امریکن مارے گئے۔
یہی گروپ پاکستان کے دوسرے علاقوں میں شیعوں کی مسجدوں پر حملوں کا ذمہ دار تھا۔ پاکستان کے اندر اس قسم کے فرقہ پرست حملوں نے جے۔ای۔ایم کو دوسرے سِپاہِصاحبہ پاکستان ( ایس۔ایس ۔پی ) اور لشکرِ جھنگوی جیسے سخت سننی گروپوں سے الگ کردیا۔ مگر حقیقت میں بہت سے لوگ تینوں جماعتوں کےممبر تھے۔ دسمبر ٢٠٠٣ میں مشرف پر حملے میں جے۔ی۔ایم کا ہاتھ تھا۔ اس کو بنانے والے احمد عمرسعی شیح اور امجدحسین فاروقی تھے جو ١٩٩٩ میں انڈین ائیر لائن کے اغوا کے بھی ذمہ دار تھے۔
قندھار میں رہائی کے بعد شیح برطانیہ واپس نہیں گیا بلکہ اس نے اپنےاستاد اظہر کےساتھ شامل ہوگیا۔ شیح نے فوراً القاعدہ سے رابطہ قائم کرلیا۔ پاکستان انٹیلیجنس ایجنسی کے زرائع کے مطابق اپنی رہائی کے فوراً بعد شیح نے افغانستان کے کئی چکر لگائے کہا جاتا ہے کہ یہ ٢٨ سال لنڈن کارہنے والا اپنے آخری گشت میں اُساما بن لادن سےملا۔ یہ وقت ہے جب امریکہ نے افغانستان پرحملہ کیا تھا اور طالبان کی حکومت کا تختہ الٹنے سے پہلے وہ پکڑے جانے کے خطرے سے اپنا سرداڑھی منڈا کر پاکستان واپس آگیا۔ امریکہ کی افغانستان ایک مسلم ملک پرحملہ کرنے میں مدد دنے پروہ اپنے پرانے معاون سے سخت غصہ تھا۔ کچھ ہی دن بعد اس کو وال اسٹریٹ کےجرنلیسٹ ڈینیل پرل کو قتل کےالزام میں گرفتا کرلیا گیا۔
مشرف کو قتل کرنے کا پلان بنانے کے لیے ٢٠٠١ میں فاروقی نے ایک گروپ کو اسلام آباد میں جمع کیا تھا۔فاروقی اور شیح دونوں اس پلان میں شامل تھے۔ جنگجووں نے کئی پلان بنائے مگر ایک میں سے دوسنگین تھے۔ جو ٢٠٠٣ میں دو ہفتہ کے دوران یکے بعد دیگرے عمل میں لائے گئے اور کامیاب ہوتے ہوتے رہ گئے۔ ان پلاٹ کےتجریہ سے پتہ چلا کے نائن الیون کے بعد ان گروپوں کتنا اتحاد ہوگیا۔ اس اتحاد میں فاروقی صرف ایک لڑی تھا۔ اس سےظاہر ہوا کہ القاعدہ کا ان جماعتوں سے کامیاب ملاپ ہوچکا ہے۔ جس کی وجہ سے القاعدہ کو دوسروں میں پہچانا اور علحیدہ کرنا مشکل ہے۔
فاروقی نےسویٹ یونین کےخلاف لڑا تھا۔ اور طالبان کی حکومت کے دوران اس نے پاکستانی جنگجووں کوگوریلا جنگ کی ٹرینگ دی تھی۔ فاروقی ایچ۔ہو۔ایم کا سابق ممبراور اظہر کا باڈی گارڈ تھا اور اسکا رابطہ اُساما بن لادن کے چیف آف آپریش خالد شیخ محمد سے تھا۔ نائن الیون کے بعد دشت گردی کی ہر واردات میں فاروقی مشکوک تھا۔
ملک کی خطرناک لوگوں کی لسٹ میں اس کا نام تھا۔ اور اس کےسر پر٥٠ لاکھ ڈالر کی قیمت تھی۔ ستمبر٢٠٠٤ میں سیکیوریٹی فورس سےایک چھڑپ میں اس کی موت ہوئی۔
مرسلہ: بدھ اپریل 23, 2008 2:55 am
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
یہ صحیح معلوم نہیں کے یہ انٹیلیجینس کی نا اہلی تھی کے ان کو اس کی خبر نہیں ہوئی کے بڑی تعداد میں اکسپلوسیو اس راستہ کے پل کے نیچے رکھا جو پریسیڈینٹ کےگھر تک جاتا ہے۔ یہ ایڈین انٹیلیجینس تھی جس نے مشرف کو اس حملہ کی اطلاع دی تھی۔ مشتاق کو ایک سکریٹ کاروائی کرنے کے بعد سزائےِ موت دے گئ ۔ فہیم، نومبر ٢٠٠٤ کو چکلا لا کی ایک ٹاپ سیکوریٹی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ دوسرے اسلامی جنگجو جو پہلے آئی۔ایس۔آئی کے ساتھ تھے اب وہ جہادیوں کے ساتھ شامل ہوگئے۔ ان میں ایچ۔یو۔ایم اور ایچ۔جی۔آئی شامل تھے۔ اور یہ عرصہ سے افغانستان کے معاملات میں دخل دے رہے تھے اور القاعدہ سے ملے ہوئے تھے۔ وہ مشرف کےاس طرح بدل جانے پرغصہ تھے۔
اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایچ۔یو۔ایم کو دشت گروں کی لسٹ پر شامل کرنے کے فوراً ہی بعد میری جنوری ٢٠٠٠ میں خلیل سے ملا۔ ایچ۔یو۔ایم کو دشت گروں کی لسٹ پر شامل کرنے کی وجہ انڈین ائر لائن کا ہائی جیک تھا۔ کمرے میں گھٹن تھی اور دیواروں کا رنگ اُڑچکا تھا۔ فصل الرحمن خلیل آلتی پالتی مار کر بیٹھا تھا۔ خلیل نے پرانے وقت کی کو یاد کیا جب سی۔آئی۔اے اور آئی۔ایس۔آئی نے مجاہدین کی افغانستان کے جہاد میں مدد دی تھی۔
“ ہمیں ہر قسم کی مدد ملی ۔ “ ہم نے اسٹیگر مزائیل کی مدد سے رشین فورسس کو ہرا دیا“۔ پرانے جنگجو نے کہا۔
راولپنڈی کےایک تنگ آبادی میں ایک ٹوٹی پھوٹی بلڈنگ میں ایچ۔یو۔ایم کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ جہاں بڑی داڑھیوں والےنوجوان جنگجو رائفلیں تانے آنے والوں پر نگاہ رکھتے ہیں۔ اندر دیواریں پروپیگنڈا پوسٹر، مذہبی جگہوں کی تصویرات، قران اور کلشنیکاف سے بھری تھیں۔ خلیل ایک سر سےچپکی ٹوپی پہنا تھا اور اس کی داڑھی لمبی تھی۔ اس کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ امریکہ نے اس کےگروپ کو دشت گیر کیوں قرار دیا۔“ ہم نے کئی بار امریکن سے یہ پوچھا کے ہمارا کیا قصور ہے۔ اس سے پہلے کہ ہمیں سزا دی جائے ہمیں یہ بتایا جائے کہ ہمارا جرم کیا ہے۔ ہمیں دشت گیری کی تعریف نہیں معلوم ۔ وہ جو رائفلوں سے لڑ رہے ہیں وہ دشت گیر اور جو ہم پر بم گرا رہے ہیں وہ نہیں؟“
خلیل نے اساما بن لادن سے اپنی وقفیت کا فریفتگی سےذکر کیا۔“ وہ ایک مسلم بھائی ہے۔ میں اسے اس وقت سےجانتا ہوں جب افغان جہاد کے دوران امریکہ اس کو دوست، مجاہد اور ہیرو سمجھتا تھا“۔ اس نے مسکرا کر کہا۔ اب امریکن نے اپنےچشمہ بدل دے ہیں اور وہ ان کے لیے ایک دشت گیر ہے۔
اپنے سینکڑوں اور ہزاروں ہم سر کی طرح خلیل سویٹ فورس کےخلاف لڑا اور اس نے سویٹ پاور کو ٹکڑے ٹکڑے ہوتےدیکھا۔ اگرچہ خلیل اور سینکڑوں اس کی طرح کے لوگوں کے لیے افغانی جدوجہد ١٩٨٩ میں ختم ہوگی تھے۔ مگر جہاد نہیں۔ افغان کی جنگوں سے سخت ہوئے اس اسلامی جہادی کو اب ایک نیا محاظ مل گیا۔ کشمیر کو انڈیا سے آذادی دلانا۔ ١٩٩٠میں سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد جس کو اسلامی جنگجو “جہاد کی فتح “ سمجھے سینکڑوں جنگجو دوسری جگہوں میں منتقل ہوگے۔
