دانش کدہ صفحہ اول دانش کدہ
 یہ دانش کدہ ہے اور دنیا کے تمام مسائل کا حل تعلیم ہے۔ 
 آپ کے سوالاتآپ کے سوالات   تلاشتلاش   فہرستِ ارکانفہرستِ ارکان   ارکان کے گروپارکان کے گروپ 
 پرائیوٹ فورمپرائیوٹ فورم   لاگ اِنلاگ اِن 
موجودہ وقت بدھ ستمبر 08, 2010 11:14 pm ہے
تمام اوقات UTC + 1 (DST in action)
ان پڑھے پیغامات
جن خطوط کے جوابات نہیں دئیے گئے
دانشکدہ ماہانہ
فلسفہ
تاریغ
ادب
سائینس
ٹیکنالوجی
سیاست
انجمنِ شعروسخن
لسانیات
بزم اطفال
مفت کی برقی کتابیں
ڈیجیٹل اردو لائبریری
گفتگو کا فورم
ویبسٹرُ اللغات اُردو

 پورٹل » فورم کا صفحہِ اول » دانشکدہِ تفسیر » اردو نثر » ناول
بارونی - ایک جاسوسی ناول
ناظمین: تفسیراحمد
نیا موضوع بھیجئیے   موضوع کا جواب دیجئیے گزشتہ موضوع دیکھئیےاگلا موضوع دیکھئیے
صفحہ 2 مِن 2 [28 پیغامات]   صحفے پر جائيں: پيچھے 1, 2
مصنف پیغام
تفسیراحمد
منتظم اعلی

شمولیت: 24 فروری 2007
خطوط: 3859

    بارونی نے اس کو بتایا کے کیا کرنا ہے۔
    “ بارونی تم کو پتا ہے کے میں چغل خور نہیں ہوں“۔
    “ میں تم سے کسی چغلی لگانے کا نہیں کہہ رہا“۔
    “ پھر کیا!“ وہ شکی آدمی تھا۔
    “ تم سارجنٹ پیری کوجانتے ہو“۔
    “وہ سارجنٹ جو کالچ کا لڑکا لگتا ہے اور اپنے آپ کو پتا نہیں کیا سمجھتا ہے“۔
    “ ہاں۔ وہ ہی“۔
    “ اس نےسب کو پریشان کررکھا ہے“
    “ بارونی نےسر ہلایا۔ “ میں چاہتا ہوں کے تم اس کو چار یا پانچ بجے کال کرو۔ اس نے کہو کے تمہارے پاس زاکوس کے قتل سے متعلق کچھ انفارمیشن ہیں۔ اور تم صرف اس ہی کو دے سکتے ہو“۔
    “ تم مذاق کر رہے ہو۔
    “ نہیں“۔
    “ وہ یقین کرلے گا“۔
    “ وہ انفارمیشن کے لیے ترس رہا ہے“۔
    “ وہ میرا نام جاننا چاہے گا“۔
    “تم چھوٹا بنا سکتے ہو“۔
    “وہ مجھ سے ملنا چاہئے گا“ہویل نے کہا۔“ تم اس ایک خاص وقت مصروف رکھنا چاہتے ہو“۔
    “ہاں“۔
    “ تو میں یہ ملنے کا وقت کہاں ہو معین کروں؟“۔
    “ ھلینِک ویسٹ ویلیج کے لیے فری وے سے نکلنے کے پر ایک گیس اسٹیشن ہے۔ وہاں پر“۔
    “ وہ تو پاپاس کے گھر کا راستہ ہے!“
    “ وہ اس جھوٹ کو مکمل کرنے کا آسان طریقہ ہے“۔
    “ مگر پاپاس۔۔۔بارونی وہ مجھے جان سے مروا دے گا“۔
    “ تم وہاں سے میلوں دور ہوگے“۔
    ہوئل نے تھوڑی دیرسوچا۔“ اگر وہ ویاں میرا انتظار کرتا ہے تو وہ وہاں ذیادہ دیر تک نہیں ۔ کیا یہ وقفہ تمہارے لیے کافی ہے“۔
    “ وہ کرے گا۔ تم اس سے کہنا کے تم کو کسی وجہ سے دیر ہورہی ہے“۔ بارونی کہا۔اس نے کہنا کے تم آج رات چھ اور بارہ بجے کے دوران وہاں ملو گے۔


خطمرسلہ: پير جون 30, 2008 8:04 pm
  رکن کی پروفائل دیکھئیے ذاتی پیغام بھیجئیے ای میل بھیجی جاتی ہے    واپس اوپر 
تفسیراحمد
منتظم اعلی

