دانش کدہ صفحہ اول دانش کدہ
 یہ دانش کدہ ہے اور دنیا کے تمام مسائل کا حل تعلیم ہے۔ 
 آپ کے سوالاتآپ کے سوالات   تلاشتلاش   فہرستِ ارکانفہرستِ ارکان   ارکان کے گروپارکان کے گروپ 
 پرائیوٹ فورمپرائیوٹ فورم   لاگ اِنلاگ اِن 
موجودہ وقت بدھ ستمبر 08, 2010 11:21 pm ہے
تمام اوقات UTC + 1 (DST in action)
ان پڑھے پیغامات
جن خطوط کے جوابات نہیں دئیے گئے
دانشکدہ ماہانہ
فلسفہ
تاریغ
ادب
سائینس
ٹیکنالوجی
سیاست
انجمنِ شعروسخن
لسانیات
بزم اطفال
مفت کی برقی کتابیں
ڈیجیٹل اردو لائبریری
گفتگو کا فورم
ویبسٹرُ اللغات اُردو

 پورٹل » فورم کا صفحہِ اول » دانشکدہِ تفسیر » اردو نثر » ترجمے
القانون
ناظمین: تفسیراحمد
نیا موضوع بھیجئیے   موضوع کا جواب دیجئیے گزشتہ موضوع دیکھئیےاگلا موضوع دیکھئیے
صفحہ 1 مِن 1 [3 پیغامات]  
مصنف پیغام
تفسیراحمد
منتظم اعلی

شمولیت: 24 فروری 2007
خطوط: 3859
 القانون

القانوں

طب اسلامی کا انسائیکو پیڈیا

جلد اول


خطمرسلہ: ہفتہ اکتوبر 25, 2008 3:56 am
آخری بار تفسیراحمد نے ہفتہ اکتوبر 25, 2008 4:02 am کو; 2 بار مدون کیا
  رکن کی پروفائل دیکھئیے ذاتی پیغام بھیجئیے ای میل بھیجی جاتی ہے    واپس اوپر 
تفسیراحمد
منتظم اعلی

شمولیت: 24 فروری 2007
خطوط: 3859

    شیخ الرئیس ابن سینا

    ابو علی حسین بن عبداللہ بن حسن بن علی بن سینا۔ ایک معروف و مشہور شخصیت ہیں، ان کے حالات زندگی اور سیرت و سوانح پر اس قدر لکھا جا چکا ہے کہ مزید بیان کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ اپنی زندگی کے حالات کے بارے میں خود انہوں نے اور ان کے شاگردابوعبید جوزجانی نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے اسے پیش کردینے پر اکتفا کریں گے۔

    شیخ الرئیش نے اپنے جو حالات زندگی بیان فرمائے ہیں اور ان کی رویت ابوعبیدہ جوزجانی نے کی ہے وہ حسب ذیل ہیں شیخ فرماتے ہیں

    ٕمیرے والد بلخ کے رہنے والے تھے ۔ نوح بن منصور کے عہد حکومت میں وہ بخارامنتقل ہوگئے جہاں وہ ملکی امور کی انجام دہی پر ماور ہوئے۔ بخارا کی جائیداد میں ایک علاقہ خرمیشن نامی ہے، یہ مرکزی بستیوں میں شمار ہوتا ہے، جس کے قریب میں افتنہ نامی بستی واقع ہے ، والد صاحب کو نوح کے زمانہ حکومت میں اسی بستی پر مامور کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے میری والدہ سے شادی کی یہیں میری ولادت ہوئی میرے بعد میرے بھائی کی ولادت ہوئی۔ اس کے بعد ہم بخارا آگئے یہاں مجھے قرآن و ادب کے اساتذہ کی خدمت میں پیش کیا گیا، چنانچہ دس سال کی عمر میں نےحیرت انگیز طور پر قرآن اور زبان و ادب کا بیشتر علم حاصل کر لیا والد نے مصری داعیوں کی تحریک پر لبیک کہا اور ان کا شمار اسماعیلیوں میں ہونے لگا ان سے انہوں نے نفس اور عقل پر وہ باتیں سنیں جن پر ان کا عقیدہ تھا۔ بھائی بھی والد کے نقش قدم پر تھا یہ لوگ باہم مذاکرہ کرتے تھے میں سنا کرتا تھا ان کی گفتگو سمجھتا تو تھا مگر دل قبول نہ کرتا تھا۔ انہوں نے مجھے بھی دعوت دینی شروع کی ، ان کی زبانوں پر فلسفہ، ہند سہ اور ہندوستانی حساب کا تزکرہ بار بار آتا تھا والد نے مجھے ایک ایسے شخص کی جانب متوجہ کیا جو سبزیاں بیچتا تھا۔