خلیل صوبہ سرحد کے ایک مدرسہ جامیا نومانیا کا طالب علم تھا جہاں سے وہ سولہ سال کی عمر میں جہاد میں شامل ہوگیا۔ سویت یونین کے افغانستان پر حملہ کرنے کے بعد یہ مدرسہ جہادیوں کا اڈا بن گیا۔ ایک فتوہ جس نے مسلمانوں کو کمیونسٹ کے خلاف لڑنے کو جہاد قرار دیا تھا اس کی وجہ تھا۔ بغیر اپنےوالدیں کو بتائے ١٩٨١ میں ڈیرہ اسمعیل خان سے افغانسان میں مجاہدین کے ساتھ سویت یونین سے لڑنے کی جنگ میں شامل ہوگیا۔ تین سال تک اس کا فیملی سے کوئی رابطہ نہں رہا۔ وہ ایک افغانی مجاہدین گروپ کے ساتھ لڑا۔ اس گروپ کی قیادت یونس خالص اور کمانڈر جلال ایدین حقانی کررہے تھے۔ یہ گروپ افغان کے صوبہ خوست اور پاکٹیکا میں لڑ رہا تھا۔ اور یہ ہی زمانہ ہے جب اس کی ملاقات آساما بن لادن سے پہلی بار ہوئی۔ اور یہ رشتہ قائم رہا۔
١٩٨٤ میں خلیل اور ایک دوسرے جنگجو لیڈر سیف اللہ اختر نے پاکستان میں مقیم پہلی جہادی تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی ( ایچ ۔جے۔آئی) کے نام سے شروع کی۔ لیکن کچھ سالوں بعد اس نے ایچ ۔جے۔آئی سے علحیدہ ہوکر حرکت النثار ( ائچ۔یو۔اے ) بنائی۔ ١٩٩٠ میں ائچ۔یو۔اے سب سے ذیادہ دشت گیرگروپ تھا جو کشمیر میں لڑ رہا تھا۔ ذیادہ تر رضاکار صوبہ سرحد کے دیوبندی مدرسیہ کے نیٹ ورک سے آئے۔ پین اسلامک آئیڈیا کو پسند کرنے والا یہ گروپ تشدد کے زور سے کشمیر کو انڈیا سے آذاد کرا کر پاکستان کا حصہ بنانا چاہتا تھا۔
پہلے دس ہزار ممبر شمالی پاکستان اور افغانستان سے آئے۔ اس کے بعد کے آنے والوں آذاد کشمیر ، پنجاب اور کراچی کے رضاکار تھے۔ ان میں سے بہت سے ناتعلیم یافتہ، بے روزگار لوگ جو زندگی کے مقصد کی تلاش میں تھے۔ ان میں سے بہت سے وہ لوگ تھے جو مسجدوں میں پروپیگنڈا کرکے بھرتی کئے گئے تھے۔ اگرچہ ایچ۔یو۔اے اور بعد میں ایچ۔یو۔ایم جو ایک بن گئے طالبان کی طرح کے اسلامی عقیدات رکھتے تھے۔ لیکن اس قسم کی اسلامی ٹریننگ نہیں استعمال کرتے تھے۔ جیسی ایل۔ای۔ٹی کرتی تھی۔
اپریل ١٩٩٥ میں یو۔ایس۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کانگریس کو ایک رپورٹ “گوبل پیٹرن آف ٹیررزم“ میں ایچ۔ہو۔اے کو دشت پسندوں کی لسٹ میں پہلی دفعہ شامل کریا۔ رپورٹ میں یہ بتایا گیا کے ایچ۔ہو۔اے کے ہزاروں ممبر چھوٹی اور بڑی مشین گن، رائفل ، مارٹر، ایکسپلوسیو اور راکٹ کے استعمال میں ٹریننگ یافتہ ہیں۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کے ایچ۔ہو۔اے کا لنک “ الفرحان “ سے ہے جس نے جولائی ١٩٩٥ میں مغربی سیاحوں کو اغوا کرلیا تھا۔ ان میں سے ایک جولائی میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا مگر دوسرے کا سر قلم کردیا گیا۔ اور ایک سے ساتھ کیا ہوا آج تک پتہ نہیں چلا۔ کچھ کشمیری زرائع کا کہنا ہے کے وہ اب زندہ نہیں۔
اکتوبر ١٩٩٧ ، امریکہ کی سیکریٹری آف اسٹیٹ میڈلین البرائٹ نے ٣٠ انٹرنیشنل دشت گر تنظیم کے نام کانگریس کو دیئے۔ یہ وہ تنظیمیں تھیں جن کو انٹی ٹیرر افیکٹیو ڈیتھ پینلٹی ایکٹ ١٩٩٧ کے اندر لایا گیا۔ ایچ۔ہو۔اے ان تنظیموں میں سے ایک تھی۔ وہ ایک دوسرے نام ایچ۔یو۔ایم کے نام سے پھر ظاہر ہوئی۔ اس نئی تنظیم کا نام بھی دشت گروں کی لسٹ میں شامل کردیا گیا۔ اسٹیٹ دیپارٹمنٹ کی ١٩٩٧ کی رپورٹ جو ١٩٩٨ میں جاری ہوئی پاکستان پر کشمیری جنگجو گروپوں کی مدد کا الزام لگایا گیا۔ اس میں ایچ۔یو۔ایم بھی شامل تھی۔
طالبان کے عروج کی وجہ سے ایچ۔یو۔ایم کو آسرے بڑھے اور افغانستان ان کا اڈا بن گیا۔ ان کے لیڈران ایک ہی جیسے لوگ تھے۔ ایچ۔یو۔ایم کے ذیادہ تر لیڈر پاکتسان کی سرحد کے انہی مدرسوں سے آئے جہاں سے آئے طالبان کی تحریک شروع ہوئی۔ ان گروپوں کے پیچھے آئی۔ایس۔آئی جس نے طالبان کی بھی سرپرستی کی ہوئی تھی۔
طالبان کی حکومت کے دوران دس ہزار پاکستانی جنگجووں نے القاعدہ کے چلائے ہوئے ٹرنینگ اسکولوں میں ٹرنینگ حاصل کی۔ اس بات کا ثبوت اگست ١٩٩٨ میں ملا۔ جب افغانستان کے ایک صوبے خوست میں القاعدہ کےایک ٹریننگ مرکز پر کروز مزائل کے حملے کے دوران پاکستانی جنگجو مارے گئے۔ ایک دن کے بعد خلیل نے اس حملہ کے جواب میں انتقام لینے کا اعلان کیا
“امریکہ نے ٹاما ہاک مزائیل سے ہم پرصرف دو جگہ حملہ کیا ہے۔ ہم ان پر دنیا میں ہر جگہ حملہ کریں گے جہاں وہ موجود ہوں گے۔ ہم نے امریکہ کے خلاف جہاد شروع کردیا ہے۔ اور ان کو چھپنے کے لیے کوئی جگہ نہیں مل سکے گئی“۔خلیل نے کہا۔
خلیل ١٩٩٨ میں اس میٹنگ میں موجود تھا جس میں “ یہودیوں اور عیسائی مجاہدین“ کے خلاف بن لادن نےانٹرنیشنل اسلامک فرنٹ بنایا۔ وہ اس دستاویز پر بھی دستخط کرنے والوں میں سے بھی تھا جس میں کہا گیا تھا کے تمام مسلمانوں کا “ فرض ہے کے وہ اللہ کے حکم پر امریکن اور ان کا ساتھ دینے والوً کو مار ڈالے“ ۔
٢٩ ستمبر ٢٠٠١ میں پاکستان نے ایچ۔یو۔ام کو بند کردیا۔ مگر وہ جماعت الانصار اور حرکات المجاہدین الالامی کے نام سے ابری۔ پاکستان کے طالبان پالیسی کے بدلنے کے باوجود ان کے طالبان سے تعلقات جاری رہے۔ خلیل نےسینکڑوں جنگجووں کےساتھ امریکن فورس کے خلاف لڑا۔ وہ طالبان کی حکومت کےختم ہونے کے بعد جنوری ٢٠٠٢ میں پاکستان واپس لوٹا۔ اور اپنی جہادی ایچ۔یو۔ایم جو کے طالبان اور القاعدہ پاکستان۔افغانسان کی سرحد سے مدد کرتا رہا۔ اگست ٢٠٠٢ پاکستانی پولس نےخلیل کو نظر بند کردیا لیکن اس کو کچھ ماہ بعد رہا کردیا۔ اس کو دوبارہ ٢٠٠٤ میں گرفتار کیا گیا۔ جب مشرف کے قتل کا منصوبہ بنانے کے الزام میں ایچ۔یو۔ایم کے ممبروں پکڑا گیا۔ پاکستانی سکیوریٹی فورسس کو شبہ تھا کہ ایچ۔یو۔ایم کےسیل، نائن الیون کے بعد ملک میں دہشت گری کے ذمہ دار تھے۔