شمولیت: 24 فروری 2007
خطوط: 3859

    “ وہ ا سکا بالکل یقین نہیں کرے گا۔
    “ وہ کرے گا۔ وہ اس وقت پیاسا ہے اور اگر کوئی اسے بڑی لالچ دے گا وہ ضرور آئےگا۔ اس کو کاغذات، ریکارڈ اور کھاتے کی لالچ دو“۔ بارونی بولا۔
    “ اور میرا ایسا کرنے کا کیا مقصد دوں“۔ ہویل نے کہا۔
    “ کہنا زاکوس مارا گیا۔ اور تم کو شبہ ہے کے اب تمہارا نمبر ہے ۔ اور وہ پولس سےحفاظت کے خواہش مند ہو“۔
    “ تم واقعی سمجھتے ہو کے وہ اس اسے صحیح سمجھےگا“۔
    “ بالکل“
    ہوئل سوچنے لگا۔ اور تھوڑئی دیر سوچنے کے بعد اس نے کہا۔ “ اوکے بارونی میں اس کو پانچ بجے کے قریب کال کرتا ہوں“۔
    --------------
    بارونی اور پیری اسکواڈ روم میں تھے جب چار چالیس پر کال آئی ۔ بارونی اپنی روزانہ کی رپورٹ ٹائپ کرتا رہا اور وہ کبھی کبھی پیری کی طرف دیکھ لیتا۔ وہ اس کی باتیں تو سن نہیں سکتا تھا۔ مگر پیری کے چہرے سے پتہ چلتا تھا کہ وہ جال میں پھنس گیا ہے۔
    جب پیری نے فون رکھا تو اس کا ذہن تیزی سے چل رہا تھا اس کا ارداہ بارونی کا پیچھا کرنے کا تھا۔ مگر اس نئی اطلاع نے اس کا پروگرام بدل دیا تھا۔ بھاڑ میں جائیں ٹیٹ اور ہاولی، یہ موقع وہ سنہرا موقع تھا جیسےاس کا انتظار تھا۔ اسےاس انفارمر کے متعلق کوئی علم نہیں تھا۔ لیکن اگر اس کے پاس وہ دستاویز ہیں جس کا اس نے ذکر کیا ہے۔ تو وہ لفٹننٹ ٹیٹ کو پاس کرکے چیف کے پاس جائے گا اور کہےگا کہ اس جان جوکہم کا کام اس نے اکیلے ہی حل کردیا۔اور پھر چیف اس کی تعریف کرے گا اوراس کو لفٹننٹ بنادے گا۔


خطمرسلہ: پير جون 30, 2008 8:10 pm
  رکن کی پروفائل دیکھئیے ذاتی پیغام بھیجئیے ای میل بھیجی جاتی ہے    واپس اوپر 
تفسیراحمد
منتظم اعلی

شمولیت: 24 فروری 2007
خطوط: 3859

    پانچ بجے اس نےاپنی بیوی کو کال کیا اور اس کے کہا کے وہ رات دیر تک کام کرے گا۔ اور جب وہ غصہ ہونے لگی اس نےفون ڈسکنکٹ کردیا۔

    آٹھ بجے بارونی ہاولی کی بلڈنگ کے سامنے ایک اندھیری جگہ کھڑا تھا۔ یہاں سے وہ ہالولی کا اپارٹمنٹ دیکھ سکتا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کے ہالولی جلد ہی کوئی غلطی کرے کیونکہ اب پیری اس کو نگرانی میں رکھنا چاہ رہا ہے اور پتہ نہیں ہائل اس کو کتنے دنوں مصروف رکھے گا!
    سڑک پر ٹرافک ہلکا تھا۔ لیکن لوگ چل پھر رہے تھے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی ہالولی کی بلڈنگ کے پاس رُکتا تھا۔
    اچانک ہالولی کے لیونگ روم کی لائٹ بند ہوئی۔ بارونی نے سوچا، یا تو وہ سونے جارہا تھا یا باہرجانے کی تیاری کررہا تھا۔ ہاولی اتنی جلد نہیں سوتا تھا۔ اور مسسز ہاولی کی وفات کو بھی ایک عرصہ ہو چکا تھا۔اگر ہاولی کی کوئی داشتہ تھی جو اب تک ہاولی سےدور رہی تاکہ پولس شبہ نہ کرے شاید ہالولی اب اس سے ملنے کو تیار ہے۔
    چند منٹوں کے بعد اپارٹمنٹ بلڈنگ کا دروازہ کھلا اور ہاولی باہر آیا۔ وہ جلدی میں نہیں تھا۔ لیکن وہ آج اس نے اچھے کپڑے پہن رکھے تھے۔
    بارونی نے اس کو جنوبی طرف کی بڑی سڑک کے پاس جاتے دیکھا۔ اس نے ہالولی کا پیچھا کرنا شروع کردیا اور اپنے آپ کو سایہ میں رکھا۔ اس دفعہ وہ نہیں چاہتا تھا کے ہاولی کو پتہ چلے کے وہ اس کا تعاقب کررہا ہے۔
    سڑک پرسوائے بارونی اور ہالولی کے ذیادہ ترجوڑے تھا۔ یہاں تک کے جب وہ شاہراہ پر پہنچ کر مشرق کی طرف مڑے وہ ان دونوں کے علاوہ سب جوڑے تھے۔ اگر ہالولی کو کسی سے ملنا تھا وہ کہیں بھی نظر نہیں آرہی تھی۔ اب وہ لوگ ایسی جگہ سے گزر رہے تھے جہاں سڑک کے دونوں طرف بار اور بال روم تھے۔ ہالولی ایک کے سامنے رُک گیا ۔ کیا یہ جگہ تھی جہاں وہ کسی سے ملے گا؟
    بارونی سایہ میں ٹھہر گیا۔ اس نےسڑک کراس کرلی تھی اور وہ جنوبی طرف تھا۔


خطمرسلہ: پير جون 30, 2008 8:12 pm
  رکن کی پروفائل دیکھئیے ذاتی پیغام بھیجئیے ای میل بھیجی جاتی ہے    واپس اوپر 
تفسیراحمد
منتظم اعلی