خطمرسلہ: ہفتہ اکتوبر 25, 2008 3:56 am
آخری بار تفسیراحمد نے ہفتہ اکتوبر 25, 2008 4:01 am کو; 2 بار مدون کیا
  رکن کی پروفائل دیکھئیے ذاتی پیغام بھیجئیے ای میل بھیجی جاتی ہے    واپس اوپر 
تفسیراحمد
منتظم اعلی

شمولیت: 24 فروری 2007
خطوط: 3859


    اور ہندوستانی حساب کا ماہر تھا مقصد یہ تھا کہ اس سے میں کچھ سیکھ لوں اس کے بعد بخارا میں ابو عبداللہ نا تلی تشریف لائے جنہیں متفلف کہا جاتا تھا والد نے انہیں اپنے یہاں جگہ دی تاکہ ان سے تعلیم حاصل کر سکوں ان کی آمد سے پیشتر میں فلسفہ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا، چنانچہ اس کے لئے اسماعیل زاہد کے یہاں آمدو رفت رہتی تھی میں سب سے عمدہ سالک تھا مطالبہ اور جواب دینے والے پر اعتراضات وارد کرنا جو ان حضرات کا دستور تھا اس سے مانوس ہو چکا تھا نائلی سے میں نے کتاب ایسا غوجی پڑھنی شروع کی انہوں نے جنس کی تعریف جب اس طرح بیان فرمائی کہ ماہو کے جواب میں یہ وہ مقولہ ہے جو نوعی اعتبار سے مختلف بہت سارے افراد پر صادوق آتا ہے تو میں نے اس تعریف کی ایسی تحقیق پیش کی جو پیشتر کبھی سنی نہ گئی تھی۔ اس پر نائلی کو نے حد تعجب ہوا انہوں نے والد کو خبردار کیا کہ اس لڑکے کو علم کے علاوہ اور کسی کام میں مصروف نہ رکھیں ۔ وہ جو مسئلہ بیان کرتے تھے میں ان سے بہتر اس کی تصویر پیش کرتا تھا منطق کے ظاہری علوم تو میں نے ان سے حاصل کرلیے تھے مگر جہاب تک منطق کے دقیق نکتوں کا تعلق تھانائلی ان سے واقف نہ تھے بعد ازاں میں نے کتابوں کاا مطالحہ خود شروع کردیا شرحوں کی مدد سے منطق میں کمال پیدا کرلیا، اسی طرح اقلیدس کی کتاب کی پانچ یا چھ شکلیں استاد موصوف سے پڑھنے کے بعد بقیہ تمام کتابوں کو خود حل کیا۔ اس کے بعد مخطبی پڑھنی شروع کی،مقمات سے فارغ ہوکر ہندسی اشکال تک پہنچا تو نائلی نے مجھ سےکہا “ اب خود اس کا مظالحہ کعو اور حل کرکے میرے سامنے پیش کرو، تو جہاں اصلاح کی ضرورت ہوگی وہاں کروں گا“۔ مگر استذ اس کتاب کے متحمل نہ تھے مین نے اس کتاب کو حل کرنا شروع کیا کتنی شکلیں میں نے ان کت روبرہ رکھیں مگر وہ سمجھ نہ سکے، میں نے خود اسر سمجھ کیا۔اس کے بعدنائلی کرکانج



خطمرسلہ: ہفتہ اکتوبر 25, 2008 3:57 am
  رکن کی پروفائل دیکھئیے ذاتی پیغام بھیجئیے ای میل بھیجی جاتی ہے    واپس اوپر 
گزشتہ پیغامات دیکھئیے:   ترتیب:   
صفحہ 1 مِن 1 [3 پیغامات]  
نیا موضوع بھیجئیے   موضوع کا جواب دیجئیے گزشتہ موضوع دیکھئیےاگلا موضوع دیکھئیے
 پورٹل » فورم کا صفحہِ اول » دانشکدہِ تفسیر » اردو نثر » ترجمے
روانگی بر:  

آپ اس فورم میں نئے مضامین نہیں بھیج سکتے
آپ اس فورم میں موضوعات کے جواب نہیں دے سکتے
آپ اس فورم میں اپنے خطوط کو مدون نہیں کر سکتے
آپ اس فورم میں اپنے خطوط کو ختم نہیں کر سکتے
آپ اس فورم میں رائے شماری میں ووٹ نہیں ڈال سکتے
آپ اس فورم میں اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں۔
آپ اس فورم میں فائلیں ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔


Powered by phpBB © 2001, 2005 phpBB Group
[ Time: 0.2669s ][ Queries: 12 (0.0414s) ][ Debug on ]