سیف اللہ اختر ایچ۔جے۔آئی ایک اور جہادی ارگینیزیشن تھی جس کے پاس ملک اور باہرایسے ذرائع تھے۔ یہ گروپ افغانستان کی طالبان فورس کا ایک اہم حصہ تھا۔ اور اس کے ممبر پنجابی طالبان کہلاتے تھے کیونکہ ذیادہ تر پنجاب سے تھے۔ ایچ۔جے۔آئی اپنے آپ کو تمام مسلم ملکوں کی سیکنڈ ڈفینس لائین تصور کرتی تھی اور یہ دعویٰ کرتی تھی کہ اس کے انتہا پسند گروپ کی ٢٤ ملکوں میں برانچیں ہیں۔ جن میں چیچنیا، برطانیہ، اور کئی سنٹرل ایشا کی اسٹیٹ بھی شامل ہیں۔
دوسرے پاکستانی جہادی لیڈروں کی طرح سیف اللہ اختر بھی اسلامی مدرسہ کی پیداور تھا۔ وہ وزیرستان کےقبائلی علاقے کا پختون تھا۔ اسکی بنیادی تعلیم وانا کےدارلعلوم میں ہوئی اور وہ اعلیٰ اسلامی تعلیم کراچی کےجامیا بنوریا میں ہوئی۔ اس نے کچھ عرصہ وہاں پڑھایا بھی جس کے بعد اس نے١٩٨٠ میں مجاہدین کا گروپ جوائن کرلیا۔ اختر نےاپنی جہادی زندگی کا ذیادہ حصہ افغانستان میں گزرا، پہلےسویت یونین کےخلاف اور بعد میں کابل میں طالبان فورس کا کمانڈر کی حثیت سے۔ اس کے کمانڈ سنٹر کا نام دارالا رشد جو پاکستان جنگجوون کا اڈا بن گیا۔ ٢٠٠١ میں امریکہ کئ ہوائی حملے میں اس کے پچاس سے ذیادہ سپاہی ہلاک ہوئے۔
اس گروپ کے پاکستان آرمی سے تعلقات ١٩٩٥ میں ظاہر ہوئے جب سیف اللہ اختر پر رائٹ وینگ بغاوت کے منصوبہ سے میں شامل پایا گیا۔ یہ آٹھ ستمبر ١٩٩٥ کی شام میں تھی۔ جب صوبہ سرحد کے ایک شہر کوہاٹ میں ایک پاکستانی کسٹم گارڈ نے ایک آرمی گاڑی کوعام چیک کے لیے روکا ۔تلاش کے دوران گاڑی کے پچھلے حصہ میں اسلحہ دریافت ہوا۔ یہ اسحلہ آدم خیل قبایلی علاقہ سےلایا گیا تھا اور ظاہراً کشمیر کے اسلامی جنگجو کے لیے تھا۔ اس پکڑ کی اطلاع پاکستان آرمی کو دی گئی۔ شروع میں یہ لگا کے یہ کسی ایک ملٹری آفیسر نے کشمیری جدوجہد کی مدد کے لیےکیا ہے۔ لیکن بعد کی تحقیقات سے پتہ چلا کے یہ ایک علیحدہ واقعہ نہیں یہ کئی آرمی آفسران کا ایک خفیہ پلان ہے اور انکا مقصد ملک میں دوسرے اسلامی جنگجووں سے مل کر ایک اسلامی انقلاب لانا ہے۔
اس پلان کےذمہ دار میجر جنرل زہر الاسلام عباسی، بریگیڈیر مصتنظر بلال اور وسطی عہدے کے آفسران ہیں۔ اس پلان کے پیچھے وہ لوگ ہیں جو ملک میں ملٹری اور سول گورنمنٹ کو نکال کر “اسلامی ڈکٹیٹری “ لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے آرمی جنرل ہیڈ کوارٹر جو کےراولپنڈی میں ہے پر حملہ کرکے ملٹری کمانڈ اپنے ہاتھ میں لےلینےکا منصوبہ بنایا ہے اور میجرجنرل زہرالاسلام عباسی اپنے آپ کو امیرالماموینین کا خطاب دے ( عابدوں کا عظیم سر براہ ) اور پاکستان کو دینی حکومت میں تبدیل کردے گا۔ اس منصوبہ میں سیف الاختر کا ایک اہم رول تھا۔ میجرجنرل عباسی کا انفینٹری کا ڈائریکٹر بنائےجاننے کے ریکارڈ میں قضیہ ہے۔ پریگیڈیر بنے کے بعد اس کو دہلی ( انڈیا ) میں ملٹری اتاشے پر مقرر کیا گیا۔ جہاں اسےجاسوسی کے الزام میں ملک بدر کردیا گیا۔ یہ داڑی والا جنرل اپنےانتہا پسند اسلامی رجحان کی بنا پر پہچانا جاتا تھا اور اس کا ملٹری کیریئر اختتام پرتھا۔ بریگیڈیر بلال کو اس قابل نہیں سمجھا گیا کےان کو ترقی دی جائے اور ان کوجنرل ہیڈ کوارٹر میں ایک کم اہمیت والے ڈیپاٹمنٹ کا ڈائیریکٹر بنادیا گیا۔ یہ سازشی گروپ ریٹایرڈ لفٹیننٹ جنرل غلام عبدل ملک سے بہت متاثر تھے۔ لفٹیننٹ جنرل ملک کچھ مہینوں پہلے ریٹایرڈ ہوا تھا۔ اگرچہ اس کا اس پلاٹ میں ظاہراً کوئی تعلق نہیں لگتا مگر یہ گروہ اس کے انتہا پسند اسلامی خیالات کا حامی تھا۔ ایک ملٹری کورٹ نے میجر جنرل عباسی اور دوسرے ملزم اختر کےخلاف سزا مقرر کیں۔ لیکن اختر کوچھوڑ دیا گیا۔ اور وہ طالبان کی اس فورس کے ساتھ لڑا جو کابل پرحملے کے لیے تیار بیٹھےتھے۔ ٢٠٠٤ میں اختر کا نام پھرسامنے آیا۔ وہ دوبٰی میں تھا ۔اس دفعہ اس کومیں مشرف کے قتل کا منصوبہ بنانے کا الزام لگایا گیا۔
ان گروہ میں مختلف سوچ تھی۔ مثلاً ایل۔ای۔ٹی کا رجعان انڈیا کےخلاف دشت گرئی تھا۔ ( لیکن وہ سب کشمیری جدوجہد کے بھی حامی تھے) ۔ دوسری طرف ایچ۔یو۔ایم کا رجعان افغانستان کی جدوجہد پرتھا۔ کچھ کا بنیادی رجعان جہاد کیطرف تھا۔ دوسروں کا جیسےایچ۔یو۔ایم کا رجعان پاکستان کو پاک بنانا تھا۔ ان سب کے لیےمغربی ممالک دشمن تھے۔ ان کے سپاہی متوسط طبقہ کےلوگ تھے۔ لیڈر، خیال پرست مُلا اور جنہیں جنگوں سےسخت بنادیا تھا۔ اور جن کے آئی۔سی۔ایس سے ربط تھے۔اور جیسے جیسے ملکی اور غیر ملکی کے دباؤ سے وہ اپنی ہیئت بدلتے گے وہ اور بھی انتہا پسند بن گئے اور جن کی وہ کٹ پتلیاں تھے۔ اب وہ ان کے دائرہ اختیار سے باہرتھے۔
اختتام - باب نمبر3
مرسلہ: منگل مئی 20, 2008 9:11 pm
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
باب نمبر4 جہاد کی پیدایش
نوجوان سفید پگڑیاں پہنے ایک ناکامیاب شکاری کی طرح اپنی گریجویشن کے مکمل ہونے کی خطاب سن رہے تھے۔ “ اپنے مذاہب کے محاظ بنو۔ تم دشمنوں کا پہلا نشانہ ہو“ ۔ ایک کمزور، کالی پگڑی باندھے ہومولانا نے کہا۔
یہ حنا سے رنگی ڈاڑھی والا آتشی مقرر پاکستان کے ایک مشہور اسلامی تعلیمات کے ادارہ دارالعلوم حققانیہ کا سربراہ مولانا سمی الحق تھا۔ یہ ادارہ پشاور کےقریب ایک قضبہ اکورا خٹک میں ہے جو رانڈ ٹرنک روڈ پر واقعہ ہے۔ اس انتہا پسند ادارہ کوجہاد کی یونیورسٹی بھی کہا جاتا ہے۔ ستمبر ٢٠٠٣ کو پاکستانی اور افغانی نوجوانی کی یہ کلاس بھی دشمنوں سےجہاد لڑنے کے لیے تیار تھی۔
اس مکتب کی دیواریں کَلشنیکاف رائفل اور ٹینکوں کے پوسٹروں سے بھری تھیں۔ کچھ پوسٹر پر آسامابن لادن کی طرف داری تھی۔
“ یہ تمہاری مذہبی فرض ہے کےاب چیزوں سےتم اپنے ایمان کی حفاظت کرو“۔ حق نےترغیب دی۔
مولانا سمی الحق پارلیمنٹ کا ایک ممبر اور چھ اسلامی جماعتوں کا متحد لیڈر بھی تھا۔ یہ چھ اسلامی جماتیں مل کر شمالی مغربی صوبہ کو حمکرانی کررہی تھیں۔
اس کی عمر ٥٥ کے لگ بھگ تھی اور اسے بذات خود آساما بن لادن سے ملنے پرفخر تھا۔
“ وہ اسلام کا ایک بڑا ہیرو ہے“۔ اس نے نائن الیون کےسانحہ کے ایک ہفتہ اپنی وہ تصویر جو آسامابن لادن کے ساتھ لی گئی تھی دکھاتے ہوئے کہا۔