شمولیت: 24 فروری 2007
خطوط: 3859

    بارونی نےسوچا کے شاید ہاولی یہاں ہی آنا چاہتا تھا اور وہ اپنے ملنے کے لیے آنے والی کا انتظار کر رہا ہے۔ مگر ہالولی نے بار کا دروزہ کھولا اور اندر داخل ہوگیا۔بارونی کچھ وقفہ دے کر بار میں داخل ہوگیا۔ بار، عورتوں اور مردوں سے بھرا تھا۔ ہالولی اس بھیڑ میں گم ہوگیا۔ چمکدار جلتی بجتی لائٹوں نے کی وجہ سے وہ کچھ دیر دیکھ نہ سکا۔ اس کے علاوہ کمرہ سگریٹ کےدھواں سے بھی بھرا تھا۔ جب اس کی آنکھیں اس چمکدار جلتی بجتی لائٹوں کی عادی ہوئیں تب اس نےدیکھا کے یہ بار ان ہی باروں کی طرح تھا جو اس نے پہلے دیکھ رکھے تھے۔ چھوٹی میزیں جن کے اردگرد لوگ جمع تھے۔ الکحل کی قیمت بہت ذیادہ، ویڑیس بدتمیز اور ایک چھوٹا ڈانس فلور، ناچنے والوں سے بھرا۔ ننگی ناچنے والی لڑکیاں ۔۔۔ جنہیں دیکھ کر ادھیڑ عمر کے لوگ ان کی پینٹیوں میں نوٹ لگا رہے تھے۔
    بارونی نےسوچا شاید ہالولی بھی ان میں سے ایک ہوگا۔ مگر پھر اس نے ہالولی کو ایک چھوٹی میز کےگرد دیکھا۔ جہاں وہ تین کم عمر کی لڑکیوں کے درمیان بیٹھا تھا۔ لیکن ہالولی ان پر توجہ نہیں دے رہا تھا۔ وہ ان کی موجودگی میں شرمندہ لگ رہا تھا۔
    بارونی اپنی جگہ موجود رہا۔ یہ چگہ ایسی نہیں تھی جہاں ہالولی بڑی عمر کی عورت سے مل سکتا۔
    تھوڑا عرصہ گزرا کے دو نوجوان لڑکے اس کی میز کی طرف بڑھے۔ انہوں نے بال عجیب انداز میں سنوارے ہوئے تھے۔ اور انکے سوئٹر ملے تھے۔ ان لڑکیوں سے تلخ زبانی کرنے لگے۔ ایک لڑکے کے ایک لڑکی کو مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا ۔ لڑکی ہ بچنے کے لیے ہالولی کی طرف جھکی اور اس کی گود میں ہاتھ رکھ دیا۔ لڑکے کے ہاولی کی طرف دیکھا اور اسے لڑنے کے لیے لپکا۔ باورنی نے بلا سوچے سمجھے ہاولی تک پہونچنے کی کوشش کی مگر اس کے راستے میں کافی لوگ تھے۔
    اس وقت تک ہاولی کھڑا ہوچکا تھا اور لڑکے کوسمجھانے کی کوشش کررہا تھا۔ اچانک کہیں سے ایک قوی ہیکل آدمی نمودار ہوا اور لڑکے کوگردن سے پکڑ لےگیا۔ کچھ دیر بعد تین اور لڑکے آئے اور لڑکیاں ان کے ساتھ ڈانس فلور پر چلی گئیں۔ ہاولی کچھ دیر اکیلا بیٹھا اور وہ بار کے باہر چلا گیا۔
    بارونی کچھ وقفہ دے کر بار سے باہر نکل آیا۔ اس نے ہاولی کو فٹ پاتھ پر چلتا دیکھا۔ وہ واپس گھر جارہا تھا


خطمرسلہ: پير جون 30, 2008 8:16 pm
  رکن کی پروفائل دیکھئیے ذاتی پیغام بھیجئیے ای میل بھیجی جاتی ہے    واپس اوپر 
تفسیراحمد
منتظم اعلی