جب طالبان کے مفرور لیڈر عظیم کمانڈر مُلا عمر کا بھیجا ہوا پیغام اس جلاس میں سنایا گیا خیموں میں جمع شدہ ہزاروں طالب علم ، استاتذہ اور مذہی راہنما نےجہاد، جہاد، اللہ اکبر کے نعرے بلند کیے۔ اس اسکول کوملنے والا چندا چھپا ہوا نہیں تھا۔ یہ طالبان کی پانچ سالہ افغانی حکومت کا گہوارہ تھا۔ طالبان کے بہت سے لیڈر اور کئی منسٹر یہاں کی پیداوار تھےاور کشمیر میں انڈیا کی فورسس سےلڑے والےسینکڑوں جنگجو بھی یہاں سے بھیجے گئے۔ اسکول کےتین ہزار طالب علموں میں افغانستان اور سابقہ سویٹ سنٹرل ایشا کے لوگ بھی تھے۔ جن میں کچھ نے افغانستان اور کشمیر کے “جہاد“ میں حصہ لیا تھا۔
“جہاد اسلام کا ایک خاص رکن ہے“۔ حق نے دعویٰ کیا۔
پچھلے بیس سالوں میں جہادی آرگنائزیشن کا ملٹری کلچر پاکستان میں دارلعلوم حقانیہ جیسی انتہا پسند جماعتوں کی وجہ سے تھا۔ تمام پاکستان میں ہزاروں مدرسہ کھل گئے اور ملک اسلامی انتہا پسندو ں اور جنگجوں کا اڈا بن گیا جس نے ملک کی اندورنی حفاظت کو خطرے میں ڈال دیا۔ اس سے پہلے مدرسہ صرف مقامی مسجدوں کا حصہ تھے اور صرف دینی تعلیم دیتے تھے۔ اور دوسرے مخصوص اسلامی تعلیمی ادارے مذہب کیی اعلٰی تعلیم لے لیے تھے۔
انتہا پسند جماعتوں اسلامی جنگجو نے ان سادہ اور تتر بتر مدرسوں کو لڑنے، کلیشناکوف، مذہی لڑنے والوں کے ٹریننگ اسکولوں میں تبدیل کردیا۔ اور ان کی وجہ سے پاکستان میں انتہا پسند اسلام نے سر اُبھارا۔ بہت سی اسلامی پارٹی ان مدرسوں کو چلارہی تھیں افغانستان میں امریکہ کے بھڑکائے ہوئے مصنوئی جہاد کی بنا پر وہ جنگجو بن گئیں۔ کافروں کے خلاف غیرملکوں میں جہاد، ملک میں اسلام کے خیالی دشمنوں کے خلاف معمول بن گیا۔ پیسہ کے امداد نےاور طاقت کے نشے نے ان سادہ ملاوں کو مافیا کے بدماش بنادیا جن کے پاس اب جیپیں اور باڈی گارڈ تھے ۔ ان ملاوں کےلوکل حکومتوں سے بھی اچھے تعلقات بن گے۔ حکومت در حکومت نے ان کو سیاست، خود مطلبی اور بیرونی اسلامی برادر حکومتوں کی وجہ سے اگنور کردیا۔
ایران کا ١٩٧٩ کا اسلامی انقلاب پاکستان میں غیر ملکوں سے مالی امداد مدرسوں کی ابتدا تھا۔ ایران کے علاقی اثر بڑھنے کے خوف سے کویت، سعودی عربیہ، عراق اور دوسرے تیل کی تجارت کرنے والی اسلام حکومتوں نے انتہا پسند پاکستانی سنی مذہبی اداروں کو مالی امداد دینا شروع کردی تاکہ وہ شیعہ انقلاب کے خلاف معاذ قائم کریں۔ ملک بھر میں اور بلوچیستاں ( جو ایران کے قریب ہے ) میں کروڑوں روپیہ خرچ کیا گیا۔
جنرل ضیا الحق کی حکومت نے ان اسلامی مدرسوں کے تیز رفتاری سے وجود میں آنے میں مدد دی۔ ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ ، حکومت نے ذ کات اور عشر فنڈ سے مذہبی اداروں کے پھیلاؤ کی مدد کی۔ ایجوکیشن کا اسلا می کرنا اور اسلامی ٹیکس لگانے کا ملک پر کافی بڑا اثر ہوا۔
ذکات جو اسلام کے پانچ رکن میں سےایک ہے اس کو مسلمان حکومتوں میں ذاتی خیال کیا گیا تھا۔ جنرل ضا کی حکومت نے اس رسم کو توڑ دیا اور احکام جاری کئے جن کی بنا پر ہر رمضان کے مہینے میں بنک کو آپ کے اکاونٹ سے زکات کے پیسے نکالنے کی اجازت تھی۔ یہ کافی پیسہ تھا اور اس پیسہ کو مذہبی مدرسوں کے لیے استعمال کیا گیا خاص طور پر دیوبندی جوکا تعلق سعوی عربیہ سےہے۔ ذکات نے لاکھوں غریبوں کو کوئی فائدہ نہیں کیا۔اس کا صرف اثر مذہبی ارداوں پر دیکھا جاسکتا تھا۔ بیرونی حکومتوں اور پاکستان کی حکومت کی مالی امداد نے ان مدرسوں کو نفرت سے بھر پور فرقہ پرست بنادیا۔ سعودیہ عربیہ کی سرپرستی میں خاص طور پر اہل ہدایت مدرسہ نے حالات کو اور خراب کرنے میں مدد کی۔
مدرسوں کا پاکستان کی سماجی اور مذہبی زندگی پر بھی اثر پڑھا۔ ذیادہ ترغریب طبقہ ان مدرسوں میں آیا۔ ان کو بغیر فیس کے تعلیم ، ٹھہرنے کی جگہ اور کھانا ملا۔ اور ان غریبوں کی وجہ سے مدرسے پنجاب اور شمالی مغربی سرحد میں پھیلے۔ اور ان علاقوں میں سب سےذیادہ مذہبی اسکول ہیں۔ یہ مدرسے فرقوں اور سیاست کی بنا پرعلیحدہ تھے اور دو شاخوں میں بٹے ہوئے تھےجو دیوبندی اور بریلی کہلاتے ہیں اور جنوبی ایشیا کے مذاہب میں شامل ہوتے ہیں۔ اہل حدیث واہابی اور شیعہ کے اپنے مدرسہ تھے۔ ان فرقہ کے درمیان دراڑ بھرنا ناممکن تھی۔ یہ مدرسے بیرونی دنیا سے بہت دور تھے۔ عموماً طالب علم غریب، اورخانگی دشواریاں سے بھرے گھرانے سے تھے یا یتیم خانوں سے۔ انسانوں حقوق کی دیکھ بھال کرنے والے ادارے ان مدرسوں میں جانوروں کی طرح لوگوں کو بھرنا اورحیوانون جیسا برتاو دیکھتے تھےاوراس کی ملامت کرتے رہے۔ طالب علموں کو جیل کے جیسے ماحول میں رکھا جاتا تھا۔ جسمانی تشدد عام تھا۔ طالب علم کو ذرا سے غلطی پر زنجیروں میں باندھ دیا جاتا تھا۔ مذہبی تعلیم کے لیے اور کچھ نہیں کیاجاتا تھا۔ ریڈیو سننا اور ٹیلیوژن دیکھنے کی سخت ممانعت تھی۔ تعلیم بنیادی تھی اور طالب علم سخت مذہبی اور روائتی طریقوں سے تعلیم دی جاتی تھی۔ جس سے انہیں دینا کا محدود نظریہ ملتا تھا۔
ابتدائی لیول پر مدرسہ کےطالب علم قران کو پڑھنا، یاد کرنا اور زبانی دہرانا سکھایا جاتا تھا۔ اس کے بعد قران کو بامعنی پڑھایا جاتا تھا۔ اور پھر دوسری اسلامی شاخوں کاعلم سکھایاجاتا تھا۔ بنیادی رجعان دینی تعلیم پرتھا مگر بعض مدرسے تھوڑا بہت حساب، سائنس اور انگلش بھی پڑھاتے تھے۔ اس قسم کی تعلیم کی خرابی کےنتائج خطرناک تھے۔ جو یہاں سےتعلیم حاصل کر نکلے وہ کسی بھی کام کے قابل نہیں تھے۔ ان لوگوں کے لیے روزگار نایاب تھے۔ وہ صرف مسجد، مدرسہ اور مذاہبین فرقہ پرست پارٹی یا ان سے معلق آرگنائزیشن میں کام کرسکتے تھے۔
روائتی مدرسے میں کی تعلیم عموماً مذہبی اور سماجی تضاد پیدا کرتی تھی۔ اس قسم کی تعلیم، ماڈرن علم سےدوری، تخلیقی صلاحتوں میں گھٹن اور تعصب بڑھاتی ہے۔ اور اس طرح ایک ایسی بنیاد پیدا کرتا ہے جو انتہا پسندی، مذہبی یا غیرمذہبی سکھاتا ہے۔ یہ مدرسے فرقہ پرستی کی وجہ سے ایک دوسرے سے عداد بڑھانے کا مقابلہ کرتےتھے۔ طلب علموں کو دوسرے فرقے کے آرگومنٹ کو رد کرنا سکھایاجاتا تھا۔ایک فرقے کو ترقی دینے کا مطلب دوسرے فرقے کو گرانا ہے۔ اس طرح طالب علم کےذہن میں انتہا پسندی بھرنا تھا۔ اپنی سے اوپری تنظیم کے پروپیگنڈا جو نفرت سکھاتا تھا اور دوسرے فرقوں کو کافر قرار دیتا تھا کو طالب علموں کے دماغ میں بھرنا۔ آنےوالی حکومتیں مدرسوں کے نصاب کو سدھارنےمیں ناکامیاب ہوئیں اس کی وجہ ان مدرسوں کی مدد کرنے والی تنظیموں کےدباؤ سے یہ ممکن نہ ہوسکا۔
١٩٨٠ کے بعد جہاد کے کلچر نےمدرسہ کے لیے ایک نیا مقصد بنادیا۔ جس کے نتائج میں ان کی ارکان کی تعداد میں اضافہ ہوا اور ان کی تنطیمیں ایک سماجی اور سیاسی قوتیں بن گئیں ۔ آذادی کے وقت پاکستان میں ١٣٧ مدرسہ تھے آنے والے دس سالوں میں ان کی تعداد ٢٤٤ تک پہنچ گی ۔ اس کے بعد ہر دس سال اس کی تعداد دُگنی ہوتی گئ۔ تمام مدرسہ رجسٹرڈ نہیں اس لیےصحیح تعداد کا اندازہ مشکل تھا۔ گورنمنٹ کے اندازے کے مطابق تیرہ ہزار مدرسہ ہیں جن میں ایک کروڑ ستر لاکھ ظالب علم ہیں۔ ذیادہ ترطالب علم ٥ سے ١٨ سال کی عمر کےتھے۔ صرف جو لوگ اعلٰی تعلیم حاصل کر رہے بڑی عمروں کے تھے۔ حکومت کے اعداد اور شمار کے مطابق دس سے پندرہ فی صد مدرسہ کا فرقہ پرست جنگجو یا بین الاقوامی تشدد سے ملعق ہے۔ بین الاقوامی دہشت کی عموماً اس مدرسہ یا مسجدوں پر ختم ہوتا ہے۔
مدرسے انیسو اسی کے افغان جہاد کی وجہ سےانتہا پسندی بنے سے پہلے قدامت پسند ادارے تھے۔ افغانی جہاد میں انتہا پسند عرب اور افغان کےشانہ بشانہ سویٹ یونین کے خلاف لڑے۔ بعد ازیں انہوں نے کشمیر سے لے کر بوزنیا۔ مصر اور یمن میں بھی حصے لیے۔ انیسو بیاسی سے انیسو اٹھاسی تک پاکستان میں ایک ہزار سےذیادہ نئے مدرسے کھل گئے تھے۔ یہ مدرسےذیادہ تر افغانستان اورصوبہ سرحد ، افغانستان اور بلوچیستان کی سرحد کےقریب تھے۔ تقریباً یہ تمام جماعتِ العامہ اسلام ( جی۔یو۔آئی) اور جماعت السلامی ( جی۔آئی) کے کھولے ہوئے تھےجو صدر ضیا کے سیاسی طرفدار اور افغان جہاد کے پارٹنر تھے۔ ان کے مدرسے ایسے دو سرحدی صوبوں میں میں واقع تھے جو زبان، کلچر، اور فرقہ کے لحاظ سےافغانی پختون سےقریب تھے۔ اور ان کو اپنےافغانیوں کےسویٹ یونین سے لڑنے کے لیے بھرتی کرنا آسان تھا۔
ان مدرسوں کا کام طالب علم کوجہاد کی ترغیب دینا تھا۔ لیکن وہ ان کو ملٹری ٹرینینگ دینےمیں شامل نہیں تھے۔ ان کامقصد صرف افغان جنگ کے لئے رضاکار مہیا کرتےرہنا تھا۔ ان کا پیغام سادہ تھا، تمام مسلمان جہاں جس طرح ہوسکے جہاد کا فرض ادا کریں ۔ پاکستان آرمی خاص طور پر آئی۔ایس۔آئی کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان رضاکاروں کوافغانستان اور پاکستان کےقبائلی علاقے کے اندر ٹرینینگ کیمپوں میں گوریلا جنگ کی ٹرینینگ دیں۔ جیسےجیسےافغانی جہاد پھیلا ویسے ہی ان مدرسے سے آنے والے جہادیوں کا اثر بھی بڑھا۔ یو۔ایس نے کھبی سامنے اور کبھی در پردہ اس جنگجویت کو شہ دی۔ جہاد کے کلچر اور ملاؤں کی کمیونزم کے خلاف جدوجہد میں مدد کی۔
نبراسکا۔ اوہاما کی یونیورسٹی میں داری زبان اور پشتو میں جہاد کو فروغ دینے کے لیےاور ملٹری ٹرینیگ کی اسپیشل کتابیں چھاپیں گیئں۔ اس پروگرام کو یو۔ایس فنڈ سے امداد ملی۔ یہ کتابیں لاکھوں کی تعداد میں افغانی مہاجر کیمپوں اور پاکستانی مدرسوں میں تقسیم کی گئیں جہاں پر طالب علموں کو بنیادی حساب سیکھانے کے لیے سویٹ یونین کے فوجیوں کی لاشیں اور کلشناکواف رائفل کو مثال بنایا گیا۔ یہ ٹیکسٹ بک بعد میں طالبان نے اپنے مدرسوں میں استعمال کیں۔
جب جنرل ضیاالحق نےاسلامیت اور افغانستان میں جہاد کو اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیےاستعمال کرنا شروع کیا تو ان مدرسوں کی گہریت میں اضافہ ہوا۔ اس اسلامیت نے ایک دوسرے سے مختلف فرقوں کو مضبوطی دی۔ ایک سوسال سے جہاں کئی فرقے ایک دوسرے کے ساتھ امن و امان سے رہ رہے تھے اب حاوی فرقے اپنی شناخت کی مہر چھانپنے لگے۔ اور فرقہ پرستی اور اختلاف پھیلانے لگے۔ اور اس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ تشدد بڑھ گیا۔
متعصبوں نے یہ موقع غنیمت جانا اور اس کو مخالف فرقہ پرستوں اور خاص طور پر شیعوں کے خلاف استعمال کرنا شروع کردیا۔ افغانستان میں قدامت پسند طالبان کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مدرسوں کے ظہور میں آنے نے انٹرنیشنل کمیونیٹی کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ یہ تحریک سینکڑوں مذہبی اداروں کی بناء پر فروغ پائی جوسرحد کے دونوں پر طرف کی پختون آبادی میں قائم ہوئے۔
مدرسہ دارلعلوم حققانیہ ، مدرسہ اور افغان جہاد کا ایک بے نظیر نمونہ بن گیا۔ مدرسہ دارلعلوم حققانیہ کا بانی دیو بندہ آرڈر کا ایک اسلامی عالم محمد عبدالحق تھا۔ افغان کی جنگ کے شروع میں اس نے یہ مدرسہ پین اسلامیزم کو پھیلانے کے لیے کھولا تھا۔ اسےبیرونی ملکوں سے کام مدد ملی۔ دارلعلوم کے کرتا دھرتا جی۔یو۔آئی ایک مذہبی اور سیاسی پارٹی تھی۔ جی۔یو۔آئی قدامت پسند متحدہ مجلس عمل ( ایم۔ایم۔اے ) کی چھ پارٹیوں میں سے ایک تھی۔ اس مذہبی ادارے میں طالب علموں ایک بڑی تعداد افغانیوں کی تھی اور ان میں افغان مہاجروں کی وجہ سے اور بھی اضافہ ہوگیا۔