شمولیت: 24 فروری 2007
خطوط: 3859
    باب نمبر9



    “ بارونی “ ! اس کا نام لُو بارونی ہے!“
    پاپا پاپس بول رہا تھا۔ اگرچہ اس کا بیٹا نکی اپنے والد کو نظر انداز کررہا تھا۔ مگرپاپا پاپس حقیقت میں چلّارہا تھا۔ وہ پاپا پاس کےعالیٰ شان محل کے برآمدے میں دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے۔
    یہ ایک خوبصورت دن تھا۔ شہر کی زہرد آلود ہوا ابھی ہیلینک ویسٹ ویلیج تک نہیں پہونچی تھی۔ آسمان گہرا نیلا تھا
    نکی نے موسم کی مناسبت سےسوٹ پہن رکھا تھا اور اس کا موڈ خوشگوار تھا۔ مگر اس کے پاپا کا موڈ خراب تھا۔
    “پاپا، آپ خواہ ماخوہ پریشان ہورہے ہیں“۔ نکی نےمزے سے کافی کی چسکی لتے ہوئے کہا۔
    “ پریشان ہوں تو اسکی وجہ ہے ۔ زاکوس کےقتل ہوئےہفتوں گزرگئے اور کیس ابھی تک پولس کی لسٹ پرنمبر ون ہے“۔
    “ یہ ہی تو وجہ ہے کہ میں بالکل پریشان نہیں ہوں ۔ اگر ان کے پاس کو ثبوت ملتا تو اب تک مل گیا ہوتا“ ۔ نکی نے ہنس کر کہا۔
    پاپا پاس کھڑا ہوگیا اور اس نے اپنے ہاتھ سامنے ٹیبل پر رکھے اور غصہ میں چلایا۔“ تم بار بار بارونی کونظرانداز کرتےہو اور کالے بلیو والی کو بھول جاتے ہو“۔
    “ میں نے آپ سے کہا تھا کہ ان دونوں کا کیا علاج ہے“۔ نکی کی مسکراہٹ قائم رہی۔
    “ پھرسے بتاؤ“۔
    نکی نے ہر لفظ پر اس طرح زور دیتے ہوئے کہا جیسے بچے کو سمجھاتے ہیں۔ “ صرف ایک بے وقوف کو پتہ ہے کہ اسپیرو جاکوز کو کس نےمارا۔۔۔والی بلیو۔۔۔ اور صرف ایک شخص ہے جس کو وہ بتاسکتا ہے۔۔۔بارونی ۔۔۔ اس لیے ہم کو ان دونوں کا تختہ صاف کردینا چاہیے“۔
    “ نہیں ۔۔۔اٹلی کےمافیا کی طرح بات کرنا ختم کرو۔ ہمارے لیے قتل و غارت کے دن ختم ہوگئے“۔



خطمرسلہ: اتوار جولائی 27, 2008 1:51 am
  رکن کی پروفائل دیکھئیے ذاتی پیغام بھیجئیے ای میل بھیجی جاتی ہے    واپس اوپر 
تفسیراحمد
منتظم اعلی

شمولیت: 24 فروری 2007
خطوط: 3859

    نکی کے جانے کے بعد پا پا کا موڈ اداس ہوگیا۔ ڈیمیٹری خاموش رہا۔
    “ ڈیمیٹری کیا یہ ضروری ہے کہ ہم قتل کے کانٹریکٹ جاری کریں “۔
    “ نکی آپ کا اکلوتاہے ۔ اس کی حفاظت ضروری ہے“۔
    پاپا نے ایک ٹھنڈی سانس لی۔ اس کی نگاہیں سوئمینگ پول پر سےگزرتی ماربل کےصحن، لان اور جھیل پرمرکوز تھیں۔ یہ سب کتنا پرسکون اور خوبصورت تھا۔ اُس نے اپنے آخری وقت کے لیے ایسا ہی سوچا تھا ۔
    “ ہم انتظار کریں گے اگر وہ نکی تک پہونچے“۔ اس کا مطلب بارونی اور پولس سے تھا۔“تو ہم ایسا حکم جاری کردیں گے“۔
    نکی پاپاس میں اپنے باپ کی طرح صبر کا مادہ نہیں تھا۔ جب وہ اپنے گھر پہنچا اسنے ایک ایسے قاتل کرنے والے کو کال کیاجو پاپا کی حدود سے باہر تھا۔ لیکن وہ شخص ایک دوسرے اسائنمنٹ میں مصروف تھا اور اس کے اپنے اسائنمنٹ کے ختم ہونے کے بعد آنے کا وعدہ کیا۔ لیکن اس کو ہوائی جہاز کا سفر پسند نہیں تھا اور وہ ریل کے لیے ذریعہ کیلی فورنیا آئے گا۔

    اس شام ایک دوسری خاص بات پتہ چلی۔ ڈیمیٹری گھر کے سودا سلف کی اشیاء خرید کر واپس آرہا تھا کہ اس نےاسٹیو پیری کو ہیلےنیک ویسٹ ویلیج کے داخلے کے قریب ایک کار میں بیٹھا دیکھا۔

    دوسری صبح جنوبی کیلی فورنیا میں موسم آبرالود تھا۔
    دوپہر میں بارش شروع ہوگئی۔ پہلے یہ صرف بوندا باندی تھی۔ لیکن جلد ہی یہ شدید بارس میں تبدیل ہوگئی۔



خطمرسلہ: اتوار جولائی 27, 2008 1:57 am
  رکن کی پروفائل دیکھئیے ذاتی پیغام بھیجئیے ای میل بھیجی جاتی ہے    واپس اوپر 
تفسیراحمد
منتظم اعلی

شمولیت: 24 فروری 2007
خطوط: 3859

    بارونی نے اپنی گاڑی ہاولی کے بس اسٹاپ کے قریب لگادی۔
    بس وقت پرنہیں آئی۔ بارونی کواس پرتعجب نہیں ہوا۔ ٹرافک چونٹی کی طرح رینگ رہا تھا۔ کیلیفورنیا کے ڈرائیور بارش میں گاڑی چلانے کے عادی نہیں ہیں۔ اسی طرح سڑکوں پر ظغیانی کے نالے بھی مسلسل بارش کے پانی کو تیزی سے بہا کرلے جانے کے قابل نہیں ہیں۔ اسلئے پانی گلیوں اور سڑکوں پر رواں تھا۔ ہاولی کی بس آدھا گھنٹےدیرسے پہنچی۔

    کار میں خشک اور آرام سے بیٹھے بارونی نےہالولی کو بس سے اتر کر بلڈنگ کے چھجّے کی طرف بارش سے بچنے کے لیے بھاگتے دیکھا۔ لیکن ہوا کی وجہ سے بارش سے بچنا ناممکن تھا۔ بارونی مسکرایا۔ دو منٹ میں ہی ہاولی پانی میں نہاگیا۔ بارونی نے اندازہ لگایا کے ہاولی کو گھرجانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