انیسو پچاسی تک اس ادارے کے ساٹھ فی صد طالبان افغان تھے۔ طالب علم ازبکیستان، تاجکستان اورترکمینیستان سے بھی آئے۔ افغان جہاد کے شروع ہی سے کلاس میں پابندی سے شرکت کرنے پرسختی نہیں کی گی بلکہ ان کوجہاد میں شامل ہونے کے لیے چھٹیاں دی گئیں۔ انیس سو نوے میں قدامت پسند طالبان کےاقتدار میں آنے پرمدرسہ دارلعلوم حققانیہ نےانٹرنیشنل کمیونٹی کو متوجہ کرلیا۔ ہزاروں افغان اور پاکستانی طالب علموں نے سرحد کو پار کرکےاسلامی جنگجوؤں کوجوائن کرلیا۔ انیسو ستانوے میں اسکول کچھ مہینوں کے لیےبند کردیا گیا تاکہ طالب علم کو مزار شریف کو واپس جیتنے کی جنگ میں حصہ لے سکیں۔ سرحد پر اتنی بڑی نقل و حرکت بغیر پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی کی ساز و باز کے بغیر نہیں ہوسکتی ہے۔
گیارہ سمبر کو نیویارک اور واشنگٹن کے حملے سے کچھ ہی پہلےدارلعلوم نے ایک اسلام پارٹیوں کی کانفریس منتقد کی اور طالبان اور آسامابن لادن کےساتھ اتحاد کا اعلان کیا۔ جنگی لباسوں میں ملبوس چہروں کو چھپائےہوئے مسلحہ جنگجو ان پاکستانی اور افغانی اسلامی لیڈروں کی حفاظت میں کھڑے تھےجو نوجنوری دو ہزار ایک میں مغرب کےخلاف آسامابن لادن کا ساتھ دینے کا عہد کرنے جمع ہوئے تھے۔
اس میٹینگ میں تین سو لیڈروں کےعلاوہ جو مختلف انتہا پسند اسلامی گروپ کے نمائندے تھے آرمی کےسابقہ چیف جنرل اسلام بیگ اور سابقہ آئی۔ایس۔آئی کےچیف جنرل حمیدگل بھی شامل تھے۔ ان نے یہ اعلان کیا کے ہر مسلمان کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ آسامابن لادن کی حفاظت کریں جو ایک بڑا مسلم جنگجو ہے۔اس اسمبلی کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اسلام آباد پر یہ دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ یو۔این کے سینکشن پرعمل نہ کریں۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ ملٹری حکومت جس نے سیاسی جماعتوں کے اجتماع کرنے پر پابندیاں عائد کر رکھیں تھیں، اس نےاس کانفرینس کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ یہاں تک کے اسلحہ کی نمائش پر بھی جنگجووں کے خلاف کوئی اقدام نہیں لیےگئے۔ اسلامی مکتب اور ملاؤں کسی اور دور میں اتنے طاقتور نہیں تھے۔
بیرونی ممالک کےوہ لوگ جو افغانستان کے جہاد اور القاعدہ میں شامل ہوناچاہتے تھے ان کے لیے یہ مدرسے ایک راہ بن گئے۔ جب امریکن جان والکر لندھ کے نام انٹرنیشنل سطح پرنمودار ہوا بہت کم لوگوں نےصوبہ سرحد کے باہر اس دقیانوسی مدرسہ عربیہ کا نام سننا تھا۔ یہ نوجوان شمالی افغانستان کے صوبہ کُنڈوز میں نارتھ الائنس سےلڑتےگرفتار ہوا جو یو۔ایس کی مدد سے طالبان سے لڑرہی تھی۔
مدرسہ عربیہ دور جگہ پرتھا جہاں عام صولتیں بھی مہیا نہیں تھیں۔ اس جہاں ١٩ سالہ امریکن نےشعریہ اور جہاد کا سبق سیکھا۔ مئی دو ہزار ایک میں طالبان کی طرف سے لڑنے سے پہلے جان والکر لندھ یہاں چھ ماہ گزارے، والکر کیلی فورنیا کے ایک متواسط درجے کےگھرانےمیں پیدا ہوا تھا۔ اور اسلام کو صحیح طرح سے سمجھے کے لیےاس نےاسکول میں داخلہ لیا تھا۔ اسکول کا سفید داڑھی والا مفتی محمد التماس اس کو وہ اسطرح سے یاد ہے کہ والکر قران کے ایک ایک لفظ کو یاد کرنےدھن میں مٹا تھا۔ وہ رسیسوں کے پلنگ پر سویا، اور وہاں رات کے دس بجے کے بعدگرم پانی یا روشنی مہیا نہیں تھی۔
والکر اس مدرسے سےایک پاکستانی مشنری کے ذریعے متعارف ہوا جو انیس سو اٹھانوے میں کیلی فورنیا تبلیغ کے سلسلے میں آئی ہوئی تھی۔ ایک پختون خضرحیات جو امریکہ میں تبلیغ کرنے گیا تھا اس کا تعلق ایک مقامی جنگجو تنظیم سے تھا۔ اگرچہ اس اسکول میں دوسرے طالب علم لندھ سے کم عمر تھے۔ مگر اس کو اسکول میں داخلہ دے دیا گیا۔ اس کو اسلامی نام سلیمان الفارس دیا گیا۔ مدرسہ میں قیام کے دوران اسے کئی دفعہ طالبان سے ملنے کا موقع ملا۔ مئی دو ہزار ایک میں حیات اس کو ایک ایچ۔یو۔ایم کے دفتر لے گیا جہاں اس نےگوریلا جنگ کی تربیت کے لیےداخلہ لے لیا۔
مرسلہ: جمعرات جون 05, 2008 4:23 am
آخری بار تفسیراحمد نے اتوار ستمبر 14, 2008 4:01 pm کو; 1 بار مدون کیا
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
باب نمبر5
دو مارچ دو ہزار چار میں مغربی پاکستان کے شہر کوئٹہ میں سینکڑوں شیعہ ماتم کررہے تھے۔ یہ ماتم ہرسال امام حسین کی چھٹی صدی میں شہادت کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ امام حسن، پیغمبرمحد کے نواسے تھے۔ جلوس بہت ہی آہستہ بڑھ رہا تھا۔ اچانک ایک دھماکہ نے ہجوم میں ایک زبردست لرزا پیدا کردیا۔ چھتوں سے مسلحہ آدمی مشین گنوں سے فائر کررہے تھے۔ ان میں سے کچھ ہینڈ گرنیڈ پھینک بھی رہے تھے۔ اسی دوران دو خودکش حملہ آوروں نے بھیڑ میں اپنے آپ کو بم سےاُڑا دیا۔ اس قتل و غارت میں چوالیس لوگ مرے اور بیسوں زخمی ہوئے۔
چھ ماہ میں یہ تیسری بار تھا کہ یہ افغانستان کی سرحد سے ملتا فوجی ٹاون سنی جنگجوؤں کی وجہ سے خون میں نہایا۔ جولائی دو ہزار تین میں بھی اسی طرح کے سنی مذہی دشت پسندوں نے ایک شعیہ مسجد پرحد سے ذیادہ مہلک حملہ کیا تھا جن میں مشین گنوں اور گرنیڈ استعمال ہوئے۔ مسجد میں کوئی دو ہزار نمازی تھے۔ پہلے تین مسلحہ آدمیوں نےمشین گنوں چلانی شروع کردئیں اور ان میں سے دو نےگرنیڈ کی حفاظتی پین نکال دیں جس میں ان کےساتھ پچپن آدمی ہلاک ہوئے۔ یہ پہلی دفعہ تھا کےاس قسم کےحلمہ میں خود کش استعمال ہوئےتھے۔اس سے پہلےجون میں ہزارہ کمیونٹی کے تیرہ شیعہ جو پولس ٹرینگ میں تھے قتل کردیئے گے۔ یہ تشدد کراچی اور صوبہ پنجاب کے کچھ حصوں تک پھیلا ،جس کی وجہ اسے ٢٠٠٤ میں تین سو پچاس لوگ مرے۔
کوئٹہ میں مارچ دو کی واردات ہ اُسی وقت ہوئی جب عراق کے شہروں کربلا اور بغداد میں شیعہ کےجلوس میں بم پھٹا اور دو سوسےذیادہ لوگ مرے۔ اگرچہ ان دونوں کے درمیان کوئی تعلق نہیں ثابت کیا جاسکا مگر بین الاقومی سطع پرمختلف جگہوں پر یکے بعد دیگرے ایساہونا ظاہرہوتا ہے۔ مرتکب کا دنیاوی نظریہ اورحرکیات میں مشہبت تھی۔ نائن الیوین سے پہلےپاکستانی فرقہ پرست اور اور بیرونی جہادیوں کے مقاصد ایک دوسرے سے نزدیک دیکھائی دیتے تھے۔ وہ ایک طرف تو اندرونی فرقہ پرست جہادی تھے اور بیرونی طور پر بھی جہاد کررہے تھے خاص طور پر پر مغرب کے خلاف۔