    ہاولی نے اپنے کوٹ کے کالر اوپر کیے اور گھر کا رخ کیا۔ بارونی نے اس آہستہ ٹرافک میں اپنی گاڑی اس کے پیچھےڈال دی۔
    ہاولی بارسٹو اسٹریٹ پرمڑا اور ایک چھوٹی سی قصائی کی دوکان میں داخل ہوا۔ بارونی کار میں بیٹھےششے کی کھڑکی سے ہاولی کو دیکھ سکتا تھا جودوکان کےاندر قطار میں کھڑا اپنی باری کا انتظار کررہا تھا۔ جب اس کی باری آئی تواس نے کاونٹر میں رکھےگوشت کی طرف اشارہ کیا اور کچھ ہی دیر میں وہ خریدے ہوئےگوشت کے پیسے چکا رہا تھا۔

    بارش کی تیزی میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ بارونی خوش تھا کے وہ خشک اور آرام سے ہے۔ اس نے پھرگاڑی ہاولی کے پیچھے لگادی اور ہالولی کو پانی کے جوہڑوں کو پھلانگتا دیکھتا چلا۔ ہالولی ابھی بھی گھر سے دور تھا۔

    اچانک بارولی نے بغیر سوچے گاڑی ہاولی سے ذرا آگے فٹ پاتھ سے لگادی۔ ہاولی نے بارونی کو دیکھا مگراس نے بارونی کی موجودگی پر حیرانی نہیں ظاہر کی۔

    بارونی نے کار کی کھڑکی نیچے کر کے کہا۔“ اندر آجاؤ ہم دونوں کی منزل ایک ہی ہے“۔



خطمرسلہ: اتوار جولائی 27, 2008 2:18 am
  رکن کی پروفائل دیکھئیے ذاتی پیغام بھیجئیے ای میل بھیجی جاتی ہے    واپس اوپر 
تفسیراحمد
منتظم اعلی

شمولیت: 24 فروری 2007
خطوط: 3859

    ہالولی لپک کر کار میں بیٹھ گیا۔ ہالولی نے رومال سے چہرے کو سکھاتے ہوئے کہا۔“ شکریہ“
    بارونی نے مسکرا کر کہا شکریہ کی ضرورت نہیں۔
    ٹرافیک کی وجہ سےگاڑی رینگ رہی تھی۔
    “ کیا قیامت ہے!“ ہاولی نے کہا۔
    “ ہاں“ ۔ بارونی نے جواب دیا۔
    “ تم کو خوش ہونا چاہیے کے تم موٹرسائیکل والی پولس میں نہیں ہو“۔
    وہ کچھ دیرخاموش رہے۔ پھر ہاولی نے پوچھا۔“ میں کل رات ٹہلنے نکلا تھا۔ تم نظرنہیں آئے“۔
    بارونی غرایا۔“ میری رات کی ڈیوٹی تھی“۔
    “ میرا بھی یہی خیال تھا“۔
    وہ ہالولی کی اپارٹمنٹ بلڈنگ تک پہونچ چکے تھے۔
    “ یہ رہا تمہارا گھر“۔
    “ ایک دفعہ پھرشکریہ“۔
    ہالولی نے کار کا دروازہ کھولا اور اس نے بارونی کی طرف دیکھا جیس وہ کچھ کہنا چاہ رہا ہو۔ اور پھر وہ بلڈنگ کے دروازے کی طرف لپکا۔
    بارونی نے نگاہیں عقابی شیشہ پر لگادیں اور ٹرافیک میں کمی ہونے کا انتظار کرنے لگا تاکہ وہ گاڑی ٹرافیک میں داخل سکے۔ اس نے بلڈنگ کی طرف دیکھا۔ ہاولی بلڈنگ میں داخل ہونے کے بجائے دروازے پر کھڑا تھا۔
    اچانک وہ لوٹا اور بارونی سے کہا۔ “ تم یہاں رات بھرمیری کھڑکی پر نگاہ رکھوگے۔ کیوں نا میرے ساتھ اوپر چلو۔ میں نے کچھ بیف اسٹک خریدے ہیں “۔
    بارونی نے کندھے اچکائے ۔ بارونی کو یہ دعوت مخلصانہ لگی۔ اس نے گاڑی کا انجن بند کردیا۔


خطمرسلہ: اتوار جولائی 27, 2008 2:21 am
  رکن کی پروفائل دیکھئیے ذاتی پیغام بھیجئیے ای میل بھیجی جاتی ہے    واپس اوپر 
تفسیراحمد
منتظم اعلی