پاکستانی کی اندرونی سیکیوریٹی کومذہبی فرقہ پرستی سے سب سے بڑا خطرہ تھا۔ فرقہ پرست دہشت پسندگروہ جو کہ دشت پسندی کا منبع تھے وہ اور سنی جماعت جو اسلا می حکومت کو لانے کی حامی بھی اب گھڈمڈہوچکی تھی۔اور غیرسنی کو ان کے کٹے پن سےخطرہ لاحق تھا۔
کوئٹہ اور ملک کے دوسرے میں قتل و غارت اس بات کی گواہی دیتا تھا کے مذہبی دہشت پسند نہ صرف فعل ہیں بلکہ ان کا زور اور بڑھ گیا ہے۔ فرقہ پرستی میں اضافہ نےجنرل مشرف کی اسلامی دہشت پسندی کےخلاف کوشش کے مطالق شبہات پیدا کردیئے۔ یہ سمجھنامشکل تھا کی پاکستان القاعدہ کے کچھ خاص ممبروں کو گرفتار کرنے میں تو کامیاب ہے لیکن اسلامی دہشت پسندوں کےخلاف کاروائی کرنےمیں کیوں کامیاب نہیں۔
حکومت کے اعلان کے باوجود مسلح اسلامی دہشت پسند فعل تھے۔ حکومت اس بدعلمی کو خاموشی سےدیکھتی رہی مسلح اسلامی دہشت پسند نےقتل و غارت اور بلوا فساد جاری رکھا۔ پاکستان کا بڑا شہراور تجارت کا اڈہ ، کراچی اور صوبہ پنجاب کے شہر فرقہ پرست بلووں کے عادی تھے مگر اب یہ بلاوے فساد دوسرے شہروں میں بھی پھیل گئے۔ کوئٹہ جہاں پہلے ایسا نہیں ہوا کرتا تھا اب فرقہ پرستی کی زد میں تھا۔
فوجی حکومت کا حنفی قوانیں کی جانب داری پر ردوعمل سخت تھا۔ انیس سو اُننّتر تک پاکستان کےشیعہ غیرمذہبی سیاسی پارٹیوں کو سپورٹ کرتے تھے۔ لیکن جنرل ضیا کی حکومت کو اسلامی بنانے کی مہم اور ایران میں انقلاب آنے کی وجہ سےشیعہ اپنے سیاسی حقوق کے لیے بےدار ہونے لگے۔ ایران کےاسلامی انقلاب نے دنیا میں ہرجگہ شیعوں کو بیدار کردیا۔ زاروں شیعہ انیس سو اسی میں سنی اکثیریت کےخلاف احتجاج کرنے کے لیے اسلام آباد میں جمع ہوئے۔ اور یہ ہی زمانہ ہے جب تخریک نِفاسِ فق جافریہ ( ٹی۔این۔ایف۔جے) ( شیعہ فقہ کو نافذ کرنے کی تحریک ) بنی۔ اور یہ شیعوں کی سیاسی بیداری کا اظہار تھا۔ ایران دنیا میں ایک ہی شیعہ ملک تھا لہذا وہ پاکستانی شیعوں کے لیےایک مشعل بن گیا۔ پاکستان کی فوجی حکومت نے اسے ایران کی پاکستان کے معاملامت میں دخل اندازی سمجھا۔
گورنمنٹ کی ڈالی ہوئی دراڑئیں بھرنا ناممکن ہے۔ شعیوں کےنظریات انقلات کےبعد جنگجوفرقہ پرست شیعہ تنظیمیں بنیں۔ آتشی حق نواز جھنگوی نےانیس سو پچاسی میں سپاہِ صاحبہ پاکستان ( ایس۔ایس۔پی ) بنائی۔
منظم جنگجوفرقہ پرستی کی شروعات جنوبی پنجاب کے شہر صوبہ جھنگ سے ہوئی۔ اور سپاہِ صاحبہ کا پھیلاؤ سماجی اور اقتصادی بنیاد پرہوا۔ جاگیردار شیعائی فرقہ سےتعلق رکھتے تھے۔ بازار اور تاجروں کےجاگیردارنہ شیعائی فرقہ کے خلاف سنی جنگجوگروہ کی طرف داری کی۔ سعودیہ عربیہ، دوسرے عرب ممالک کی طرف سےمالی امداد اور حکومت کی منظوری ضمنی نےاس تنظیم کوسارے ملک میں پھیلنے میں مدد دی۔ اس میں ایک طالب علم حصہ ، ایک ویلفیرٹرسٹ اور بےشمار مقامی آفس تھے۔ سپاہِ صاحبہ ایک سیاسی جماعت بھی تھی اور پنجاب میں پابندی کےساتھ الیکشن میں بھی حصہ کے رہی تھی۔ ایک ملین سے ذیادہ رجسٹرڈ ارکین نے سپاہِ صاحبہ کو ایک مربوط ، منظم اور مضبوط اسلامی گروہ بنادیا۔
سپاہِ صاحبہ میں شامل ہونے والےشروع میں ایل حدیث اور دیوبندی مدرسوں سے آئے جو سویٹ یونین کےخلاف جہاد میں شریک تھے۔ لیکن بعد میں سپاہِ صاحبہ نے کراچی اور پنجاب میں اپنے مدرسے کھول لئے۔ اس کےمالی امداد غریبوں، متواسط طبقے اور مشرق وسطہ میں رہنے والوں سے آئی۔
پاکستان میں اس فرقہ پرستی کو بیرونی طاقتوں نے بھڑکایا۔ ایرانی انقلاب کی وجہ سےتمام مسلم ممالک میں کھلبلی مچ گئی۔ اس شتعہ انقلاب نےعرب ملکوں کےحکمراں اور پاکستانی فوجی حکومت جو کے ایک دوسرے اسلامی نظام کو اپنا رہی تھی کو پریشان کردیا۔ ایران عراق جنگ کےدوران سنی عرب ملک اور شیعہ ایران کے درمیان عدوات بڑھ گئی۔ عربوں کا پیسہ ایران کی انقلابی حکومت کےخلاف بٹنے لگا۔ اور پاکستان اس عداوت کا اکھاڑہ بن گیا۔ ایران اور سعودی عربیہ نےاپنے اپنے طرفداروں کی امداد کرنی شروع کردی۔ سعودی حکومت نے پاکستان میں دیوبندی شاخ کی ہمیشہ مالی امداد کی۔ دیو بندانوں کا اسلام وہابیوں سےملتا جلتا ہے۔ وہ مدرسے جن کی سعودیہ عربیہ ، کویت اوردوسرے عرب ممالک نےافغانستان میں سویت یونین کے خلاف سرپرستی کی تھی اب تو سنی جنگجو کےادارے بن گئے اور یہاں سے فرقہ پرست جماعت کے لیے رضا کار بھرتی کیے جانے لگے۔
دیوبندی اور اہل حدیث ملاؤں نےشیعوں کےخلاف محاذ قائم کرلیے۔اُنیس سو اسی سے پاکستانی اور ایرانی انٹیلیجس ایجینسی اس عوضی جنگ میں شرکت کررہی تھیں ۔ بیرونی ملکوں کی مدد سے مذہبی دشت گری کی وجہ سے ظلم میں اضافہ ہوا۔ افغان کی جنگ کے متعصب جہادیوں نے اب پاکستان میں شیعوں کے خلاف جہاد شروع کردیا۔ ان کے پاس اعلیٰ ہھتیار تھے اور انہوں نےشیعہ لیڈر اور ان کی مسجدوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔
اگرچہ شیعہ سنی میں تفریق سپاہِ صحابہ کے وجود میں آنے سے پہلے سے تھی مگراس کے وجود میں آنے کے بعد اور لاہور میں اُنیس سو چھیاسی کے ہنگاموں کےبعد اس کا پھیلاؤ تیزی سے ہوا۔ بعد ازاں دو حادثات نےاس تفریق کےخم و پیچ بدل دیئے۔ اُنیس سوستاسی میں ایک سنی مُلا علامہ احسن الہی ظہیر جیسےسعودی عربیہ کی حمایت حاصل تھی ایک بم کے دھماکے میں ماراگیا۔ اُنیس سواٹھاسی میں عارف حسین ایک شیعہ لیڈر قتل کا پشاور میں ہوا۔ اسنےایران میں وقت گزارہ تھا اور شبہ کیا جاتا تھا کے اس کا ایران کی اسلامی حکومت سے رابط تھا۔ قاتل ایک آرمی آفیسرماجدگیلانی تھا۔ اس کی وجہ سے پاکستان آئی ایس آئی پر اس قتل کا شبہ پیدا کیا۔
ظلم اور تشدد میں اور بھی اضافہ ہوا جب انیس سو نوے میں سپاہِ صحابہ کی بنیاد رکھنے والا حق نواز جھنگوی کا قتل ہوا۔ اس کا شبہ شیعہ دشت گیروں پر ہوا۔ جھنگ سے فرقہ وارانہ جنگیں شروع ہوئیں اور صوبے کے دوسرے حصوں میں پھیل گئیں۔ سپاہِ صحابہ کے حمایتوں نے ان شیعہ گروہ کو جن کو ایران کی سرپرستی حاصل تھی حق نواز جھگنوی کے قیل کا ذمدار ٹھرایا اور سپاہِ صحابہ کے پانچ سے چھ ہزار ملٹری ٹرینگ یافتہ جنگجووں نے قتل و غارت پھیلائی۔