شمولیت: 24 فروری 2007
خطوط: 3859

    ہاولی نے بیوی کی وفات کے بعد فلیٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی۔ ہرچیز وہیں تھی جیسی اس نےمسز ہاولی کےمرنے والے دن دیکھی تھی۔ سوائے ویکیوم کلینر کےجو وہاں موجود نہیں تھا۔ ہاولی نےاپنا کوٹ باتھ روم میں ایک ہینگر پرلٹکایا اور بارونی کا کوٹ لے کر کپڑوں کی کلوزٹ میں ٹانگ دیا۔ اس کے بعد وہ کچن میں گیا جہاں اس نے بیف اسٹیک اسٹو کے بوائلر پر پکنے کے لیے رکھ دیے۔
    “ تمہیں اسٹیک کیسے پکے پسند ہیں؟“
    “ اوسط ۔ ذیادہ بھونےنہیں“۔
    وہ کمرے میں واپس آئے۔
    “ میں کچھ مدد کروں“۔ بارونی نے پوچھا۔
    “تم میزلگاو۔ میں ان گیلے کپڑوں کو تبدیل کرتا ہوں“۔
    “ پلیٹ کہاں ہیں؟“
    “ سنک کےاوپر والی کپ بورڈ میں “۔
    بارونی نے میز پر دو پلیٹیں رکھیں اور میز کے درمیان میں کچھ چھری اور کانٹے دال دیئے اس کے بعد ریفرجریٹر سے دو بیر کی بوتلیں نکال کر پیلٹوں کے نزدیک رکھ دیں۔ میز لگ چکی تھی۔
    وہ واپس کچن سے کمرے میں جانے ہی والا تھا کہ اسے کچھ خیال آیا۔ وہ ریفرجریٹر پر واپس لوٹا۔ اور فریزر کا دروازہ کھولا۔ اس کی سوچ صحیح تھی۔ فریزر خالی تھا۔ اس میں کوئی بازاری تیار شدہ کھانا موجود نہیں تھا۔
    سونے کے کمرے سے ہالولی کے چھینکنے اور کھانسنے کی آوازیں آرہی تھیں۔
    ہاولی نے دروازہ کھول کر کہا۔ “ کچن میں بربن بھی ہے“۔
    “ ہاں۔ تم کو اس کی ضرورت ہے“۔ بارونی مسکرا کر کہا۔
    “ ہاں۔ میرے لیے دو انگلی کے برابرگلاس میں“۔
    بوتل کے نزدیک گلاس موجود تھے۔ بارونی نے دوگلاسوں میں تین تین انگلیوں کے برابر بربن ڈالی۔
    وہ اپنا گلاس منہ کو لگانے کی والا تھا کےاس کی نظر ایک نوٹ بک پر پڑھی جس پر لکھا تھا ۔۔۔ تلوا ۔۔۔ “۔



خطمرسلہ: اتوار جولائی 27, 2008 2:26 am
  رکن کی پروفائل دیکھئیے ذاتی پیغام بھیجئیے ای میل بھیجی جاتی ہے    واپس اوپر 
تفسیراحمد
منتظم اعلی

شمولیت: 24 فروری 2007
خطوط: 3859

    “ تلوا ۔ ۔ ۔ کیا ہے؟“ اس نے بلند آواز میں کہا۔
    ہاولی نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر کھانسی نے اسے زیر کرلیا۔ جب وہ بات کرسکا اس نےجواب دیا۔“ یہ ساوتھ پیسفیک کا ایک جزیرہ ہے“۔
    بارونی نے کتاب کھولی۔ اندرجزیرے سےمتعلق اخبارات کے تراشےتھے۔ کتاب جزیرے کی تصویروں سے بھری تھی۔ ایک حصے میں انسائکلوپیڈا سے کاپی بنائی ہوئی معلومات تھیں۔ اس نےاس کتاب کو ساتھ لیا اور کمرے میں واپس آکر صوفے پر بیٹھ کر اس کا مطالحہ کرنے والا ہی تھا کے اس کی نظرمیز پر رکھے ہوئےسیر و سیاحت کے فولڈرز پر پڑی۔ ان کا ٹائٹل “ ساوتھ پیسفیک ۔ زمین پر جنت“ تھا۔ ان کے ساتھ جہازوں کے اوقات کے ٹائم ٹیبل بھی تھے۔

    ہاولی بھیگے کپڑے اتار چکا تھا اور وہ اب قمیض اور نیکر میں تھا۔ وہ اپنی ڈرِنک کی طرف بڑھا۔ لیکن اس دوران اس کودو دفعہ چھینک اور کھانسی سےمقابلہ کرنا پڑا۔
    “ میرا خیال ہے کی مجھے زکام ہوگیا ہے“۔
    بارونی نےسیر و سیاحت کے فولڈرز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔“ سفر کا ارادہ ہے کیا؟“
    “ سال ہا سال سے پلان بنا رکھا ہے“۔ ہاولی نے جواب دیا۔
    “ توجنت جانے کا پروگرام پکا ہے“۔
    “ ہاں خیال تو یہ ہی ہے“۔
    “ تم سنجیدہ ہو!“ بارونی سوال کیا۔
    ہاولی نے ایک گھونٹ میں گلاس خالی کردیا۔ اور اس میں پھر تین انگلیوں کے برابر بربن انڈیلی۔ وہ ابھی بھی سردی سے تھرتھرارہا تھا۔
    “ یہ مشکل لگتا ہے لیکن ممکن ہے۔ میں سب جانچ پڑتال کرچکا ہوں“۔

    بارونی نےاس ایولین ہاولی کے ساتھ اس کے بنک اکاونٹ کے متعلق سوچا۔ جب تک کے اور کوئی وجہ سامنے نہ آئے قتل کی یہی ایک وجہ ہوسکتی تھی۔
    “ اس قسم کےسفر کے لئے تو کافی پیسے کی ضرورت ہوگی!“۔
    “ ہاں۔ بہت ذیادہ “ ۔ ہاولی نے اپنےگلاس میں بربن کو ہلاتے ہوئے کہا۔ “ جب سے ایولین کی وفات ہوئی ہے میں پیسے بچانے کے متعلق سوچ رہا ہوں“۔
    اس نے ایک گھونٹ لے کر کہا “ اگر میں اس فلیٹ کو چھوڑ کر کہیں ایک سستی جگہ لے لوں ۔ ۔ ۔“
    بارونی نے اضطراری طور پر کہا۔“ مگر آدمی کی ضروریات ایک پلنگ اور الماری سےذیادہ ہیں۔ تم ایسے کیسے رہ سکو گے!“
    اس بات کے بارے میں بارونی نے کافی سوچا تھا۔
    تمہارا خیال صحیح ہے۔ حقیقت میں ہماری عمر کے لوگوں کو اس سے ذیادہ کی ضرورت ہے“۔ ہالولی بولا۔



خطمرسلہ: اتوار جولائی 27, 2008 2:30 am
  رکن کی پروفائل دیکھئیے ذاتی پیغام بھیجئیے ای میل بھیجی جاتی ہے    واپس اوپر 
تفسیراحمد
منتظم اعلی

شمولیت: 24 فروری 2007
خطوط: 3859

152


    اس کے بعد وہ دوبارہ کھانسا۔“ آج کل فلو چل رہا ہے ۔ شاید تمہیں گیا ہو “۔
    وہ کچھ دیرخاموش رہے۔
    بارونی نےاردگرد نگاہ ڈالی۔ کچھ چیزیں جاچکی تھیں۔ ایسا لگتا تھا کہ اب یہاں کوئی غیرشادی شدہ رہتا ہو۔
    ہاولی نے بارونی کی طرف دیکھ کر پوچھا “ تم کیوں سمجھتے ہو کہ میں نے ایولین کا قتل کیا ہے“۔
    بارونی کندھےاچکا کر کہا۔“ میری چھٹی حس“۔
    ہاولی نےایسےسر ہلایا جیسےاس کو یہ پتہ تھا۔
    “ تمہارے سارجنٹ پیری کے کہنے کےمطابق چھٹی حس پروف نہیں“۔
    بارونی نےجواب دیا۔“ ہاں وہ صحیح ہے مگر دوسروں کے لئے۔ میرے لیے ہے“۔
    “ میں تم تمہاری شکایت کرسکتا ہوں“۔ہالولی بولا۔
    “ تو اب تک کیوں نہیں کی“۔
    اس دفعہ ہاولی نے کندھے اچکائے۔“ میں دوسروں کو مصیبت میں ڈالنا اچھا نہیں سمجھتا“۔
    اس کے اس نے اپنی ڈرنک ختم کی اور کہا۔ “ میں اسٹیک بناتا ہوں“۔ اور باروچی خانے کی طرف چلا۔
    بارونی اس کے پیچھے باروچی خانے کی طرف چلا اور باروچی خانے کے دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔
    “ایوالین اسٹیک کو نہیں سینکتی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے اپارٹمنٹ میں دھواں بھر جاتا ہے“۔



خطمرسلہ: جمعہ اکتوبر 10, 2008 9:32 pm
  رکن کی پروفائل دیکھئیے ذاتی پیغام بھیجئیے ای میل بھیجی جاتی ہے    واپس اوپر 
تفسیراحمد
منتظم اعلی

شمولیت: 24 فروری 2007
خطوط: 3859

153



    “ اور اس کو شاید ساوتھ پیسیفیک کے جزیروں سے بھی دلچسپی نہیں تھی“۔
    جواب دینے سے پہلےہاولی نے بارونی کومڑ کر دیکھا۔“ اس ہی نے “ تولا جزیرہ“ کوڈھونڈا تھا۔ لیکن یہ 25 سال پہلے کی بات ہے۔ اس وقت یہ جزیرہ نقشہ پر بھی نہیں تھا۔اور اب بھی یہ تمام نقشوں پر موجود نہیں۔ اس نے اس کے متعلق کسی ریفرینس بک میں پڑھا تھا اور اس کو ڈھونڈ لیا“۔ ہاولی نے اسٹیک کو سینکنے کے لیے بھوننے کے لیے اون میں رکھ دیا۔
    “ یہ اس کا ہی جواب تھا۔ مگر آخیر میں خواب مرگیا اور اس کو اس جزیرے سے نفرت ہوگی“۔
    ہالولی نے ایک اور بیئر کھولی۔“ اس نے اور کئی چیزیں چھوڑ دیں جو مجھے اس میں پسند تھیں“۔
    جس طرح ہالولی نے اپنی بیوی کا ذکر کیا اس نے بارونی کو یہ سوال کرنے پر اکسایا۔ “ تو تم اس کو یاد کرتے ہو“۔
    ہاولی نے بارونی کی طرف بغیر دیکھے کہا ۔“ ہاں میں اس کو بہت مِس کرتا ہوں۔میں اس کو پندرہ سال سے مِس کررہا ہوں“۔



خطمرسلہ: جمعہ اکتوبر 10, 2008 9:52 pm
  رکن کی پروفائل دیکھئیے ذاتی پیغام بھیجئیے ای میل بھیجی جاتی ہے    واپس اوپر 
تفسیراحمد
منتظم اعلی