سپاہِ صحابہ نےجھنگوی کے قتل کا الزام ایران کے زیراثرجنگجو شیعوں پر لگایا۔ اس سال کے دسمبر میں سنیوں جھنگوی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیےلاہور میں ایران کے کونسل جنرل صدیق کوقتل کردیا۔ اس سانحہ نےدنیا کی توجہ اس فرقہ پرست حملوں کی طرف دلوائی۔ ١ُنیس سو چورانوے میں یہ حملے اپنی انتہا کو پہونچ گئے۔ وہ سال سب سے ذیادہ خونریز تھا۔ فرقہ پرست حملوں میں چُہتر لوگ مرے ۔ ذیادہ ترحملے شیعوں کی مذہبی اجتمامع پر کئےگئے۔ بہت سی پولس ان چنے ہوئےحملوں میں مری۔ انتہا پسند سنیوں نے ہر وہ چیز جو ایران سے متعلق تھی پرحملہ کیا۔ انیس سوستانوے میں ایران کا ایک کلچر سینٹر جلادیا گیا۔ کچھ دنوں بعد ملتان میں ایک ایرانی سفارت خانے کے ممبر اور اسکے ساتھ اور بھی سات لوگوں کو قتل کردیا گیا۔ راولپنڈی کےحملےمیں پانچ ایرانی ائر فورس کے افراد قتل کردیئے گے۔ ان کے جواب میں شیعہ انتہا پسندوں نے لاہور ہائی کورٹ پرحملہ کرکے سپاہِ صحابہ کے نئے لیڈر ضیا الرحمان کا قتل کیا۔
اُنیس سو چھیانوے میں ایل۔ای۔جے کے بنے کے بعد فرقہ پرست ظلم اور تشدد میں مزید اضافہ ہوا۔ ریاض بصرہ نے یہ گروہ سپاہِ صحابہ ہی علیحدگی اختیار کرکے بنایا۔ اس گروہ کا مقصد ظلم و تشدد کو استعمال کرکے حکومت پر یہ دباؤ ڈالنا تھا کہ وہ شیعوں کو غیرمسلم قرار کردے اور ملک میں ایک قدامت پسند سنی اسلامی نظام قائم کردے۔ ریاض بصرہ پنجاب کے ایک شہرسرگودھا میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ افغانستان میں میں سویٹ یونین کے خلاف جہاد شروع کرنے سے پہلے اس نے اپنی پرائمری تعلیم لاہور کے ایک مدرسہ میں حاصل کی۔ لڑائی میں مجروح ہونے کے وجہ سے وہ پاکستان واپس آگیا اور اُنیس سو چھیاسی میں سپاہِ صحابہ میں شامل ہوگیا۔ ایک آتشی خطیب ، ریاض بصرہ نےسپاہِ صحابہ میں تیزی سے ترقی کی ۔ اُنیس سواٹھاسی میں میں وہ سپاہِ صحابہ کی پروپیگنڈا جماعت کا سربراہ بن گیا۔ اس سال اس نے صوبہ پنجاب کی اسمبلی میں ایلیکشن لڑا۔
اُنیس سو چورانوے میں صادق گنجی کے قتل کےالزام میں ریاض بصرہ کی گرفتاری سےاس کوایک خطرناک تشدد پسند بدنمائی ہوئی۔ انٹی ٹیرریزم کورٹ میں مقدقہ کےدوران وہ دلیرانہ انداز میں فرار ہوا اور بعد میں افغانستان بھاگ گیا۔ لیکن اس کا پاکستان آنا جانا رہا۔ اور وہ تشدد کےحملوں کو فروغ دیتا رہا۔ ایل۔ای۔جےاپنےآغاز سے ہی خطرناک دشت پسند گروہ تھا ۔ اگرچہ اس کے ممبروں کی تعداد پانچ سو سےذیادہ نہیں تھی مگر یہ گروپ نے دس سالوں میں سب سے ذیادہ قتل و غارت پھیلائی تھی۔ دو ہزار ایک تک یہ گروپ دہشت پسندی کے تین سو پچاس واردات میں شامل تھا۔
جاری ۔۔۔
مرسلہ: اتوار ستمبر 14, 2008 4:00 pm
تفسیراحمد
منتظم اعلی
شمولیت: 24 فروری 2007 خطوط: 3859
ایل۔ای۔جے کےذیادہ تر ممبر بے روزگار تھے اور وہ جنوبی پنجاب گاوؤں کے دیوبندی مدرسوں سے آئے۔ لیکن ایس گروپ کےخفیہ اور متحرک نظام نےاس گروپ کو مہلک بنادیا تھا۔ یہ گروپ شہرت پسند نہیں تھا اور حفیہ اور میڈیا سے دور رہنے کی کوشش کرتا رہا۔اُن کا بیرونی دنیا سے صرف فیکسس کے ڈریعہ تھا جو وہ کھبی کبھار نیوز پیر کو بھیج دیتے تھے۔ ان کے پروپیگنڈا کا دوسرا ذریعہ ایک پبلیکیشن “ انتقام الحق“ تھی ۔ ایل۔ای۔جے چھوٹے گروہ میں تقسیم تھی اور یہ گروہ ہر عمل کے بعد توڑر دیے جاتے تھے۔اس وجہ سے پولس کا ایل۔ای۔جے کو ختم کرنا مشکل تھا۔ ان ممبروں کو اس بات کی تربیت دی گئی تھی کہ وہ سکیوریٹی فورس سے پکڑے جانے سے بچنے کے لیے اپنی جان لے لیں ۔
“ شہید ہونا ہر مجاہد کا فرض ہے“۔ اس جماعت کی ایک گائیڈ لائن میں لکھا تھا۔ “ یہ اللہ کا تحفہ ہے اور دشمن کو بتائے گا کہ مجاہد اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے اپنی جان قربان کرسکتا ہے“۔
دشت گردی مشن پر بھیجنے سے پہلے ہر ممبر کو اس جماعت کے اعتقاد سے متعلق تربیت دی جاتی تھی۔ اس کو اپنی فیمیلی سے بات چیت یا ان کو اپنے اتے پتے سے مخبر رکھنا یا جماعت سے متعلق کوئی بھی بات بتانا منع تھا۔
“ ہمارا رشتہ صرف خدا سے ہے اور جو کچھ ہم کرتے ہیں وہ خدا کے لیے ہے۔ تمام دوسرے رشتے بے معنی ہیں۔ اس لئے دوست مت بناؤ اور رشتہ داروں سے دور رہو“۔ پولس کا کہنا ہے کہ جو لوگ مرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں ان سے کوئی بات اگلوانا بہت مشکل ہے۔
افغانستان میں بصرہ طالبان کا اڈا بن گیا۔ اس کا اثر و رسوخ متنازع ملک میں پھیل گیا۔ طالبان کے افغانستان میں ابھار سے سنی گرو کو تقوت ہوئی۔ اور پاکستان کو طالبانی بنانے کا روز بڑھنے لگا۔“ کابل کے بعد اسلام آباد‘ ، طالبان طالبان“ ملاؤں نے نعرہ لگایا۔ یہ مئ 1994 طالبان کے قندھار پر قبضہ کے بعد میں لاہور ہائی کورٹ کے سامنےجمع ہوئے تھے۔ وہ دو کرسچن کے خلاف مقدمہ سننے آئے تھے۔ ان کرسچن پر اللہ اور اس کے رسول کے خلاف بے ہودہ الفاظ استعمال کرنے کا الزام تھا۔
“ طالبان سامنے آّو پاکستان میں اسلام کی حفاظت کرو“۔
ان نعروں کی وجہ طالبان کی افغانستاں میں کامیابیاں تھیں۔ کچھ پاکستانی جنگجووں نے طالبانی شریعہ پر منحصر سسٹم کو صوبہ سرحد کے سرحدی علاقوں میں اپنانے کی کوشش کی۔
طالبان نے پاکستانی فرقہ پرستوں کو ڈرگ کی تجارت کرنے والوں سے متعارف کروایا۔ اس باہم مفاد کی حرکات نے “ جرائم کو اسلامی “ قرار دینا شروع کیا۔ افغانستاں اب پاکستانی ھجہادی اور انتہا پسنوں کے لیے جنت بن گیا۔
مرسلہ: بدھ ستمبر 17, 2008 7:58 pm
گزشتہ پیغامات دیکھئیے: تمام پيغامات 1 دن 7 دن 2 ہفتے 1 ماہ 3 ماہ 6 ماہ 1 سال ترتیب: خط کا وقت خط کا عنوان مصنف صعودی نزولی