شمولیت: 24 فروری 2007
خطوط: 3859

    جیسا کہ پاپا نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ زاکوس کا قتل کے تفتیش میں کمی نہیں ہوئی ہے۔ وہ درست تھا۔ ایک مالدار تیل کہ تجارت کرنے والے کے بیٹے کی موت نے ہزاوں کو متحر کردیا تھا۔اس کی زندگی اس homosexuality اس کہانی کو اور بھی مزے دار بنا رہی تھی۔ ہر روز اخباروں میں اس سے متعلق خبر چھپ رہی تھی۔ اور پولیس پر قاتل کو پکڑنے کا شدید دباؤ تھا۔

    اور یہ دباؤ اب لفٹینیٹ ٹیٹ پر پہونچ چکا تھا۔ فطرتی اس نے یہ دباؤ اپنے اسٹاف پر منتقل کردیا۔ دوسرے دن جب بارونی آفس پہونچا۔ اس نے آفس میں کھلبلی مچی دیکھی۔ لفٹینیٹ ٹی کا حکم تھا کہ ہر کال کو فالواپ کیا جائے چاہے وہ کتنی ہی نا معقول کیوں نا ہو۔ سیگل درواے کے قریب فائلوں کا جائزہ لے رہا تھا رہا تھا۔
    “بارونی ، تم یقین نہیں کرو گے کہ میں یہ تیسری دفعہ ان تمام لوگوں کا انٹرویو لے رہا ہوں جو زاکوس کے چار بلاک کے دائرے میں رہتے ہیں“۔ سیگل نے کہا۔
    “ ٹیٹ کا آئیڈیا“۔
    “تم سمجھ گئے“۔
    بارونی نےسرجھٹکا۔ ٹیٹ کے پاس کوئی سراغ نہیں تھا اور وہ بے بس ہو کر رہ گیا تھا۔
    بارونیکی ڈیسک پر ایک نوٹ تھا۔ “ فوراً لفٹیننٹ ٹیٹ کے آفس میں پہونچو“۔
    بارونی نے یہ سوچتے ہوے کے ٹیٹ اس کو کیا کرنے کے لیے کہے گا اس پرچہ کی گیند بنا کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔
    سیگل نے بارونی سے پوچھا۔ “ کیا تم نےاس کا نوٹ پڑھا؟“
    بارونی نےسر ہلایا۔
    “ میں ایک کے پانچ دوں گا اگر وہ تم سے ان تمام لوگوں کا انٹرویو لینے کو نہ کہے جن کا میں نےدوبارہ لیا ہے“۔سیگل نے کہا۔
    “ کوئی شرط نہیں“۔ بارونی بولا۔“ شاید میں ہار جاؤں“۔
    پھر وہ ٹیٹ کے آفس کی طرف جانے کے لیے راہداری میں نکلا۔
    اس نے میلر اور والی کو راہداری میں دیکھا۔
    “ وہ تمہارا کیسا خیال رکھ رہے ہیں؟“۔اس نے والی گرین سے پوچھا۔
    والی مسکرایا۔ “ جیل کا کمرہ یہاں سنٹرل جیل سے بڑا ہے۔اور کھانا بھی اچھا۔ ہروقت کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے“۔
    پھر وہ سنجیدہ ہوگیا۔“ مگرمیری حالت خراب ہے۔ مجھےنشہ آور اشیاء کی ضرورت ہے“۔
    “ تم کو اب تک تو اسے کے دم سے باہرہوجاناچاہیے تھا۔“
    “ ہاں میں اب کپکپاتا نہیں ہوں۔ مگرشدید ضرورت ہے“۔
    بارونی نےدوسروں سےچھپا کر اپنا سگریٹ کا پیکٹ والی گرین کی جیب میں گھسیڑ دیا۔ “اس سےذیادہ میں کچھ نہیں کرسکتا“۔
    والی نےسر ہلایا۔ “ شکریہ ، مجھے پتہ ہے“۔
    وہ ٹیٹ کے آفس تک پہونچ چکے تھے۔
    “ کیا ٹیٹ نے تم کو بھی بلایا ہے“۔ میلر نے سوال کیا۔
    “ نوٹ میں لکھا تھا ۔ فوراً بشتر“ بارونی مسکرایا۔


خطمرسلہ: جمعہ اکتوبر 10, 2008 10:14 pm
  رکن کی پروفائل دیکھئیے ذاتی پیغام بھیجئیے ای میل بھیجی جاتی ہے    واپس اوپر 
گزشتہ پیغامات دیکھئیے:   ترتیب:   
صفحہ 2 مِن 2 [28 پیغامات]   صحفے پر جائيں: پيچھے 1, 2
نیا موضوع بھیجئیے   موضوع کا جواب دیجئیے گزشتہ موضوع دیکھئیےاگلا موضوع دیکھئیے
 پورٹل » فورم کا صفحہِ اول » دانشکدہِ تفسیر » اردو نثر » ناول
روانگی بر:  

آپ اس فورم میں نئے مضامین نہیں بھیج سکتے
آپ اس فورم میں موضوعات کے جواب نہیں دے سکتے
آپ اس فورم میں اپنے خطوط کو مدون نہیں کر سکتے
آپ اس فورم میں اپنے خطوط کو ختم نہیں کر سکتے
آپ اس فورم میں رائے شماری میں ووٹ نہیں ڈال سکتے
آپ اس فورم میں اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں۔
آپ اس فورم میں فائلیں ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔


Powered by phpBB © 2001, 2005 phpBB Group
[ Time: 1.1769s ][ Queries: 12 (0.8203s) ][ Debug on ]